حکومت کو انکوائری کمیشن کی رپورٹ روکنے کا اختیار نہیں، پٹرولیم بحران کی تحقیقاتی رپورٹ کو پبلک کیا جائے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ

        حکومت کو انکوائری کمیشن کی رپورٹ روکنے کا اختیار نہیں، پٹرولیم بحران ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے پٹرولیم بحران انکوائری کمشن کی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیاہے،دوران سماعت فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ کمیشن آف انکوائریز ایکٹ کے تحت تو وفاق کو اختیار ہی نہیں کہ رپورٹ پبلک کرنے سے روکے، ساری کابینہ مل کرکہہ دے کہ اس رپورٹ نے پبلک نہیں ہونا تو پھر بھی رپورٹ پبلک ہو گی،پٹرولیم کمیشن کے سربراہ ابو بکر خدا بخش نے تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ عدالت میں پیش کی اور عدالتی حکم پر اس کاکچھ حصہ پڑھ کربھی سنایا،پٹرولیم کمشن کے سربراہ کی جانب سے پٹرولیم بحران کا معاملہ نیب کو بھجوانے،اوگرا کو ختم کرنے اوررپورٹ میں ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی سفارش کی گئی ہے،کمشن کے سربراہ نے مزید کہا کہ اوگرا کی کارگردگی نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ڈی جی آئل ایک ویٹرنری ڈاکٹر کو لگایا گیا ہے یہ تعیناتی بھی خلاف قانون ہے۔کمشن کے سربراہ نے عدالت کو مزیدبتایا کہ پٹرولیم کی مصنوعات بڑی مقدار میں سمگل ہوتی ہیں تاہم صرف 20فیصد پکڑی جاتی ہیں،سمگلنگ کے باعث قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔چیف جسٹس کے استفسار پر ابو بکر خدا بخش نے بتایا کمشن نے سفارش کی ہے کہ آئل کمپنیوں کو خلاف قانون کوٹہ دیا گیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر15دن کی بجائے 30 دن بعد نظر ثانی ہونی چاہیے،پٹرولیم بحران پر بنائے گئے کمیشن نے عدالت عالیہ کوآگاہ کیا ہے کہ چار دن میں سات آئل کمپنیز نے 7ارب سے زیادہ منافع کمایا،عدالتی معاون نے عدالت کوبتایا کہ پیٹرولیم کمیشن کو عدالتی حکم پر بنایا گیا تھا، وفاقی حکومت نے ازخود نہیں بنایا، عدالت کو پیٹرولیم کمیشن کی رپورٹ پبلک کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ بے شک عدالتی حکم پر پیٹرولیم کمیشن بنا، مگر وفاق نے ایکٹ کی دفعہ 17 کے تحت نوٹیفکیشن جاری کیا، کمیشن آف انکوائریز ایکٹ کے تحت جاری نوٹیفیکیشن کے تحت رپورٹ پبلک کرنے کا اختیار وفاقی حکومت کا اختیار ہے، فاضل جج نے کہا کہ وفاقی حکومت نے 3 دسمبر کو میٹنگ میں رپورٹ پیش کرنا تھا کیا یہ لکھ دوں کہ یہ حکومتی بدنیتی ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ صبح کابینہ میٹنگ میں رپورٹ پیش کر دی جائے گی، اگر یہ رپورٹ کابینہ میں پیش نہیں کرتے تو آپ مشروط آرڈر کر دیں، فاضل جج نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ شاید کچھ لوگ نہیں چاہتے کچھ افسران کی نااہلیاں سامنے آئی ہیں ان کوجتنا التواء رکھا جا سکتا ہے رکھ لیا جائے، رپورٹ میں جتنی غلطیاں، کوتاہیاں سامنے آئی ہیں شاید کچھ لوگ نہیں چاہتے کہ رپورٹ پبلک ہو، سرکاری وکیل نے کہا کہ کابینہ 30 دن میں رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ کرے گی،جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ رپورٹ پبلک ہونے کے پیچھے قانون کی منشاء ہے اس لئے یہ رپورٹ پبلک ہونا ہی ہے، 30 دن کیا آپ نے اس رپورٹ کو مائیکرویو میں رکھنا ہے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ کمیشن آف انکوائریز ایکٹ کی دفعہ 15 کے تحت حتمی رپورٹ منظر عام پر لائی جا سکتی ہے، کمیشن آف انکوائریز ایکٹ کے تحت حکومت کو رپورٹ پیش کرنے کے 30 روز کے بعد منظر عام پر لائی جا سکتی ہے، رپورٹ وزیراعظم کو موصول ہو چکی اور انہی کے حکم کے مطابق کل کابینہ میں پیش کی جائے گی، چیف جسٹس نے کہا کہ 2 دسمبر کو آپ لوگوں نے کہا تھا کہ رپورٹ حکومت کو بھیج دی ہے اور میٹنگ کے ایجنڈا ائٹم میں شامل ہونے کا بیان بھی دیا تھا،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ رپورٹ پر بحث و مباحثہ میں کچھ وقت لگا ہے، فاضل جج نے کہا کہ کیا 2 دسمبر کے بعد کابینہ کی میٹنگ ہوئی ہے؟ کیا گورنمنٹ ہر تاریخ پر یہی کھیلتی رہے گی کہ آئندہ تاریخ میں رپورٹ کابینہ میں رکھی جا رہی ہے؟ آپ نے کہا تھا 3 دسمبر کی کابینہ کی میٹنگ میں رپورٹ پیش کی جائے گی، علم میں آ رہا ہے کہ ہفتہ وار کابینہ کی میٹنگ ہو رہی ہے، اگر 3 دسمبر کی میٹنگ میں رپورٹ نہیں رکھی گئی توآئندہ تاریخ میں رپورٹ کابینہ میں پیش کی جاتی، پیٹرولیم کمیشن کی تشکیل عدالتی حکم پر ہوئی تھی وفاق نے از خود کارروائی نہیں کی تھی، یہ عدالت خود کارروائی کر رہی تھی اور اٹارنی جنرل کی استدعا پر انکوائری کمیشن بنانے کی استدعا کی تھی، یہ سارا معاملہ اس عدالت کے حکم پر شروع ہوا تھا، اس طرح عدالت کا ہی صوابدیدی اختیار ہے کہ رپورٹ منظر عام پر لائی جائے، یہ نہ ہونہ کہ جب دل کرے گا تب رپورٹ منظر عام پر لائی جائے، یہ نہیں ہونا کہ آپ گھروں کو جارہے ہوں تو رپورٹ پبلک کر دیں، کمیشن آف انکوائریز ایکٹ کے تحت تو وفاق کو اختیار ہی نہیں کہ رپورٹ پبلک کرنے سے روکے، فاضل جج نے استفسار کیا کہ آیا کوئی معاملہ ایسا رہ گیا ہے جس کو مزید تحقیق کی ضروت ہے؟ کن کن لوگوں کیخلاف کن کن قوانین کے تحت کارروائی ہو سکتی ہے؟جو لوگ عہدوان پر نہیں رہے انکے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے؟کن کن لوگوں کیخلاف فوجداری کارروائی کی جا سکتی ہے، اگر کسی کی نااہلی سے کچھ لوگوں نے ملک کو نقصان پہنچایا اور فائدہ حاصل کیا انکے خلاف کس انداز میں کارروائی کی جا سکتی ہے، 4 دن پہلے قیمت بڑھانے سے ریاست کو نقصان ہوا ہے وہ کس سے ریکور کیا جائے، حکومت پاکستان یقینی بنائے کہ بغیر رکاوٹ عوام کو دستیاب ہوں، رپورٹ کی روشنی میں مافیا سپلائی میں رکاوٹ پیدا نہ کر سکے، ڈپٹی کمشنرز اور وفاقی حکومت کے تمام ادارے اپنا کردار ادا کریں،کمشن کے سربراہ نے مزیدبتایا کہ وزارت انرجی، ایکسکلوسو، ریفائنری، 66 آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، 34 کمپنیاں مارکیٹنگ کر سکتی ہیں، وزارت انرجی کے پاس مکمل ریکارڈ نہیں ہے، او سی اے سی کے پاس بھی ڈیٹا مکمل نہیں تھا، وزارت پیٹرولیم او سی اے سی پر انحصار کرتی ہے، پرائیویٹ سٹوریج ٹرمینلز سمیت 10 مین سٹیک ہولڈرز ہیں، 1971ء پاکستان پیٹرولیم رولز بنائے گئے تھے، 2002ء میں اوگرا بنائی گئی اور 2006ء میں آئل سیکٹر بھی دے دیا گیا، 2016ء میں اوگرا رولز بنے اور تمام اختیارات ڈی جی آئل کے پاس رہے، جب ڈی جی ائل سے 1971ء کے رولز کے تحت پوچھا کہ ریکارڈ دیں تو انہوں نے معاملہ اوگرا پر ڈال دیا، اوگرا اپنی ذمہ داری ڈی جی آئل پر اور  ڈی جی آئل اپنی ذمہ داری اوگرا پر ڈالتے رہے، 13 سے 14 دن کا سٹاک موجود تھا، 25 مارچ کو ایک خط جاری کیا گیا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں آئل،یہ وہ وقت تھا جب تیل کی قیمت نیچے ا رہی تھی، 1 لاکھ 88 ہزار ٹن امپورٹ نہیں کیا گیا، کابینہ نے ریشنلائزیشن کی منظوری نہیں دی، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا کردار بھی اچھا نہیں رہا، 7 ڈالر فی بیرل پر قیمت آ گئی انڈیا نے اس کا فائدہ اٹھایا، ہم نے عالمی منڈی میں پیٹرول کی گرتی ہوئی قیمتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا، عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی گرتی قیمتوں کے دوران یہاں امپورٹ پر پابندی تھی، نومبر میں پی ایس او کی امپورٹ کے مطابق قیمت دسمبر میں طے ہوتی ہے، قیمتیں مقرر کرنے کا طریقہ کار انتہائی پرانا ہے، سٹیک ہولڈرزکو پہلے سے ہی پتہ چل جاتا ہے کہ آئندہ ماہ قیمتیں کم ہو جائیں گی، 32 روپے ڈیزل اور 26 روپے  پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیا گیا، جہاں ان کوفائدہ ہوا وہاں عوام اس سے مستفید نہیں ہوئے، کمیشن کے پاس کوئی ایسا ٹول نہیں تھا کہ جس سے اندازہ لگا سکتے کہ ذمہ دار کون ہے، ہم نے 94 پمپ چیک کئے جنہوں نے کوٹہ حاصل کر رکھا تھا، ایک لاکھ لیٹر کاغذوں میں وصول ہوا اور در حقیقت 40 ہزار لیٹر وصول ہوتا رہا، مارکیٹ شیئر کے حساب سے9 کمپنیوں نے 5 ارب روپے کمائے، ہمارے ملک 66 آئیل مارکیٹنگ کمپنیاں ہیں جسے ہم سنبھال نہیں پا رہے، انڈیا اور بنگلا دیش نے اپنی آئل کمپنیوں کو کنٹرول کر رکھا ہے، دوارن سماعت فاضل جج نے استفار کیا ریٹائرڈ جنرل یا ا ان کے رشتہ دار، یا ریٹائرڈ بیورو کریٹس یا ان کے رشتہ داروں کی بھی کوئی کمپنیاں سامنے آئیں؟کمشن کے سربراہ نے مزید کہا کہ وی ٹول کمپنی انٹرنیشنل نے 40 فیصد شیئرز ہیسکول کے شیئرز لے لئے ہیں، لگتا یہ ہے کہ وہ کمپنیوں کا جہاز آ گیا کہ 10 دن انتظار میں رہی کہ حکومت قیمت بڑھائے اور پھر جہاز لنگر انداز کریں، فاضل جج نے کہا کہ 7 کمپنیوں نے حکومت کے 4 دن پہلے ریٹ بڑھانے کہ وجہ سے 2 ارب روپے کما لئے، کمشن کے سربراہ نے مزید بتایا کہ ایک کمپنی جس کا ایک بھی پمپ نہیں اسکو ایک ہزار ٹن کا کوٹہ دیا گیا، ڈی جی آئل جس کو تعینات کیا گیا ہے وہ ویٹنری ڈاکٹر ہے، عمران اکرم غیر قانونی طور پر تعینات کیا گیا یے، جو پیٹرولیم میں اٹیچمنٹ پر ہیں، سٹاک کے بارے میں کوئی وضاحت موجود نہیں، پارکو کے علاوہ کوئی بھی ریفائنری ایسی نہیں جو یورو 5 کی ٹیکنالوجی استعمال کر سکے، ایرانی پیٹرول کا جہاز پکڑا تھا جو ملی بھگت سے پاکستان میں بیچا جاتا رہا، عامر عباسی جو بائیکو ریفائنری کے مالک ہیں جو نیب کو مطلوب ہیں، جو بندہ قانون کا بگوڑا ہو اسکو لائسنس جاری نہیں ہو سکتا،2002ء میں بائیکو کو لائسنس ملا اور 2016ء رولز کے تحت عامر عباسی نے لائسنس کی تجدید نہیں کی، 23 ارب کا الزام ہے اور نیب نے سندھ میں سوا ارب روپے میں پلی بارگین کر لی،فاضل جج نے کہا کہ اس کامطلب ہے ایک بندہ جس پر 23 ارب روپے کا الزام ہے اسے 100 ارب میں دھو کر صاف ستھرا کر دیا، چیئرمین اس طرح کی پریس کانفرنسز کرتے ہیں کہ اتنے پیسے ریکور کر لئے،کمشن کے سربراہ نے مزید کہا کہ 20 فیصد سمگلنگ کا پیٹرول پکڑا جاتا ہے باقی نہیں پکڑا جاتا، بارڈر پر بڑے پیمانے پر سمگلنگ ہوتی ہے، فاضل جج نے کہا کہ اسی لئے لوگ کہتے ہیں کہ جو کوئٹہ تعینات ہوتے ہیں وہ ایک سال بعد ارب پتی بن کر آتے ہیں، 26 جون کو قیمتیں بڑھانے کی منظوری کس نے دی؟26 جون کو ریٹ بڑھانے کی سمری میں کوئی وجہ بھی بتائی گئی تھی؟ کمشن کے سربراہ نے یہ سفار ش کی ہے کہ پی ایس او اور شیل کو مسلسل نقصان ہو رہا تھا، اوگرا نے کچھ نہیں اس کوتحلیل کیا جائے، نئے پیٹرولیم رولز بنائے جائیں اور سٹاک کا معاملہ اس کے تحت رکھا جائے، پیٹرول کی قیمتیں 15 دن کی بجائے 30 دن میں بڑھائی یا کم کی جائیں، ذمہ داروں کیخلاف نیب کا کیس بنایا جائے، فاضل جج نے کہا کہ 100ارب روپے میں تو یہ پلی بارگین کر لیتے ہیں، کمشن کے سربراہ نے مزید کہا کہ شیل کمپنی اگر 6 مہینے یا اس سے زیادہ رہی تو بھاگ جائے گی، شیل کمپنی کے بہترین میکنزم موجود ہیں، بہترین کام کرنے والی کمپنیوں کو سمگلنگ کی وجہ سے نقصان ہو رہا ہے، شیل اور پی ایس او کمپنیوں کی گاڑیوں پر کیمرے لگے ہیں جس سے پتہ چل جاتا ہے کہ پیٹرول کس پمپ پر جا رہا ہے، عدالت میں پیش کی جانے والی کمشن کے سربراہ ابوبکر خدابخش کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ 156 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں کہاگیاہے کہ تحقیق کے مطابق ایران کے بارڈر سے ڈھائی سو ارب کا پٹرول سمگل کیا گیا،رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ایران کے بارڈر سے پٹرول کی سمگلنگ روکنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے،ایران کے بارڈر سے پٹرول سمگلنگ ٹیکس چوری کے مترداف ہے،جولائی کے مہینے میں سمندر میں دو بڑے ایرانی پٹرول کے جہاز پکڑے گئے،ملک بھر میں کوالٹی کنٹرول لیبارٹریز اور ضلعی سطح پر موبائل لیبارٹریز قائم کرنے کی ضرورت ہے،20 فیصد سمگلنگ کا پیٹرول پکڑا جاتا ہے باقی نہیں پکڑا جاتا، اوگرا نے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے اوگرا کو تحلیل کیا جائے، رپورٹ میں مزیدسفارش کی گئی ہے کہ نئے پیٹرولیم رولز بنائے جائیں اور سٹاک کا معاملہ اس کے تحت رکھا جائے،پیٹرول کی قیمتیں 15 دن کی بجائے 30 دن میں بڑھائی یا کم کی جائیں، ذمہ داروں کیخلاف نیب کا کیس بنایا جائے، پٹرولیم سے متعلق رولز چھ ماہ میں مکمل کیے جائیں،پٹرولیم بحران ک ذمے داروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اچانک بڑھانے سے قومی خزانے کو ہونے والے نقصان کی ریکوری کی جائے،پٹرولیم کی سمگلنگ کو فوری طور پر روکا جائے،غیر قانونی پٹرول پمپس کو فوری بند کیا جائے،سمگل شدہ پٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرائے جائیں،کیماڑی سے پورٹ قاسم تک آئل منتقلی کے لئے پائپ لائنز تعمیر کی جائیں،26 جون کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی نیب جیسے تحقیقاتی ادارے سے تحقیقات کرائی جائیں۔عدالت نے مذکورہ بالااحکامات کے ساتھ پٹرولیم بحران سے متعلق درخواستوں پر مزید کاروائی جنوری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے اس بابت بھی تجاویز مانگی لی ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف نیب اور ایف آئی اے کے قوانین کے تحت کیا کاروائی ہو سکتی ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

مزید :

صفحہ اول -