خالص میں ملاوٹ

خالص میں ملاوٹ
خالص میں ملاوٹ

  

بہت مشہور بات ہے کہ ایوب خاں کا مارشل لاء لگا تو دکاندار ڈر گئے انہوں نے اصلی گھی کی مٹھائیاں بنانی شروع کر دیں حالانکہ لوگ اتنی خالص مٹھائیوں کے عادی نہ تھے ان کو وقتی طور پر حیرانی ہوئی خالص کا الٹ ملاوٹ ہے دودھ میں پانی کی ملاوٹ ہوتی تھی اب پانی میں خاص قسم کا محلول کیمکل ملا کر دودھ تیار کیا جا رہا ہے جو  انسانی صحت کے لئے بہت زیادہ خطرناک ہے چائے کی پتی میں چنے کے چھلکوں کی ملاوٹ، گھی میں آلو کی ملاوٹ اور مصالحوں میں رنگ دار برادے کی ملاوٹ، ایک لطیفہ ہے کہ ایک آدمی خودکشی کرنا چاہتا تھا اس نے زہر پی لیا تو کئی گھنٹوں تک مرا نہیں کیونکہ زہر بھی خالص نہیں تھا اس میں بھی ملاوٹ تھی دواؤں میں ملاوٹ یہ کتنے ظالم لوگ ہیں کہ اپنے ملک کے عوام کو بھی بیماری سے مجبور لوگوں کو بہت مہنگی قیمت پر جعلی دوائیاں اور انجکشن سپلائی کرتے ہیں اور وہ مارکیٹ میں فروخت ہوتے ہیں دھوکا اور فراڈ بے ایمانی اس لئے ہے کہ ہم میں خودغرضی، مفاد پرستی پیدا ہو گئی ہے جو  عروج پر ہے کسی نے کیا خوب کہا کہ ہمارے معاشرے میں ہر ایک فرد کا ہاتھ دوسرے کی جیب میں ہے۔جب عوام سے آئے نمائندے عوام کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے تو پھر اعلیٰ افسروں کو موقع ملتا ہے جو پہلے ہی خود کو اعلیٰ کلاس کے انسان سمجھتے ہیں ان کو دیکھ کر بڑے بڑے صنعت کار کاروباری معزز حضرات سرمایہ دار بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں حکومت کے ذمہ داروں کو ٹائم نہیں ملتا کہ وہ ان لوگوں کو نتھ ڈالیں ان کی اپنی مجبوریاں اور ضروریات زندگی ہیں ڈاکٹر، وکلاء، انجینئر اور کاروباری حضرات سے سلسلہ چلتا چلتا رہڑی والوں، رکشاء والوں چھوٹے ملازمین سے ہوتا ہوا بھکاریوں تک چلا جاتا ہے ایمانداری کی اکا دکا مثال پر حیرانگی ہوتی ہے بعض اوقات یہ خبر بریکنگ نیوز تک پہنچ جاتی ہے جس طرح سندھ پولس کے اے ایس آئی نے ظالم ملزم کو پکڑنے کے لئے بیٹی کی عزت اور زندگی داؤ پر لگا دی یہ مثال ہے پنجاب پولیس کو بھی اپنی عزت بحال کرنے کے لئے غور کرنے کی ضروریات ہے پنجاب میں پولس کے اندر ایک طاقت ور مافیا ہے جو اچھے آفیسر کے خلاف اور کرپٹ، قبضہ گروپوں کی سرپرستی کرتا ہے حالانکہ یہ یونیفارم فورس ہے اس کو سول ملازمین کی طرح کرپٹ نہیں ہونا چاہئے وہ ریاست جس کی عزت ماں جیسی ہو وہاں بیٹے فرمانبردار ہوتے ہیں ہمارے ہاں ریاست نے اپنی رعایا کی روٹی، کپڑا،مکان، صحت، روز گار اور تعلیم کی ذمہ داری نہیں لی کوئی جیتا ہے جئے، کوئی مرتا ہے تو مرے۔

ریاست تین سال کے ہر بچے کو کہہ رہی ہے کہ اگر تمہارے باپ کے پاس پیسا ہے تو تم تعلیم حاصل کرلینا جس قدر تمہارے خاندان کے سربراہ کے پاس زیادہ رقم ہو گی تمہیں اس قدر اچھی تعلیم ملے گی۔ یہی اعلان ریاست کرتی چلی آئی ہے کہ ہم تمہارے روزگار کے ذمہ دار نہیں ہر غریب بیچارے کو یہ خطرناک اطلاع مل رہی ہے کہ ملک کو پہلے حکمرانوں نے لوٹ لیا ہے معیشت ختم ہو چکی تھی ہم اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو لوگ  سرمایہ باہر لے گئے ہیں اس کو وہ پاس لانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بہت جلدی آئے گا ورنہ ایرے غیرے نتھو خیرے بھول جاؤ کہ ہم تمہارے لئے کچھ کر سکیں گے بیمار ہو جاؤ صحت کارڈ بنوا کر علاج کراؤ ورنہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاؤ۔ حکمران عوام کا خیال رکھیں تو عوام ان سے پیار کرتے ہیں ان کے ساتھ چلتے ہیں جب ووٹ لے کر حکمرانی میں جا کر نمائندے بے حس ہو جاتے ہیں اور اپنے عوام کا خیال بھول جاتے ہیں تو پھر مفاد پرست ٹولے کے سوا کوئی ان کے لئے باہر نہیں نکلتا عوام کی یاد داشت کمزور نہیں ہوتی۔

 حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں غیر خالص چیزوں کی بھرمار ہے ہم خود اپنی رگوں میں زہر بھر رہے ہیں نہ صرف اپنی رگوں میں بلکہ اپنی کرتوتوں کی بدولت اپنی آنے والی نسل کو غیر خالص خوراک دے رہے ہیں نہ صاف پانی، نہ عمدہ خوراک بلکہ مرغیوں کو غیر عمدہ خوراک کھلا کر اس کا گوشت خود کھا رہے ہیں بھینسوں کو انجکشن لگا کر زیادہ لیکن امراض پیدا کرنے والا دودھ حاصل کر رہے ہیں۔ گوشت میں تیز دھار سے پانی لگا کر اس کا وزن بڑھا رہے ہیں اور تو اور ہم اپنے شہریوں کو گدھے کا گوشت کھلا کر سارے ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو قائد اعظمؒ اور ان کے اچھے ساتھی بہت جلدی اس دنیا سے چلے گئے اور پاکستان آہستہ آہستہ خود غرضوں، مفاد پرستوں کے ہتھے چڑھ گیا بنگلہ دیش جو پاکستان سے ٹوٹ کر بنا وہ بھی ہم سے ترقی میں آگے چلا گیا ان کی معیشت مضبوط ہو گئی ہے لیکن پاکستان میں حکمران ترقی کرنے کے نام پر بیرونی ملکوں سے قرضے لے کر مقروض کرتے رہے۔

مزید :

رائے -کالم -