تخت بھائی، آل ہوٹل ایسوسی ایشن بلا جواز جرمانوں کیخلاف سراپا احتجاج

تخت بھائی، آل ہوٹل ایسوسی ایشن بلا جواز جرمانوں کیخلاف سراپا احتجاج

  



تخت بھائی (نما ئندہ پاکستان) آل ہوٹلز ایسوسی ایشن تحصیل تخت بھائی نے مختلف سرکاری محکموں اوراسسٹنٹ کمشنر تخت بھائی کی طرف سے آئے روزچھا پوں اور نا جائز جرمانوں اور نا رواں رویوں کے خلاف علم بغا وت بلند کرکے اعلیٰ عدا لتوں سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔انتظامیہ ہم سے آئے روز بے جا بھار ی جرمانے وصول کرکے ہم سے روز گار چھیننے کی کوشش کررہی ہے۔ہمارے خلاف بے جا جرمانے بند نہ کیئے گئے توتاجر برادری راست اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جائیگی۔ ان خیا لات کا اظہار آل ہوٹلز ایسوسی ایشن تحصیل تخت بھائی کے صدر حاجی لیاقت علی نے میڈیا کلب تخت بھائی میں پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر ہوٹلز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری حاجی اسلام الدین، سینئر نائب صدر داؤد جان، نائب صدر اول لیاقت علی، نائب صدر دوم محمد ابراہیم، فنانس سیکرٹری قاری جاوید، انفارمیشن سیکرٹری محمد اسحق کے علا وہ تنظیم تاجران تخت بھائی سٹی کے صدر حاجی طارق خان، جنرل سیکرٹری وہاب یوسفی اور دیگر عہدیداران بھی مو جود تھے۔ انہوں نے مبینہ طور پر الزام لگا یا کہ تاجر طبقہ اور خاص کر ہوٹلزماکان سے آئے رو ز سٹیزن پورٹل کمپلینٹ سیل کے بہانے پر محکمہ خوراک کے ساتھ ساتھ اسسٹنٹ کمشنر تخت بھائی کے چھا پوں سے تنگ آکرکارو بار چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں اور کہا کہ ہزاروں جرمانوں کے ساتھ کئی ہوٹلز ما لکان کوبلا جواز جیل میں ڈالے جارہے ہیں گزشتہ روز انہوں نے چار ہوٹلز کے منیجروں کو بھاری جرمانوں کے ساتھ ساتھ 25دن کے لئے ڈسٹرکٹ جیل مردا ن بھی بھیج دیئے تھے۔ اس حکمنامے کو ہم نے عدا لت میں چیلنج کیا تھا عدا لت نے ان کے حکمنامے کو معطل کرکے ہوٹلز کے منیجروں کو رہا کرنے کے احکا مات جاری کیئے۔ انہو ں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر تخت بھائی ثوبیہ ضیاء اپنے افسران با لا کو پراگرس بنانے کے چکر میں ہم سے بھاری جرمانے وصول کرکے ہمیں باعزت روزگار چھوڑنے پر مجبور کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر تخت بھائی عورت ہونے کے ناطے بھر پور تعاون نہیں کرسکتی۔ لہذا اسے جلد از جلد تخت بھائی سے تبدیل کرکے کسی مرد اسسٹنٹ کمشنر کو یہاں تعینات کیا جائے۔انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ انتظامیہ کی طرف سے ہوٹلز مالکان پر بے جا جرمانوں اور انہیں جیل بھیجنے کے خلاف اعلیٰ عدا لتوں سے رجوع کرینگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...