اے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

اے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
اے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

  

 ابھی انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہیں ہوا ہے لیکن انتخابی اتحادوں کی آبیاری شروع کر دی گئی ہے۔ پنجاب میں ابھی انتخابی اتحاد کی بنیادیں بنانے کی کوشش جاری ہیں لیکن سندھ کی حد تک مسلم لیگ فنکشنل اس کی بنیاد ڈال چکی ہے۔ حال ہی میں فنکشنل نے پیپلز پارٹی مخالف تمام جماعتوں کو یکجا کرکے اتحاد کے باضابطہ اعلان کے ساتھ یک نکاتی ایجنڈ ہ دے دیا ہے کہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مشترکہ امیدوار کھڑے کئے جائیں گے۔ اس اتحاد کے سربراہ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارو ہیں۔ حیدرآباد میں 14 دسمبر کے جلسے سے قبل سے ہی پیر پگارو سندھ میں پیپلز پارٹی مخالف عناصر کے لئے ایک ایسا محور بن کر سامنے آئے ہیں جنہیں سب قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔ فنکشنل لیگ، ن لیگ، جماعت اسلامی، جمیعت علماءاسلام ، جمیعت علماء پاکستان، سندھ یو نائٹڈ پارٹی، سندھ ترقی پسند پارٹی، نیشنل پیپلز پارٹی، عوامی تحریک، سنی تحریک کے رہنماﺅں نے اس اتحاد کی تائید کی ہے ۔ اس اتحاد کو پیر پگارو سندھ دوست قوتوں کا اتحاد قرار دیتے ہیں۔

پیپلز پا رٹی بھی اپنی صف بندی کر چکی ہے لیکن سندھ کی سیاست کو سمجھنے والے مصر ہیں کہ ابھی حتمی صف بندی کی گنجائش ہے کیوں کہ جیسے ہی نگراں حکومت قائم ہوگی ان کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی میں دراڑ آئے گی جو نئے سرے سے امیدواروں کی قطار بنانے کا سبب بنے گی۔ پیپلز پارٹی کے لئے سن 13کا انتخاب کئی لحاظ سے اہم ہوگا کہ پارٹی یہ انتخاب کسی بھٹو کی غیر موجودگی میں لڑے گی اسی لئے تو پارٹی کے ایک حلقے میں بوجوہ دو نئے نعروں کو متعارف کرایا گیا ہے۔ ایک زرداری سب پر بھاری، اب کی باری، پھر زرداری ۔ اس نعرے کو اتنا عام کیا گیا ہے کہ لوگ بھٹو کے بغیر بھی انتخاب میں حصہ لینے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہیں۔ پارٹی کی اپنی سیاسی اساس اب کسی طرح بھی وہ نہیں رہی جو اس کے قیام کی وجہ تھی یا وہ بھی نہیں رہی جو بھٹو کی پھانسی کے بعد تھی۔ البتہ پارٹی میں ابھی تک وہ دم خم موجود ہے جو کسی بھی سیاسی جماعت کی انتخابات میں کامیابی کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ اس کے کارکن اور اس کے پاس ایسے طاقت ور امیدوار جو اپنے مخالف امیدوار کا ہر ہر محاذ پر مقابلہ کر سکیں اور اپنی کامیابی کی قوت رکھتے ہوں۔ پارٹی کسی بھی حلقے میں کوئی ایسا قدم اٹھانے پر تیار نہیں ہے جو اس کے لئے خمیازہ کا سبب بن سکے۔ اسی لئے بھاری بھر کم اور مالی لحاظ سے مستحکم امیدواروں کی قطار بنائی گئی ہے۔

پیر پگارو بذات خود اپنے منظم مریدیں کی وجہ سے طاقت ور ہیں، مالی طور پر نہایت مستحکم ہیں اور ان کے پاس مریدین میں ایسے امیدواروں کی کمی نہیں ہے جو کسی مالی اعانت کے محتاج نہیں ہیں بلکہ اپنے مرشد کے اشارے کے منتظر رہتے ہیں لیکن فنکشنل کی یہ قوت مخصوص حلقوں تک محدود ہے اور ان حلقوں میں فنکشنل اپنے ہی نامزد امیدواروں کو کھڑا کرنے کو ترجیح دے گی۔ وہ کیوں کوئی ایسا قدم اٹھائے گی جو اس کے لئے کسی مرحلے پر بھی مشکل کا سامان پیدا کر سکے۔ جہاں تک پیر پگاروکے ساتھ اتحاد کرنے والی جماعتوں کا معاملہ ہے تو بیشتر فنکشنل والی خصوصیات کے فقدان کا شکار ہیں ۔ جمیعت علماءاسلام فضل الرحمان گروپ مدرسوں کی حد تک چند علاقوں میں افرادی قوت کی حامل ضرور ہے لیکن وہ قوت ایسی نہیں جو کسی بھی ایک حلقے میں اپنی قوت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کر سکے ۔ جمیعت علماءپاکستان شہری علاقوں میں بھی ایسی افرادی قوت نہیں رکھتی جو قومی یا صوبائی اسمبلی کے امیدوار کی کامیابی کی ضمانت بن سکے ۔ جماعت اسلامی کا معاملہ بھی کچھ مختلف نہیں ہے۔ قوم پرست عناصر شہری اور دیہی علاقوں میں مقبولیت رکھتے ہیں نہ ہی مظبوط امیدوار۔ امیدوار کے پاس پیسہ اور افرادی قوت نہ ہو تو اس کی کامیابی کے امکانات روشن نہیں ہوتے ہیں۔ تمام جماعتوں کا متفقہ امیدوار ہو اور ہر حلقے میں براہ راست مقابلے ہوں تو ہی کامیابی کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی ہو یا متحدہ قوی موومنٹ ، ان کے مد مقابل امیدوار کے ووٹ تقسیم ہوں گے تو ظاہر ہے نقصان بھی ان ہی کا ہوگا۔ سندھ میں عوامی تحریک کے رہنماﺅں نے حالیہ ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ عوامی تحریک قومی اسمبلی کی 12 اور صوبائی اسمبلی کی 27 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔ یہ اعلان انتخابات کی تاریخ سے قبل ہی تنہا پرواز کرنے کی خواہش کا اظہار ہے۔

انتخابی حربے اور عوامل اور اثاثے بے اختیار انداز اور طریقوں سے استعمال کئے جائیں گے کہ کامیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ایک طرف مارو مر جاﺅ کی فضا پیدا کی جارہی ہے تو دوسری طرف لوگوں کی بڑی تعداد یہ پوچھ رہی ہے کہ آخر انتخابات کے صورت میں پھر ان ہی لوگوں کا انتخاب ہونا ہے تو پھر انہیں کیا پڑی کہ و ہ ووٹ ڈالنے جائیں۔ ایسے لوگوں کو بہر حال سیاسی جماعتوں کو ہی قائل کرنا چاہئے کہ وہ اپنی پسند کے امیدوار کو ووٹ ضرور ڈالیں خواہ نتیجہ ان کے امیدوار کے حق میں نکلے یا نہیں۔ پنجاب میں کیفیت مختلف نظر آتی ہے۔ وہاں پیپلز پارٹی، ن لیگ، تحریک انصاف اور اب ایک اور قوت پاکستان عوامی تحریک کی صورت میں سامنے ہے۔ پنجاب میں سہ فریقی مقابلوں میں کامیابی کا انحصار ووٹر کی خواہش پر ممکن ہے۔ ن لیگ اور تحریک انصاف نے لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کی ہیں۔ کسی شاعر نے کہا ہے :

کوئی ہو سکتا ہے قاتل صف یاراں میں

اور کوئی ہمدرد سرِ دار بھی ہو سکتا ہے

نفیسہ ہود بھائی ایک پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے کراچی میں ڈان اخبار سے اپنی صحافت کا ٓغاز کیا۔ گزشتہ دس سال سے امریکہ میں مقیم ہیں۔امریکہ میں قیام کے دوران انہوں نے ایک کتاب ©©” اب ورڈ دی ڈیمو کریسی ٹرین “ (aboad the Democracy Train)لکھی ہے۔ جس میںانہوں نے پاکستان میں جمہوریت کے سفر کا نقشہ کھینچا ہے ۔ اپنی کتاب کی رونمائی کے موقع پر وہ اپنے تجربہ کی بنیاد پر کہتی ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کو بہت ساری مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا رہتا ہے اور یہ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ جہاں جہاں رکاوٹیں پائیں، انہیں دور کرنے کی کوشش کریں۔ نفیسہ نے اپنی صحافت کے دوران جن واقعات کو انتہائی قریب سے دیکھا ہے اور ان کے پس منظر سے بھی آگاہ ہیں ۔ پاکستان میں عام لوگوں کے لئے یہ ناممکنات میں سے ہے کہ وہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی لمیٹیڈ کمپنی کی صورت اور خاندانی وراثت کی شکل اختیار کر لینے سے پیدا شدہ صورت حال میں اس جمہوریت کو فروغ دینے میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ کریں جس سے صرف دولت مند افراد ہی استفادہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ نفیسہ ہود بھائی اسے ایک اچھا شگون تصور کرتی ہیں کہ کہ عوام کی منتخب حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے کا موقع ملا اور لوگوں سے امید رکھتی ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات میں اپنی پسند کے نمائندوں کو منتخب کریں گے ۔ خواہش کا اظہار کرنے کا حق تو سب کو حاصل ہے لیکن اس تماش گاہ کے حالات میں اپنی پسند کا نمائندہ منتخب کرنا نا ممکن عمل ہے۔ فیض احمد فیض کہتے ہیں:

ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

 ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی

 نجات دیدہ دل کی گھڑی نہیں آ ئی

 چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

مزید :

کالم -