فٹ بال کی ترقی کے لئے کوشاں ہوں، محمد غوث

فٹ بال کی ترقی کے لئے کوشاں ہوں، محمد غوث

  



پاکستان میں فٹ بال کا کھیل تیزی سے فروغ حاصل کررہا ہے بلاشبہ اس کھیل میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے جس کومنظرعام پر لانے کے لئے اگرمثبت اقدامات کئے جائیں تو یہ کھیل بھی کرکٹ اور ہاکی طرح بہت جلد ہی پاکستان کا مقبول ترین بن سکتا ہے اس کھیل سے پیار کرنے والے افراد اسکی ترقی کیلئے کوشاں ہیں ان میں ہی ایک نام فٹ بال کی ترقی کے خواہ محمد غوث کا بھی ہے جنکا تعلق ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی سے ہے اور بچپن سے ہی اس کھیل سے پیارکرنے والے محمد غوث اسوقت فٹ بال کی ترقی کے لئے کوچنگ کرنے میں مصروف ہیں اور انکی اس حوالے سے خدمات کو سراہنے کی ضرورت ہے محمد غوث نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہمیں نے فیزیکل ایجوکیشن میں ماسڑز، گورنمنٹ کالج آف فیزیکل ایجوکیشن لاہور سے کیا۔ اور پاکستان فٹبال فیڈریشن کی طرف سے "ڈی" سرٹیفیکیٹ کوچنگ کورس کیا۔ میں سکول، کالج، ملتان بورڈ، بہاوء دین ذکریا یونیورسٹی اور پنجاب کی فٹبال ٹیموں کا حصہ بھی رہ چکا ھوں۔میرے ساتھ میرے کزن عبدرحمان جو گورنمنٹ ھاء سکول چیچہ وطنی میں بطور فیزیکل ایجوکیشن ٹیچر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے بھی فیزیکل ایجوکیشن میں ماسڑز، گورنمنٹ کالج آف فیزیکل ایجوکیشن لاہور سے کیا۔ اور پاکستان فٹبال فیڈریشن کی طرف سے "سی" سرٹیفیکیٹ کوچنگ کورس کیا۔ ہم دونوں نے اپنے گاوں میں شاھین فٹبال کلب اور اکیڈمی بنا رکھی ہے۔ اس میں ہم پانچ سال سے اٹھارہ سال کی عمر کے بچوں کو ٹریننگ دے رہے ہیں۔ ہم عرصہ پندرہ سال سے اس اکیڈمی میں کوچنگ کر رہے ہیں۔ ہمارے بچے ہر سال سکولز، کالجز، یورینیورسٹیز، تحصیل، ضلع اور ڈویڑن لیول کی ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ بچوں نے نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر بھی نمائندگی کی۔ انہوں نے کہا 2008 میں محمد اورنگزیب پنجاب انڈر14فٹبال ٹیم کا حصہ بنا۔اور 2009 میں پنجاب سپورٹس بورڈ انٹر ڈویڑنل انڈر 14 فٹبال چمپین شپ لاہور میں منعقد ہوئی۔ اس میں ساہیوال ڈویڑن کی ٹیم میں ہماری اکیڈمی کے چھے بچے عمر دراز، محمد زبیر، محمد زوہیب، محمد اعظم، محمد حسین اور محمد عامر کاٹھیہ سیلیکٹ ہوے اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 2009 میں ہی پاکستان فٹبال فیڈریشن نے انڈر 21 فٹبال نیشنل چیمپین شپ اسلام آباد میں منعقد کروائی۔ جس میں محمد مشتاق پنجاب ٹیم کی نمائندگی کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ 2010 میں پنجاب سپورٹس بورڈ نے چیف منسٹر پنجاب کپ (دوسرا) کروایا۔ جس میں حافظ محمد اسرار، حافظ محمد ابرار اور محمد بخش سیلیکٹ ہوے۔ 2012 میں ہماری ٹیم نے یوتھ فیسٹیول میں پنجاببھر میں جنرل پبلک کیٹیگیری میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ 2014 میں نیشنل انڈر 12 فٹبال چیمپین شپ اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ محمد شعیب اور محمد عمران نے پنجاب کی نمائندگی کی اور کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔ 2015 میں انڈر 13 ایشین یوتھ فٹبال فیسٹا جنوبی کوریا میں ہوا۔ جس میں محمد صہیب نے قومی ٹیم کی نمائندگی کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس ٹیم کے کیمپ میں 7 سالہ محمد ارشد پوڈا بھی شامل تھا۔ لیکن عمر کم ہونے کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہ بن سکا۔ اس ٹیم کے کوچ اسداللہ اور اسسٹنٹ کوچ کے فرائض محمد غوث نے ادا کیے۔ 2018 میں پنجاب سپورٹس بورڈ نے پنجاب انڈر 15 فٹبال کپ لاہور میں کروائی۔ اس میں میاں حمزہ اور محمد عمران مانی شامل تھے۔ 2018 میں نیشنل انڈر 15 فٹبال چیمپین شپ لاہور میں منعقد ہوئی۔ اس میں محمد صہیب اور محمد عمران مانی شامل ہوے اور سلور میڈل حاصل کیا۔ ستمبر 2019 میں قومی ٹیم انڈر 16 (اے ایف سی)کوالیفائی راونڈ سعودی عرب میں کھیلنے گئی۔ اس میں محمد صہیب نے قومی ٹیم کی نمائندگی کی۔ ستمبر 2019 میں پنجاب سپورٹس بورڈ فٹبال کوچنگ اینڈ ٹریننگ کیمپ انڈر 16 ٹیم کا علان ہوا۔ اس میں محمد ارشد پوڈا اور محمد کاشف سیلیکٹ ہوے۔ نومبر 2019 میں قومی انڈر 19 ٹیم ایشین فٹبال چیمپین شپ کا کوالیفائنگ راونڈ (2020) کھیلنے عمان گء۔ گولکیپر محمد ابرار باری اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ جس کا تعلق ہماری اکیڈمی سے ہے۔محمد ابرار باری کو سٹریٹ چائلڈ ورلڈ کپ کھیلنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ جو کہ 2018 میں روس میں منعقد ہوا۔ اس مقابلے میں قومی ٹیم نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ نومبر میں ساہیوال ڈویڑن کمشنر گولڈ کپ سپورٹس فیسٹیول 2019 منعقد ہوا۔ اس میں انڈر 16 فٹ بال ٹیم تحصیل چیچہ و طنی نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ محمد ارشد پوڈا، محمد بلال، محمد کاشف، محمد عاطف اور محمد وقاص شامل تھے۔ ان کا تعلق ہماری اکیڈمی سے ہے۔اس کے علاوہ محمد یاسر اور اسد علی موسیّ نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی طرف سے ریفری کورس کر رکھا ہے۔ اور یہ ہماری اکیڈمی کے علاوہ دیگر مختلف سطح کے مقابلوں میں ریفری کے فرائض سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان پر امن ملک ہے اور یہاں پر کھیلوں کے لئے بہت ماحول بہت سازگار ہے اور ہر کھیل میں ٹیلنٹ بھی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر حکومت اس جانب توجہ دے تو ہم اس کھیل سمیت دیگر کھیلوں میں بھی ترقی کرسکتے ہیں میں اپنی خدمات فٹ بال کی ترقی لئے اسی طرح سے پیش کرتا رہوں گا اور حکومت کو تجاویز دیتا رہوں گا کہ وہ ملک میں کھیلوں کے لئے ایک ایسا سڑکچر بنائیں جس کے تحت نچلی سطح سے کھیلوں کو فروغ دیا جائے اور ٹیلنٹ کوضائع ہونے سے بچانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

مزید : ایڈیشن 1