مہمند، صافی قبائل کا جرگہ، 800برطرف خاصہ داروں کی بحالی کا مطالبہ

      مہمند، صافی قبائل کا جرگہ، 800برطرف خاصہ داروں کی بحالی کا مطالبہ

  



مہمند (نمائندہ پاکستان) قبائلی ضلع مہمند لکڑو بازار کے قریب صافی قبائل کا جرگہ۔ بر طرف شدہ 800 خاصہ داروں کی بحالی، صوبائی اسمبلی کے منرل ایکٹ کے خلاف، نادرا دفتر کی قیام، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کی نا گفتہ بہہ حالت کو فوری درست کیا جائے۔ انضمام کے نام پر مزید ذلیل نہ کی جائے۔ مخصوص لوگ معدنیات پر قبضہ جمانا چاہتے ہیں ہم بھر پور مخالفت کرینگے، ان خیالا ت کا اظہار ملک ظاہر شاہ، ملک فردوس صافی، سابقہ صوبائی اسمبلی اُمیدوار ڈاکٹر حیات محمد، ربنواز خان، نور اسلام صافی، پی پی پی جنگر سیکرٹری قبائلی اضلاع جنگریز خان، ملک گل شاہ، میاں لعل بادشاہ اور ڈیڈک چیئر پرسن مہمند کے بھائی وپی ٹی آئی رہنماء نوید احمد و دیگر نے کہا کہ ہم نے ہرگز اس طرح انضمام کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ جس میں ایف سی آر سے بد تر قانونیت آجائے۔ بے گناہ قیدیوں کو عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ جبکہ صوبائی حکومت مخصوص ٹولے کیلئے قبائلی اضلاع کی معدنیات پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کی جنگ میں بر طرف شدہ 800 خاصہ داروں کو تاحال بحال نہ کرنا نا انصافی ہے۔ چیک پوسٹوں پر نرمی لایا جائے۔ آئی ڈی پیز کو اجازت دی جائے۔ مقامی لوگوں کیلئے منظور شدہ نادرا آفس بحال کیا جائے۔ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ تعلیمی و صحت کے اداروں کی ناگفتہ بہہ حالت بہتر بنایا جائے۔ زمین بوس سکولوں کو تعمیر کیا جائے۔ پشاور ٹو باجوڑ شاہراہ پر جو کہ تیز رفتاری کے باعث آئے روز حادثات پیش آ رہے ہیں اُن پر سپیڈ بریکر لگائے جائے۔ ان مطالبات پر فوری عمل کیا جائے بصورت دیگر ہم کسی قسم کے احتجاج سے گریز نہیں کرینگے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری ڈی پی او مہمند اور ڈی سی پر عائد ہوگی۔ جرگے کے آخر میں پی ٹی آئی مہمند کے رہنماء و ڈیڈک چیئر پرسن مہمند کے بھائی نوید احمد نے کہا کہ ہم بر طرف خاصہ داروں کی بحالی کیلئے اُن کے خاندانوں کے ساتھ ہر قسم تعاؤن کیلئے تیار ہیں۔ اور ان کے مسائل سے حکومتی عہدیداروں کو آگاہ کرینگے۔ کیونکہ طر طرف خاصہ داروں کا مسئلہ 8 سو خاندانوں کا مسئلہ ہے۔ حکومت اس طرح انہیں بے روزگار نہیں کرینگے۔ انہوں نے صوبائی حکومت کی طرف سے سکولوں کی بلڈنگ کی مد میں 40 کروڑ 31 لاکھ روپے کے اعلان کا بھی خیر مقدم کیا اور کہا کہ تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...