دس سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی بارش نے خوشیاں ملیا میٹ کردیں

دس سال بعد ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی بارش نے خوشیاں ملیا میٹ کردیں

  



بارش نے دس سال بعد پاکستان میں کھیلے جانے والے ٹیسٹ میچ کا مزا کرکرا کرکے رکھ دیا طویل انتظار کے بعد بھی شائقین کی خوشیاں ابھی بحال نہیں ہوسکیں۔اور تاریخی لمحات پر پانی پھر گیا، پہلا ٹیسٹ راولپنڈی میں کرانے پر کرکٹ بورڈ کو تنقید کا سامناجبکہ10 برس ٹیسٹ کرکٹ کیلئے ترسے ہوئے شائقین کو گلہ ہے کہ کرکٹ حکام نے اتنے اہم اور تاریخی میچ کیلئے موسم کو مدنظر کیوں نہیں رکھا۔ گرین کیپس طویل عرصے بعد ہوم گراؤنڈ پر کھیل رہے ہیں، ہوم گراؤنڈ اور کراؤڈ کا ایڈوانٹیج لے کر وہ عالمی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں پوائنٹس ٹیبل پر کھاتہ کھول سکتے تھے۔ آسٹریلیا کے ہاتھوں حالیہ وائٹ واش اور مجموعی طور پر گذشتہ چھ ٹیسٹ میچز میں شکست کے بعد یہ سری لنکا کیخلاف عمدہ کارکردگی دکھاکر نوجوان پاکستانی کرکٹرز کے لئے اعتماد بحال کرنے کا سنہری موقع تھا۔ پی سی بی کو پہلے ٹیسٹ کیلئے بہتر پلاننگ کرتے ہوئے زیادہ موزوں شہر کا میزبانی کیلئے انتخاب کرنا چاہیے تھا۔ بڑھتی ہوئی تنقید پرپی سی بی نے کہا ہے کہ تمام سیریز فیوچر ٹور پروگرام کا حصہ ہوتی ہیں، اس اعتبار سے سری لنکا کو ستمبر اکتوبر میں ٹیسٹ میچز کے لئے پاکستان آنا تھا جبکہ دسمبر میں محدود اوورز کی سیریز کھیلی جاتی لیکن سکیورٹی وجوہ کی بنیاد پر فارمیٹ آگے پیچھے کئے گئے، اب دسمبر میں ملک میں دستیاب اسٹیڈیمز میں سیدو نیشنل اسٹیڈیم کراچی اور پنڈی اسٹیڈیم راولپنڈی تھے، لاہور دھند کی وجہ سے اور ملتان و پشاور اپ گریڈیشن مرحلے میں ہونے کے باعث دستیاب نہ تھے۔ اب موسم کے اعتبار سے کراچی بہتر ہے لیکن پے درپے 2 ٹیسٹ عالمی سطح پر ایک ہی مقام پر مناسب پیغام نہ ہوتے اور دوسرا پاکستان یہ پیغام بھی نہیں دینا چاہتا تھا کہ ہم ایک ہی مقام پر 2ٹیسٹ کھیل رہے ہیں اس لئے ایک میچ پنڈی اسٹیڈیم میں رکھا گیا اور یہ مقام کوئی معمولی نہیں اہم بات ہے کہ پی ایس ایل 2020کے 34میں سے کئی میچز کی میزبانی کرے گا۔جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی خوشخبری سنائی ہے کہ اب جلد ہی دنیائے کرکٹ کی بڑی ٹیمیں بھی پاکستان کا دورہ کریں گی جن میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیم بھی شامل ہیں امید ہے کہ سری لنکا کے دورہ سے اب پوری دنیا میں ایک مثبت تاثر جائے گا اور پاکستان کھیلوں کے لئے پرامن ملک ہے اور یہاں پر کھیلوں کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔جبکہ پی سی بی کی کوششیں رنگ لے آئیں،بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان پر رضامند ہوگئی ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم اگلے سال پاکستان کا دورہ کرے گی۔ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کا یہ دورہ اگلے سال جنوری فروری میں ہوگا۔سیریز میں تین ٹی ٹونٹی انٹر نیشنل جبکہ دو ٹیسٹ میچز کھیلے جائیں گے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ دورہ پاکستان پر رضامند ہوگیا ہے۔ذرائع کے مطابق پی سی بی کی کوششیں بالآخر کام آگئی ہیں اور اب بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم دورہ پاکستان پر رضامند ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے پی سی بی کوششیں کر رہا تھا کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم پاکستان کا دورہ کرے، جس کیلئے ایم ڈی پی سی بی وسیم خان اور چیئرمین پی سی بی احسان مانی بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔یاد رہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور کچھ سینئر کھلاڑیوں کو دورے پر تحفظات ضرور تھے لیکن اب یہ تحفظات دور ہوچکے ہیں۔ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے تمام سینئر کھلاڑی پاکستان کے دورے میں ٹیم کا حصہ ہوں گے جن میں شکیب الحسن، مشفیق الرحیم زیر فہرست ہیں۔دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی نے کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ میں انتہا پسند بیٹھے ہیں، اب بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات ہوگی، پاکستان محفوظ ملک ہے، اگر کسی کو ا عتراض ہے تو ہمیں آگاہ کرے،بنگلہ دیش کے ساتھ ٹیسٹ میچ راولپنڈی میں ہی ہونگے،انگلینڈ 2021اور آسٹریلیا 2022میں پاکستان آئیگا، ہماری خامیاں دورہ آسٹریلیا میں سامنے آگئی تھیں،ہمیں ڈومیسٹک کرکٹ کو بین الاقوامی معیار پر لانا ہوگا،جب تک ملک میں فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں ہوگی اچھا کھیل پیش نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی اسٹیڈیم میں 6ماہ میں 600 سے700ملین روپے خرچ ہوئے ہیں، پاکستان محفوظ ہے، اگر کسی کو اعتراض ہے تو وہ ہمیں آگاہ کرے، بنگلا دیش سے بات چل رہی ہے، اگلے ماہ ایم سی سی آ رہی ہے۔احسان مانی کا کہنا تھا کہ ہم یہ کہنے کے لیے کیوں کسی کے پاس جائیں کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے، کسی کو اس حوالے سے اعتراض ہے تو وہ آکر بات کرے، بنگلا دیش کے ساتھ ٹیسٹ میچ بھی راولپنڈی ہی میں ہوں گے، اس سلسلے میں بنگلا دیش کی سیکورٹی ٹیم یہاں آئی تھی۔احسان مانی کا کہنا تھا کہ انگلینڈ 2021 اور آسٹریلیا 2022 میں پاکستان آئیں گے، اگلے ماہ ایم سی سی بھی آرہی ہے۔ بھارتی کرکٹ بورڈ کے سیکریٹری پاکستان کے ساتھ کرکٹ کے فروغ کے لیے کام کریں،بھارتی کرکٹ بورڈ میں انتہا پسند بیٹھے ہیں۔بھارتی کرکٹ بورڈ میں انتہا پسند ہیں اور اب بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بات ہوگی۔چیئرمین پی سی بی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیر اعظم کا کام ملک کو چلانا ہے وہ کسی ٹیم کو کیوں دعوت دیں گے۔چیئرمین پی سی بی نے مزید کہا کہ ہماری خامیاں دورہ آسٹریلیا میں سامنے آگئی تھیں، ہمیں کرکٹ کو بین الاقوامی معیارپر لانا ہوگا، باؤلنگ لیب میں ہمارے بالرز کی تربیت ہوتی ہے۔احسان مانی نے کہا کہ ہمارے پاس 7 سلیکٹرز ہیں اور سب کے سب کرکٹر رہ چکے ہیں، جب تک ملک میں فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں ہوگی اچھا کھیل پیش نہیں کر سکتے، ہمیں ڈومیسٹک کرکٹ کو بین الاقوامی معیار پر لانا ہوگا، آئی سی سی کے جنوری کے اجلاس میں شرکت کروں گا، ہم آئی سی سی کی 5 کمیٹیوں میں ہیں،کبھی آئی سی سی میں اتنے لوگ شامل نہیں ہوئے جتنے ابھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں فرسٹ کلاس کرکٹ ہو رہی ہے،،جب تک اس ملک میں فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں ہوگا دنیا میں اچھا کھیل نہیں پیش ہو سکتا، ہمیں کرکٹ کو بین الاقوامی معیار پر لانا ہوگا۔ پاکستان 8سٹیڈیمز کو چلا رہا ہے۔دوسری جانب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے نئی ٹی ٹونٹی رینکنگ جاری کردی جس میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم بدستور بیٹنگ کی کیٹیگری میں سرفہرست ہیں جبکہ بولنگ کے شعبہ میں عماد وسیم اور شاداب خان ٹاپ 10 میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ آئی سی سی رینکنگ کے مطابق بیٹنگ کی فہرست میں پاکستان کے کپتان بابر اعظم پہلے، آسٹریلیا کے ایرون فینچ دوسرے، انگلینڈ کے ڈیوڈ ملان تیسرے اور نیوزی لینڈ کے کولن منرو چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔جب کہ آسٹریلیا کے گلین میکس ویل پانچویں، بھارت کے کیایل راہول چھٹے اور ویسٹ انڈیز کے ایون لیوس ساتویں نمبر پر ہیں۔ان کے علاوہ افغانستان کے حضرت اللہ زازئی آٹھویں، بھارت کے روہت شرما نویں اور ویرات کوہلی دسویں پوزیشن پر براجمان ہیں۔آئی سی سی بالرز کی فہرست میں میں افغانستان کے راشد خان پہلے اور مجیب الرحمن دوسرے نمبر پر موجود ہیں، نیوزی لینڈ کے مچل سنٹنر تیسرے، پاکستان کے عماد وسیم چوتھے اور شاداب خان آٹھویں نمبر پر موجود ہیں۔آل رانڈرز کیٹگری میں کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی جگہ نہیں بنا سکا جب کہ افغانستان کے محمد نبی پہلے نمبر پر ہیں، آسٹریلیا کے گلین میکسویل دوسرے اور سین ولیم تیسرے نمبر پر ہیں۔اسی طرح پاکستان 270 پوائنٹس کے ساتھ بدستور پہلے نمبر پر ہے، صرف ایک پوائنٹ کے فرق کے ساتھ آسٹریلیا دوسرے، انگلینڈ تیسرے، جنوبی افریقا چوتھے اور بھارت کی پانچویں پوزیشن ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...