محترم ڈاکٹر قادری کو پرانا مشورہ!

محترم ڈاکٹر قادری کو پرانا مشورہ!
محترم ڈاکٹر قادری کو پرانا مشورہ!

  

عدالت عظمیٰ کی طرف سے ڈاکٹر طاہر القادری کی رٹ خارج کر دی گئی، اس کے بعد محترم نے ردعمل میں جن جذبات کا اظہار کیا ، اِس حوالے سے شعیب بن عزیز کا شعر ہی یاد آتا ہے۔ ”اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں“ جناب قادری کی پاکستان میں تشریف آوری سے قبل جو ویڈیو ملاقات ہوئی۔ اس دوران ہم نے اپنا پرانا فقرہ ہی دہرایا، ان سے درخواست کی کہ وہ پھر سے سیاست کے خار زار میں کیوں آ رہے ہیں بہتر ہے کہ وہ اس کوچہ میں قدم نہ رکھیں اور دینی کام پر ہی توجہ مرکوز کریں۔ 2002ءکے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہوئے پھر مستعفی ہو گئے اور کینیڈا جا کر ڈیرہ جما لیا، کئی کتابیں لکھیں، وہ وہاں بیٹھ کر ویڈیو لنک کے ذریعے یہاں بھی رابطہ رکھے ہوئے تھے، پھر نہ معلوم کیا ہوا کہ وہ یکایک ریاست بچانے کے لئے پاکستان آئے اور آتے ہی ہنگامہ کر دیا۔ ہم نے اول روز ہی سے اعتراض کیا اور مخالفت کی تھی، نتیجہ یہ نکلا کہ تعلق خاطر بھی نہ رہا اور ہمیں ابھی تک شرف نیاز بھی حا صل نہیں ہو سکا۔ بہرحال اب صورت حال واضح ہو گئی ہے۔

محترم ڈاکٹر طاہر القادری کی مہم جوئی کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا اور ابھی بڑی گنجائش باقی ہے۔ وہ آج(جمعتہ المبارک) گوجرانوالہ میں جلسہ ¿ انقلاب کر رہے ہیں، جس سے یہ اندازے غلط ہو گئے کہ وہ عدالت عظمیٰ سے مایوس ہونے کے بعد سیاست سے توبہ کر کے پھر سے دینی کاموں کی طرف متوجہ ہو جائیں گے کہ اصل کام اور مقام اسی سے ہے، لیکن اب یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کے اندر غصہ بھر گیا ہے اور وہ آج دل کے پھپھولے پھوڑ کر ہی رہیں گے۔ بہرحال یہ بھی اُن کا حق ہے، لیکن آج تک کا ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ حضرت گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشا کے مطابق اپنا موقف بدلتے رہتے ہیں۔ اِس سلسلے میں میڈیا نے ان کے تضادات کو واضح کیا ہے خصوصاً جس میڈیا گروپ کی درپردہ حمایت ان کو حاصل تھی، اسی گروپ نے اُن کی بہت زیادہ خاطر تو تواضع بھی کر دی ہے، حالانکہ اِسی گروپ کے ایک انگریزی اخبار کے گروپ ایڈیٹر انہی کے حوالے سے حکومت گرانے کی نئی کہانیاں بنا بنا کر سناتے رہے ہیں۔

جہاں تک محترم ڈاکٹر طاہر القادری کا یہ شکوہ ہے کہ اُن کو میرٹ پر سنا ہی نہیں گیا (ان کا انداز بیان توہین آمیز تھا) اس کے بارے میں گزارش یہ ہے کہ ایس ایم ظفر اور ڈاکٹر خالد رانجھا سمیت آدھی درجن سے زیادہ ماہرین آئین و قانون نے واضح کر دیا تھا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو ممکن نہیں کہ یہ آئینی ادارہ ہے اور ان کا یہ اعتراض کہ چار اراکین کا تقرر غیر آئینی طور پر ہوا بھی مناسب نہیں کہ تقرر ہو چکا، الیکشن کمیشن کام کر رہا ہے اور پارلیمانی کمیٹی نے متفقہ طور پر منظوری دی تھی اور سماعت کو غیر ضروری جانا تھا، لیکن ان کو اپنی قابلیت اور اہلیت پر ناز تھا اسی لئے تو انہوں نے کسی وکیل کی بھی خدمات حاصل نہیں کیں۔ بدقسمتی سے محترم بابر اعوان صاحب ان دنوں معطل لائسنس والے ہیں ورنہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے لئے وہ بہت موزوں تھے کہ شاید وہ واحد شخصیت ہیں، جو اس دلیل کی تائید کر رہے تھے۔ ویسے ان کے بارے میں ایک سینئر کالم نویس نے لکھا اور درست کہا کہ یہ صاحب پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹر ہیں اور پارٹی کی مخالفت بھی کر رہے ہیں، اخلاقی طور پر ان کو سینیٹ سے مستعفی اور پارٹی چھوڑ کر یہ کردار ادا کرنا چاہئے۔ بہرحال دونوں حضرات سے ہمدردی ہی کی جا سکتی ہے کہ ایک موقف ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے کی مدد نہ کر سکے۔

ڈاکٹر طاہر القادری نے23دسمبر2012ءکے جلسہ ¿ عام کے بعد جو انداز اور رویہ اختیار کیا وہ بھی کسی بڑے صاحب علم کو زیب نہیں دیتا تھا۔ ان کا انداز بیاں مسلسل تضحیک آمیز رہا۔ میدان کربلا اور یزیدیت کے ذکر پر بہت بُرا منایا گیا، لیکن وہ جو بزعم ِ خود پیغمبر آخر الزمانﷺ کی قربت کے دعویدار ہیں وہ کب مانتے تھے، بزرگوں کا تو کہنا ہے کہ جس شاخ پر زیادہ پھل لگ جائے وہ جھک جاتی ہے، لیکن یہاں تو علامہ سے شیخ الاسلام بن جانے کے بعد بھی صبر نہ ہوا اور خود کو حسین ؓ ثانی(نعوذ باللہ) ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کر ڈالی، اب عدالت عظمیٰ سے بھی ناکامی ہوئی تو ان کا بلڈ پریشر ہائی ہو گیا ہے۔ اللہ خیر ہی کرے آج کے جلسے میں وہ کچھ اور بھی کر گزرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

آج کے کالم میں مزید لکھنے کی گنجائش کہاں؟ بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے، لیکن محترم نے خود اپنے ساتھ جو کر لیا وہی کافی ہے۔ اب عوامی سطح پر بھی اُن کی جو عزت افزائی ہو رہی ہے، وہ اُن کا اور اُن کے ساتھیوں اور مریدوں کا ہی حوصلہ ہے کہ برداشت کر رہے ہیں۔ ہم ایک بار پھر اپنے برانے نیک مشورے کے ساتھ بات یہاں ختم کرتے ہیں۔ محترم! علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب! واپس لوٹ جایئے، اسی دینی کام کی طرف جو آپ کر رہے تھے، سیاست کا میدان آپ کے لئے نہیں ہے کہ یہاںپگڑیاں اور دستاریں بھی اُچھلتی رہتی ہیں۔   ٭

مزید :

کالم -