عرب و عجم میں تقسیم اُمتِ مسلمہ کیلئے نقصان دہ ،اسلامی تعاون تنظیم کی تقسیم کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی:علامہ طاہر اشرفی

عرب و عجم میں تقسیم اُمتِ مسلمہ کیلئے نقصان دہ ،اسلامی تعاون تنظیم کی تقسیم ...
عرب و عجم میں تقسیم اُمتِ مسلمہ کیلئے نقصان دہ ،اسلامی تعاون تنظیم کی تقسیم کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی:علامہ طاہر اشرفی

  



لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)معاشرتی رویوں کی اصلاح کیلئے ہر سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، انتہا پسندی اور متشددانہ رویے معاشروں کو تباہ کر دیتے ہیں، پاکستان علماء کونسل 22 دسمبر کو ملکی اور عالمی حالات کے حوالہ سے نئے لائحہ عمل کا اعلان کر ے گی، معاشرہ کی بہتری کیلئے تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تمام طبقات سے ملکر جدوجہد کرنی ہو گی، پاکستان عرب و عجم میں تقسیم کو اُمتِ مسلمہ کیلئے نقصان دہ سمجھتا ہے،اسلامی تعاون تنظیم کی تقسیم کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی۔

دارالافتاء پاکستان میں مختلف مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے گفتگو کرتے ہوئےپاکستان علماء کونسل اور صدر وفاق المساجد و المدارس پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہگذشتہ چند روز کے واقعات نےثابت کیا کہ قومی سطح پر معاشرتی رویوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے، محراب و منبر کو مزید موثر انداز میں کردار ادا کرنا ہو گا، پاکستان علماء کونسل معاشرے کی تمام طبقات کے ساتھ مل کر وطن عزیز سے انتہا پسند انہ، متشددانہ رویوں کے خاتمے کیلئے جدوجہد کر رہی ہے، 22 دسمبر کو پاکستان علماء کونسل کی مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس میں تین سال کا قومی لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل کی قیادت نے تمام مذاہب اور مسالک کی قیادت سے مل کر عالمی امن کونسل قائم کی ہے، جس کو جنوری کے پہلے ہفتے میں باضابطہ تنظیمی شکل دے دی جائے گی۔ انہوں نےکہاکہ مسائل کاحل مذاکرات اورمفاہمت سےممکن ہے،پاکستان کا عالم اسلام میں اہم مقام ہے، عرب و عجم کی لڑائی اسلامی دنیا کو مزید کمزور کرے گی، پاکستان اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا بانی ممبر ہے،اسلامی تعاون تنظیم کی تقسیم کسی صورت برداشت نہیں کی جا سکتی، اسلامی تعاون تنظیم کو مسلم ممالک کا اعتماد حاصل ہے یہ نا ممکن ہے کہ امت مسلمہ کے متفقہ فورم کو تقسیم کر دیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کسی ایسی کوشش کو تسلیم نہیں کر سکتا جس سے مسلمانوں میں مزید انتشار پیدا ہو اور مسلمانوں کی وحدت کے مرکز ارض حرمین شریفین کو نقصان پہنچے،سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی، عمران خان کے دورہ سعودی عرب سے دنیا پر بہت ساری حقیقتیں واضح ہو گئی ہیں ،سعودی ولی عہد امیر محمد بن سلمان نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید کی ہے، پاکستان اور سعودی عرب کا مسئلہ کشمیر پر فلسطین پر موقف امت مسلمہ کی ترجمانی ہے۔

اس موقع پر مولانا محمد شفیع قاسمی، علامہ زبیر عابد، علامہ طاہر الحسن، مولانا محمد اشفاق پتافی، مولانا ابو بکر صابری، مولانا نعمان حاشر، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا اسد اللہ فاروق، مولانا محمد اسلم صدیقی، قاری عبد الحکیم اطہر اور دیگر علماء بھی موجود تھے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور