لگے گی ناﺅ کہاں گریہ سرزمیں نہ رہی

لگے گی ناﺅ کہاں گریہ سرزمیں نہ رہی
لگے گی ناﺅ کہاں گریہ سرزمیں نہ رہی

  

معروف شاعر ظہور نظر کا ایک قطعہ مجھے رو رو کر یاد آ رہا ہے۔شاید اس لئے کہ آج کل اس قطعہ کے مفہوم کی حمایت ہمارے اردگرد کا ہر ذرہ کبھی خاموش اور کبھی بلند آواز سے کرتا نظر آتا ہے۔قطعہ ملاحظہ کیجئے:

جدید نسل کے دانشورو، قلمکارو!

فصیل ذات کی ڈھاﺅ گراﺅ باہر آﺅ

کرو نہ اپنے ہی اندر کی توڑ پھوڑ پر غور

شکست شہر بھی دیکھو، دکھاﺅ باہر آﺅ

بنیادی طور پر مَیں ایک شاعر اور ادیب ہوں۔مَیں جب کبھی ملکی صورت حال یا معاشرتی شکست و ریخت پر اظہار خیال کرتا ہوں تو ادبی دوست میری اس بات کا بُرا مناتے ہیں اور نصیحت کرتے ہیں کہ مجھے صرف ادب و شعر کے موضوعات تک محدود رہنا چاہیے۔بقول ان کے کسی ادیب یا شاعر کو یہ بات زیب نہیں دیتی کہ وہ اِدھر اُدھر کے موضوعات پر خامہ فرسائی کرتا رہے۔اگر کبھی مَیں نے ان کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی کہ ادب زندگی کا آئینہ ہوتا ہے اور زندگی کسی ایک شعبے تک محدود نہیں ہوتی، ادیب ایک غوروفکر کرنے والے فرد کی حیثیت سے اپنے اردگرد سے بے خبر نہیں رہ سکتا تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ سب فارمولا ادب کی باتیں ہیں۔حقیقت میں ادب صرف فرد کی باطنی زندگی کا اظہار ہے۔ادیبوں،شاعروں نے خود پر کچھ ایسی خود ساختہ پابندیاں عائد کررکھی ہیں کہ ان سے انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے اور نہ معاشرے کو کچھ حاصل ہوتا ہے۔مَیں سمجھتا ہوں کہ ادیبوں،شاعروں کی اکثریت نے ملکی و معاشرتی مسائل پر لکھنے سے اس لئے ہاتھ کھینچا ہوا ہے کہ اس سے ان کے ادبی قدوقامت پر حرف آنے کا احتمال ہوتا ہے۔غیر ادبی موضوعات پر لکھتے ہوئے اپنی دوٹوک رائے کا اظہار کرنا پڑتا ہے۔اس میں شاعری کی رمزیت یا فکشن جیسی افسانویت کی گنجائش نہیں ہوتی، کیونکہ زمانہ مصلحت اندیش کا ہے، اس لئے بھی تخیل کے گھوڑے پر سواری کرنے والے سنگلاخ زمین پر برہنہ پا چلنے کی زحمت نہیں اٹھاتے، حالانکہ ایسا کرنا ان کے منصب کی عین ذمہ داری ہے۔

خواہشات کا منہ زور ریلا بڑی تیزی سے معاشرے کے تمام طبقوں کو بڑی تیزی سے اپنے جلو میں بہائے لئے جا رہا ہے۔ ایک دوسرے کو روندنے اور ایک دوسرے کا حق مارنے کی ایک ایسی دوڑ لگی ہوئی ہے، جس کا کوئی فنشنگ پوائنٹ نہیں ہے۔یہ کہنا خیر ہے تو خیال و خواب کی بات کہ ادیبوں،شاعروں کو اس دوڑ میں حصہ نہیں لینا چاہیے، کیونکہ آخر کو وہ بھی گوشت پوست کے انسان ہیں اور ان کے اردگرد بھی خواہشات نے حلقہ کیا ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود نجانے یہ کیوں خواہش ابھرتی ہے کہ ادیب و شاعر استحصال کی اس جنگ سے دور رہیں اور قلم کی طاقت سے اس کے خاتمے کی کوشش بھی کریں۔شاید اس لئے کہ لے دے کے یہی طبقہ رہ جاتا ہے، جسے دوسروں کے مقابلے میں سوچنے اور غوروفکر کرنے کی بیماری زیادہ لاحق رہتی ہے۔اس کے علاوہ معاشرتی تضادات اور انفرادی مفادات کی معرکہ آرائی دیکھ کر بھی زیادہ تر یہی لوگ جلتے اور کڑھتے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اپنے خیالات سے لوگوں کی رہنمائی کرنے کے بجائے انہیں اپنے باطنی احساس کی نمائش گاہ میں سجا دیتے ہیں ، اس سے ان کی فرسٹریشن تو ختم ہو جاتی ہے، لیکن معاشرے کی فرسٹریشن میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

پچھلے کچھ عرصے سے ملک جس قسم کے حالات کا شکار ہے، اس پر روشنی ڈالنے کی چنداں ضرورت نہیں، کیونکہ ہم میں سے ہر شخص(بشرطیکہ عقل و خرد سے بیگانہ نہ ہو)ان کی شدت،نوعیت اور اثرات سے بخوبی آگاہ ہے۔البتہ یہ ضرور ہے کہ ان حالات کے تسلسل نے بہت سے ذہنوں کو اپنا ہمنوابنا لیا ہے اور وہ یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ تعصبات اور مفادات کے ضمیر سے جنم لینے والے یہ واقعات و حالات قومی و ملکی سطح پر جس زہری فضا کو پروان چڑھا رہے ہیں، وہ بالآخر ہم سب کو اپنا ایندھن بنا سکتا ہے۔نسلی، علاقائی، مذہبی اور طبقاتی تعصب نے جس قدر آج ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، پہلے کبھی نہیں لیا تھا۔ایسے میں ان لوگوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ،جو حالات کو سمجھنے اور اس کی تہہ میں اترنے کی صلاحیت رکھتے اور صاحب الرائے بھی ہیں جہالت صرف لفظ سے عدم واقفیت ہی نہیں ہوتی، بلکہ جب انسان وسعتِ نگاہ سے محروم ہو جائے یا اجتماعی دائروں کو چھوڑ کر تنگ گروہی دائروں کو ترجیح دے، تب اس کی کم علمی اور کم فہمی ثابت ہو جاتی ہے۔لیڈری چمکانے کے شوقین افراد نے لوگوں کی اکثریت کے اس پہلو سے فائدہ اٹھا کر معاشرے کو یرغمال اور عوام کو اپنا آلہءکار بنا رکھا ہے۔کسی کو مہاجر، کسی کو مقامی،کسی کو پختون، کسی کو پنجابی اور کسی کو سندھی یا بلوچی قومیت کے محدود دائروں میں اُلجھا کر اس عظیم دائرے سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے، جسے پاکستانیت کہتے ہیں۔مَیں یہ نہیں کہتا کہ نسل یا مذہبی و علاقائی تعصب کو عام کرنے والے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر آگے آئے ہیں۔بلاشبہ یہ ماضی کے غلط فیصلوں اور چور دروازے سے اقتدار میں آنے والے حکمرانوں کے ادوار میں پیدا ہونے والی خرابیاں ہیں کہ جن سے اس طبقے کو آگے آنے کا موقع ملا اور انہوں نے معاشرے کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔

مَیں سمجھتا ہوں کہ اس بحث میں اُلجھنے کی بجائے کہ آج ہم اس حال تک کیوں پہنچے ہیں کہ جب ہمیں فکر معاش نے بھی گھائل کررکھا ہے اور امن بھی معاشرے سے رخصت ہوگیا ہے۔ ریاستی ادارے اپنی طاقت منوانے میں ناکام نظر آتے ہیں اور حکومت کی رٹ ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی ہے، اس پہلو پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے کہ ملک کو انتشار و افتراق سے کیسے بچایا جا سکتا ہے۔اس فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہوا تو ہمارے چھوٹے چھوٹے حوالے اور مفادات حرفِ غلط کی طرح مٹ جائیں گے۔معاشرے کے اہلِ فکرو نظر، دانشوروں اور ادیبوں، شاعروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک طرف قومی یکجہتی کی اہمیت کو ابھارنے کے لئے اپنا زور قلم صرف کریں اور دوسری طرف ملک کو درپیش مسائل کے حل کی عملی تجاویز بھی سامنے لائیں، جن پر عمل پیرا ہو کر، ملک کو درپیش چیلنجوں سے چھٹکارہ دلایا جا سکے۔فکری و معاشرتی انتشار کے اس دور میں اہلِ فکر و نظر کی ملکی و قومی مسائل سے چشم پوشی یا عدم توجہی ایک طرح کا مجرمانہ فعل ہے۔ اس وقت ایک عام پاکستانی کی زبان پر بھی یہ سوال زیرگردش رہتا ہے کہ ”پاکستان کا کیا بنے گا“؟ اس سوال کے پس پردہ بے یقینی کا جو گہرا تاثر نظر آتا ہے، اسے دور کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔مجھے اس وقت شدید کوفت ہوتی ہے ،جب ٹی وی ٹاک شوز میں کسی مسئلے کا حل پیش کرنے کی بجائے لایعنی بحث کے ذریعے سیدھے سادے معاملے کو الجھا دیا جاتا ہے۔سرسید احمد خان اور ان کے رفقاءنے اپنے عہد میں جو فکری تحریک چلائی تھی، اس کا مطمح نظر بھی اتحادو اتفاق پیدا کرکے مسلمانوں کو ایک طاقت میں ڈھالنا تھا۔اب پھر ایسی ہی تحریک کی ضرورت ہے ،جس میں اہلِ قلم، اہلِ فکر و دانش کو ہر اول دستے کا کردار ادا کرنا ہے۔سیاسی رہنماﺅں کو ہم نے دیکھ لیا ہے کہ وہ قوم کو تقسیم کرتے ہیں، اسے جوڑتے نہیں، جبکہ فی زمانہ قوم کو چھوٹے چھوٹے دائروں سے نکال کر پاکستانیت کے وسیع دائرے میں لانے کی ضرورت ہے اور یہ کام فکری تحریک اور رہنمائی کے بغیر ممکن نہیں۔یہاں میں ظہور نظر کا ہی ایک قطعہ درج کرکے اپنی بات ختم کرتا ہوں۔

پناہ کشتی ءبے رُخ میں ڈھونڈنے والو

پکارتا ہے زمیں کا کٹاﺅ باہر آﺅ!

لگے گی ناﺅ کہاں گر یہ سرزمیں نہ رہی

اب اس کو اور نہ کٹنے دو آﺅ، باہر آﺅ

مزید :

کالم -