"ایک نواب صاحب نے رولس رائس خرید لی، بڑی تلاش کے بعد ایک نوجوان نوکری پر رکھ لیا لیکن ایک دن اُن کی بیوی کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا، نواب صاحب نے کھڑے کھڑے ۔ ۔ ۔" کالم نویس نے پی آئی سی حملے پر یہ لطیفہ کیوں سنا دیا؟

"ایک نواب صاحب نے رولس رائس خرید لی، بڑی تلاش کے بعد ایک نوجوان نوکری پر رکھ ...

  



لاہور (ویب ڈیسک)  پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلا اور ڈاکٹروں کے آپسی ہنگامے میں کئی مریضوں کی جان چلی گئی، وکلا نے بعدازاں عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے احتجاج بھی شروع کردیا، ایک معروف وکیل سمیت پولیس اہلکاروں کے باوردی بار میں آنے پر پابندی کے علاوہ ایک معزز عدالت کا بھی بائیکاٹ کردیا ، ایسے میں کالم نویس اور صحافی یاسر پیرزادہ کو وکلا کے ان اقداما ت ایک لطیفہ یاد آگیا۔

روزنامہ جنگ میں انہوں نے لکھا کہ " سرائیکی علاقے کے ایک نواب صاحب نے رولس رائس خرید لی، گاڑی خریدنے کے بعد مسئلہ یہ تھا کہ اسے چلائے کون، رولس رائس کا ڈرائیور بڑی مشکل سے ملتا تھا، آخر کار بڑی تلاش کے بعد ایک نوجوان ڈرائیور کو نوکری پر رکھ لیا گیا، ایک دن نواب صاحب گھر آئے تو دیکھا کہ ڈرائیور اُن کی بیوی کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف ہے، نواب صاحب نے کھڑے کھڑے اسے نوکری سے نکال دیا۔

کچھ دن گزرے تو نواب صاحب کو رولس رائس کی فکر ہوئی، اب کوئی ڈرائیور نہ ملے، کسی نے انہیں بتایا کہ پرانا ڈرائیور اب بھی شہر میں موجود ہے، نواب صاحب اسے ڈھونڈنے نکلے تو وہ بازار میں مل گیا، نواب صاحب اُس کے پاس جاتے تو وہ منہ موڑ لیتا، تنگ آکر نواب صاحب نے اُس کا کندھا دبایا اور سرائیکی میں گالی دے کربولے ’’ ہُن رُسّا ای توں ودا ایں‘‘ (اب ناراض بھی تم ہی ہو)۔

یہ لطیفہ پنجاب بار کونسل کی پریس ریلیز دیکھ کر یاد آیا جس میں وکلا کے ساتھ ہونے والی ’’زیادتی‘‘ کے نتیجے میں بار نے ہڑتال کی کال دی ہے"۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ’’ چار روز پہلے بعض وکیلوں نے پنجاب کارڈیالوجی پر حملہ کیا تھا جہاں انہوں نے سرکاری املاک تباہ کیں اور اسپتال میں گھس کر تھوڑ پھوڑ کی جس سے تین مریض جان جاں بحق ہوگئے مگر کس قدر زیادتی کی بات ہے کہ اُلٹا پرچہ بھی کچھ وکلا کے خلاف ہی کاٹ دیا گیا.

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جن بہادر وکلا نے اسپتال پر حملہ کرکے تاریخ رقم کی انہیں ملک کے سب سے اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا جاتا تاکہ ہماری نوجوان نسل یہ جان سکتی کہ ہم اپنے ہیروز کی کتنی قدر کرتے ہیں۔ ’’ہُن رُسّا ای توں ودا ایں‘‘!

جس معاشرے میں کسی شخص، گروہ یا طبقے کو اِس بات کا علم ہو کہ وہ قانون سے مستثنیٰ ہے اُس معاشرے میں وہی کچھ ہوتا ہے جو آج ہم دیکھ کر رہے ہیں، اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں، چند وکیلوں نے جب یہ حملہ کیا تو انہیں یقین تھا کہ کوئی اُن کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا اور اُن کا یقین ٹھیک تھا۔

زیادہ پرانی بات نہیں، اگست 2017ء میں ملتان بار کے ایک عہدیدار نے جج صاحب سے بھری عدالت میں بدتمیزی کی، لاہور ہائیکورٹ نے اِس کا نوٹس لیا، اس عہدیدار کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے، اس ’’گستاخی‘‘ کے خلاف کچھ وکلا نے لاہور ہائیکورٹ پر حملہ کر دیا، پھر عدالت عظمیٰ میں معاملہ ’’رفع دفع‘‘ ہو گیا، جن صاحب نے جج سے بدتمیزی کی تھی، وکلا نے اُن پر گل پاشی کی اور کندھوں پر اٹھا کر عدالت سے باہر نکلے۔

اس مرتبہ ہم ایک قدم اور آگے بڑھے ہیں اور اسپتال پر حملہ کیا ہے، پرچہ تو ہو گیا ہے مگر ملزمان کی تعداد گھٹا دی گئی ہے، عام ملزم ہوتے تو ان کا کیس ٹرائل کورٹ میں سنا جاتا جبکہ وکلا کے لیے عدالت نے خصوصی بنچ بنا دیا ہے، یہ بات نوٹ کر لی جائے کہ انہیں نہ صرف ضمانت ملے گی بلکہ سب با عزت بری ہوں گے، کوئی وکیل اِن کے مقدمے کی پیروی نہیں کرے گا، کوئی اِن کے خلاف پیش نہیں ہوگا۔

بار کونسل کے عہدیداروں کی گفتگو آپ نے ٹی وی پروگراموں میں سُن لی، ہومیو پیتھک مذمت کے علاوہ کچھ نہیں، وہ بھی اگر مگر چونکہ چنانچہ کے ساتھ۔ آج درجنوں وڈیو کلپس کی موجودگی میں دھڑلے سے جو لوگ اِس واقعے کا جواز دینے کی کوشش کر رہے ہیں اُن سے یہ امید رکھنا کہ وہ ان ملزمان وکلا کے لائسنس منسوخ کریں گے، حماقت ہی ہوگی۔

یہ مغالطہ بھی اب ہمیں دور کر لینا چاہیے کہ کوئی ادارہ یا گروہ اپنا احتساب خود کر سکتا ہے، میڈیا نے یہی دلیل کئی سال تک استعمال کی کہ انہیں کسی ریگولیٹری باڈی کی ضرورت نہیں، وہ میڈیا تنظیموں کے ذریعے اپنا محاسبہ خود کر لیں گے، یہ بات غلط ثابت ہوئی، روزانہ لوگوں کی پگڑیاں اچھالی جاتی ہیں، جھوٹے اسکینڈلز کے ذریعے کردار کشی کی جاتی ہے مگر کبھی یہ نہیں سنا کہ کسی میڈیا تنظیم نے فلاں اینکر یا صحافی پر پابندی لگا دی ہو۔

اب میڈیا یہی سوال وکلا تنظیموں سے کر رہا ہے کہ کیا آپ ان مجرمان کا لائسنس منسوخ کریں تو جواب مجھ سے سُن لیں کہ کسی کا اجازت نامہ منسوخ نہیں ہوگا۔ ایک غلط فہمی یہ بھی ہے کہ یہ لوگ پڑھے لکھے ہیں،جس شخص کو تعلیم کے نتیجے میں شعور نہیں مل سکا یا اس میں تنقیدی سوچ پروان نہیں چڑھ سکی، وہ چاہے لنکنز اِن سے بیرسٹر ہی کیوں نہ بن جائے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کبھی کبھی تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے پوری قوم پاگل ہو چکی ہے اور اِس قوم کا علاج کم ازکم ہماری زندگیوں میں تو ممکن نہیں، جس ملک میں لوگ مذاق مذاق میں کسی کی جان لے لیں، آئل ٹینکر سے بہتا ہوا تیل چرانے کے لیے زندہ جل جائیں، گیس سلنڈر کی بداحتیاطی سے چلتی ٹرین میں دھماکے کر دیں اور جس ملک میں خاتون اسسٹنٹ کمشنر پوری ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی موجودگی کے باوجود بے بسی اور خوف کے عالم میں اپنے عقیدے کی وضاحت دینے پر مجبور ہو وہاں یہی کچھ ہوگا ۔

خاطر جمع رکھیں، اگلا واقعہ اس سے بھی زیادہ خوفناک ہوگا، اب کوئی جی دار اپنی توہین پر مریضوں کو آئی سی یو سے نکال کر سڑک پر تیل چھڑک کر آگ لگائے گا اور ہم ایسے ہی سینہ کوبی کرکے چُپ ہو جائیں گے۔

جس روز ہم اپنے نوعمر بچے کو بغیر لائسنس کے موٹر سائیکل دے کر سڑک پر بھیجتے ہیں اُس روز دراصل ہم اس کے دماغ میں یہ راسخ کر دیتے ہیں کہ اِس ریاست کے قانون کی کوئی وقعت نہیں، لاہور میں یہی ہوا، آئندہ بھی یہی ہوگا کیونکہ ریاست کے آئین اور قانون کو ہم نے لونڈی بنا رکھا ہے، اس کے ساتھ جیسا دل کرتا ہے ویسا سلوک کرتے ہیں‘‘۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور