یہ امریکی قاتل....!

یہ امریکی قاتل....!
یہ امریکی قاتل....!

  

آج صبح(13 فروری2013ئ) کے اخبارات میں یہ خبر جلی حروف میں شائع ہوئی کہ امریکہ کا وہ کمانڈو کہ جس نے 2 مئی2011ءکو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو سر میں تین گولیاں مار کر قتل کیا تھا، آج امریکہ میں پریشان حال پھر رہا ہے اور در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ اس نے حال ہی میں ایسکوائر(Esquire) میگزین میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے اپنا نام نہیں بتایا اور القاعدہ کے خوف سے تقریباً دو برسوں سے اپنی شناخت پوشیدہ رکھی ہوئی ہے، لیکن اب وہ آخر کار زبان کھولنے پر اس لئے مجبور ہوا کہ اس نے چونکہ وقت سے پہلے اپنی یونٹ، نیوی سیل (NAVY SEAL)کو خیر باد کہہ دیا تھا۔ اس لئے نہ اسے پنشن ملی، نہ ہیلتھ انشورنس اور نہ ہی خود اس کو اور اس کے اہلِ خانہ کو کوئی سیکیورٹی فراہم کی گئی، جس کے نتیجے میں اس کی بیوی بھی اس کا ساتھ چھوڑ گئی ہے اور وہ خانماں برباد ہو کے رہ گیا ہے....

فارن پریس نے یہ سٹوری شاید کچھ اور مقاصد کے لئے بریک کی ہوگی، لیکن اپنے میڈیا میں ایسے لگتا ہے کہ مرحوم اسامہ بن لادن کے قاتل کا یہ انجام بیان کر کے پاکستانی عوام کی اکثریت کو ایک گونہ سکون اور نفسیاتی طمانیت حاصل ہوئی ہے۔ گویا ہمارے نزدیک جیسی کرنی، ویسی بھرنی، کی ضرب المثل کی ”صداقت“ ایک بار پھر سامنے آگئی ہے۔

متذکرہ بالا سٹوری کے علاوہ دو روز قبل فارن میڈیا میں ایک اور سٹوری بھی بریک کی گئی تھی، جس میں ایک امریکی سنائپر کرس کائل(Chris Kyle) کا ذکر تھا کہ جس نے عراق کی حالیہ جنگ میں ایک اکیلے 255 عراقی خواتین، مردوں اور بچوں کو چن چن کر ہلاک کر دیا تھا۔ کسی بھی جنگ میں اتنے زیادہ لوگوں کو ایک ایک کر کے ہلاک کرنے کا عالمی ریکارڈ بھی اس نے قائم کیا، وہ جب 12 فروری 2013ءکو اپنے ہی ایک ”گرائیں“ کے ہاتھوں مارا گیا تو امریکہ نے اپنے اس عظیم قاتل کو عظیم ہیرو کا خطاب دیا اور اس کے جنازے کا جلوس اتنا طویل تھا کہ آج تک کسی بھی دوسرے امریکی VIP کے ماتمی جلوس کے مقابلے میں ایک ریکارڈ ہے....

اسامہ بن لادن اور اس کے قاتل کی داستانیں تو اکثر میڈیا میں رپورٹ ہوتی رہی ہیں، لیکن اس ”عظیم قاتل“ کی خبر شائد ہی ہمارے کسی پریس یا الیکٹرانک میڈیا پر آئی ہو.... جی چاہتا ہے، اس کے بارے میں قارئین کو تھوڑی بہت آگہی دوں۔

پہلے اس کی اپنی خود نوشت ”امریکن سنائپر“ (American Sniper) سے اس کی زندگی کے بارے میں چند حقائق:

وہ اپریل1974ءمیں ایک امریکی ریاست (ٹیکساس) کے شہر اوڈیسہ میں پیدا ہوا۔ باپ ایک معمولی سکول ماسٹر تھا۔ جب کائل8 برس کا ہوا تو والد صاحب نے بیٹے کو بولٹ ایکشن والی سپرنگ فیلڈ رائفل خرید کر دے دی۔ ذرا اور بڑا ہوا تو شاٹ گن خرید دی جس سے باپ بیٹا دونوں چکوروں، تیتروں اور ہرنوں کا شکار کیا کرتے تھے۔

سکول کی تعلیم سے فراغت کے بعد اسے گھڑ سواری کا شوق چرایا، لیکن بہت جلد ایک بازو تڑوا بیٹھا، جس میں ایک راڈ(Rod) ڈالنا پڑا۔ کسی دوست نے اسے نیوی سیل(SEAL) میں بھرتی ہونے کا مشورہ دیا، لیکن بازو میں راڈ کے سبب اس کی درخواست مسترد کر دی گئی۔ تاہم بعد ازاں”از راہِ ضرورت“ 1999ءمیں کہ جب اس کی عمر 25 برس کی تھی، اسے امریکی بحریہ کے لئے منتخب کر لیا گیا اور اس طرح آخر کار اسے نیوی سیل کی ٹیم نمبر 3 میں پوسٹ کر دیا گیا۔

قارئین کو معلوم ہوگا کہ امریکی بحریہ میں (SEAL) ایک ایسی یونٹ ہے جو سپیشل/ گوریلا آپریشنوں کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ یہ لفظ SEAL دراصل سمندر(SEA)، فضا(Air) اور گراو¿نڈ(Land) فورسز کے اولین حروف کو ملا کر وضع کیا گیا۔ لفظSEA کے پہلے دو حروف یعنی SE اس لئے سیل کا حصہ بنائے گئے کہ سیل کی ٹریننگ میں سمندری آپریشنوں کا حصہ غالب ہوتا ہے۔ اسی لئے اس فورس کا نام ”نیوی سیل“(NAVY SEAL) رکھا گیا۔ یہ وہی نیوی سیل والے تھے، جنہوں نے 2 مئی 2011ءکو ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاو¿نڈ پر شب خون مار کر انہیں ہلاک کر دیا تھا.... کائل نیوی سے بطور چیف پیٹی آفیسر ریٹائر ہوا جو پاک آرمی میں صوبیدار میجر کے برابر رینک ہے۔

1999ءمیں امریکی بحریہ جوائن کرنے کے بعد جلد ہی عراق کی جنگ شروع ہوگئی اور کائل کو ایک سنائپر کی حیثیت میں نیوی سیل ٹیم نمبر 3 میں بغداد بھیج دیا گیا۔ سنائپر کا مفہوم ہے ”ماہر نشانہ باز“.... یہ لوگ چھپ کر دشمن پر گھات لگاتے ہیں اور پہلے ہی فائر میں دشمن کا کام تمام کر دیتے ہیں۔ ان کا نشانہ بہت کم خطا جاتا ہے۔

ہماری پاکستان آرمی میں بھی ہر سال سنائپنگ(Sniping) کے مقابلے ہوتے ہیں۔ یہ مقابلے ڈویژنل سطح پر منعقد کئے جاتے ہیں اور ڈویژن میں جس یونٹ کا ماہر نشانہ باز(Sniper) کوئی نمایاں پوزیشن حاصل کرتا ہے تو اسے باقاعدہ ٹرافی اور دیگر انعامات اور سرٹیفکیٹ دئیے جاتے ہیں۔ جس یونٹ کے سنائپر ایک سے زیادہ بار یہ مقابلہ جیتتے ہیں، پورے ڈویژن میں اس کے فائرنگ سٹینڈرڈ کا چرچا ہو جاتا ہے۔

ہم چیف پیٹی آفیسر صوبیدار میجر کائل کی بات کر رہے تھے....اس کا پہلا شکار ایک عراقی خاتون تھی، جس کے پیچھے پیچھے اس کا ایک چھوٹا سا بیٹا بھی چلا آ رہا تھا۔ عورت کے ہاتھ میں ایک دستی بم پکڑا ہوا تھا اور اس کے اردگرد امریکی سولجر کھڑے تھے۔ کائل کے دل میں پہلا خیال یہ آیا کہ اس کا ہدف ایک ایسی صنفِ نازک ہے جو اپنے ملک کی آزادی پر اپنی جان نچھاور کر رہی ہے۔ وہ اپنی خود نوشت میں اپنے اس اولین ٹارگٹ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:”مجھے خیال آیا کہ اگر میں اس پر فائر نہیں کرتا تو یہ میرے ہم وطن امریکی سولجرز کو ہلاک اور زخمی کر کے خود بھی موت کو گلے لگا لے گی۔ یہ خیال آتے ہی مَیں نے اپنے احساسِ ہمدردی کو یکسر ذہن سے نکال دیا۔ ٹریگر دبایا اور اگلے ہی لمحے وہ صنفِ نازک زمین پر گر کر تڑپنے لگی“۔

دوسری بار اسے رامادی(Ramadi) میں تعینات کیا گیا، جہاں اس نے اتنے زیادہ عراقیوں کو قتل کیا کہ لوگوں نے اس کا نام ”رامادی کا شیطان“ رکھ دیا.... یہ رامادی، بغداد کے نواح میں ایک جدید آبادی کا نام ہے۔

 اس کے بعد کائل کی، تیسری پوسٹنگ”صدر سٹی“ عراق میں ہوئی جس کے دوران اس نے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ وہ کسی جگہ گھات لگا کر بیٹھا تھا کہ تقریباً 2100 گز(1.9 کلو میٹر) کے فاصلے پر اسے راکٹ لانچر سے مسلح ایک عراقی نظر آیا جو امریکی فوج کی ایک کانوائی پر حملہ کرنے والا تھا۔ کائل کی مہارت کی داد دینی چاہئے کہ اس نے اتنے زیادہ فاصلے سے فائر کر کے اس ”راکٹ لانچر بدست“ عراقی کو ہلاک کر دیا۔ یہ فائر جس رائفل سے کیا گیا وہ LOPUS MAGNUM PGM. 338 کے نام سے جانی جاتی ہے اور ماہر نشانہ بازوں کے قبیلے میں بڑی شہرت رکھتی ہے۔ اس عراقی جنگ میں اس پر دوبار قاتلانہ حملے بھی ہوئے اور چھ بار وہ خانہ ساز بارودی سرنگوں (IED) کے دھماکوں سے بھی بال بال بچا۔

2009ءمیں دس برس کی سروس کے بعد کائل نے بحریہ سے ریٹائرمنٹ لے لی اور اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ ریاست ٹیکساس میں جا بسا۔ وہاں جا کر اس نے ایک سیکیورٹی فرم کھول لی اور سیکیورٹی گارڈز کو سنائپنگ کی ٹریننگ دینے لگا۔

 ابھی دس بارہ روز پہلے 2 فروری 2013ءکو وہ اپنے ایک دوست لٹل فیلڈ کے ہمراہ ٹیکساس کے ایک شوٹنگ رینج پر ٹریننگ دے رہا تھا کہ کسی نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

 جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو خبریں آ رہی ہیں کہ اس کے جنازے کے ساتھ اتنے زیادہ لوگ جمع ہو رہے ہیں، جس کی مثال امریکہ کی تاریخ میں خال خال ہی ملتی ہے۔

قارئین کرام! اس میں کوئی شک نہیں کہ جنگ میں رحم، ہمدردی، مروت اور اخلاق کے معانی بدل جاتے ہیں، لیکن جنگ میں بھی صرف آپ اس دشمن پر گولی چلاتے ہیں جو آپ پر وار کرنے کے لئے پَر تول رہا ہو۔ سنائپر(Sniper) یا شارپ شوٹر خود تو (دور بین کے ذریعے) دشمن کو دیکھ سکتا ہے اور اسے رینج میں لے آتا ہے، لیکن اس کا دشمن یعنی دوسرا فریق اسے نہیں دیکھ پاتا.... چنانچہ ایسے انسان کو نشانہ بنانا جو آنے والے خطرے سے کاملاً بے خبر ہو، انتہائی سنگدلی ہے۔ لیکن امریکی فوجیوں کے ضابطہءاخلاق میں یہ سنگدلی، عین ”کارِ ثواب“ ہے۔ اسی لئے تو وہ ڈرون حملوں پر بھی بڑی باقاعدگی اور ڈھٹائی سے کاربند ہیں۔ ان کو نظر آ رہا ہوتا ہے کہ کسی مکان کے صحن میں معصوم بچے کھیل رہے ہیں اور عورتیں بیٹھی دھوپ تاپ رہی ہیں، مگر وہ ڈرون کا بٹن دبا کر میزائل فائر کرتے ہوئے بالکل نہیں ہچکچاتا.... یہ درندگی، انسانی شرف کے باب میں بزدلی کی انتہا ہے۔

اگر آپ کسی توپ سے یا کسی بمبار طیارے سے گولہ باری کرتے ہیں تو کم از کم یہ تو ہوتا ہے کہ آپ پوائنٹ ٹارگٹ پر نہیں، بلکہ ایریا ٹارگٹ پر فائر کرتے ہیں جو آپ کو نظر بھی نہیں آتا۔ گویا آپ بہ نفسِ نفیس اپنی آنکھوں سے دیکھ کر گولہ باری نہیں کرتے۔ اس لئے یہ فعل زیادہ قبیح اور شنیع نہیں گردانا جاتا.... مگر کرس کائل اور اسامہ بن لادن کے قاتل نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر نہتے اہداف پر نشانے باندھے۔ کرس کائل کا یہ انجام کہ اس کے ایک ساتھی نے اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا، عین تقاضائے فطرت تھا.... اس تقاضے کا سکیل اگر وسیع کر دیا جائے تو آج نہیں تو کل ساری کی ساری امریکی قوم اپنے ہی دوستوں اور بظاہر بہی خواہوں کے ہاتھوں ماری جائے گی۔ اس پیشگوئی کو پورا ہونے میں وقت کا فاصلہ ضرور حائل ہے، لیکن فطرت کے اصول اٹل ہوتے ہیں۔ آنے والے کل کا انتظار طول تو کھینچ سکتا ہے مگر اسے ٹالا نہیں جاسکتا۔

مزید :

کالم -