” میڈیا پر واٹس ایپ کے ذریعے کنٹرول، ٹی وی پر سیکس اور سیاست پر پابندی“

” میڈیا پر واٹس ایپ کے ذریعے کنٹرول، ٹی وی پر سیکس اور سیاست پر پابندی“
” میڈیا پر واٹس ایپ کے ذریعے کنٹرول، ٹی وی پر سیکس اور سیاست پر پابندی“

  



قاہرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) مصر کے صدر عبدالفتح السیسی کی حکومت نے ملک میں میڈیا پر کچھ ایسی پابندیاں عائد کر دی ہے کہ جسے عالمی سطح پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور بدترین سنسرشپ قرار دیا جا رہا ہے۔ میل آن لائن کے مطابق مصر میں واٹس ایپ پر میڈیا ہاﺅسز کو بتایا جا رہا ہے کہ انہیں کیا چیز رپورٹ کرنی ہے اور کیا نہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے ٹی وی چینلز پر جنسیت اور سیاست کے موضوعات پر پابندی عائد کی جا چکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے واٹس ایپ گروپ بنا رکھے ہیں جن میں میڈیا ہاﺅسز کے ذمہ داران کو شامل کر رکھا ہے اور وہاں انہیں ہدایات دی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے ایک نئی ریگولیٹری ایجنسی بھی بنائی گئی ہے جو میڈیا کو مانیٹر کرتی اور مواد کو سنسر کرتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی مشہور ترین ٹیلی ویژن پروڈکشن کمپنیوں میں سے ایک کے مالک جمیل العدل کا کہنا ہے کہ ”کسی فلم یا شو کی شوٹنگ سے قبل ایک لازمی پرمٹ لینا پڑتا ہے۔ اس پرمٹ کے بغیر ریکارڈنگ بھی نہیں کی جا سکتی۔ اس وقت ملک میں صرف ایک آنکھ، ایک ذائقہ اور ایک ویژن ہے اور وہ صدر السیسی کا ویژن ہے۔“

مزید : عرب دنیا


loading...