گیلانی کی قربانی،زرداری کا بوسہ

گیلانی کی قربانی،زرداری کا بوسہ
گیلانی کی قربانی،زرداری کا بوسہ

  

اعتزاز احسن کہتے ہیں ”یوسف رضا گیلانی سے زیادتی ہوئی، ویسے تو عدالت عالیہ ازخود نوٹس لیتی رہتی ہے ، گیلانی صاحب کی شنوائی کے لئے بھی نوٹس لینا چاہئے“۔ اب عدالت عالیہ ان کی شنوائی کرتی ہے یا نہیں بعد کی بات ہے ۔پہلا سوال یہ ابھرتا ہے گیلانی صاحب کا قصور کیا تھا جو انہیں یوں بیک جنبش قلم عوام اور پارٹی کی جانب سے تفویض کردہ ذمہ داریاں نبھانے سے روک دیا گیا؟۔ گیلانی صاحب سمجھتے تھے آصف علی زرداری کو بحثیت صدر مملکت استثنی حاصل ہے لہذا سوئس حکومت کو خط لکھنے سے پاکستان کی سبکی ہوگی۔ لیکن دوسرے ”کئی“ فریق یہ موقف تسلیم کرنے پر تیار نہیں تھے۔ حیرانگی تو اس امر پر ہے کہ اک سیدھے سادے، تسلیم شدہ عالمی حق کو اس قدر متنازع بنا دیا گیا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پاکستان بھر کے مسائل خط لکھنے سے حل ہو جائیں گے۔ درجنوں نیوز چینلز پر نت نئی ٹوکریاں سجانے والوں نے بھی ایسے ایسے ”لاجواب“ قانونی نکتے نکالے کہ عالمی عدالتوں میں پیش ہونے والے پاکستانی وکلاءبھی ششدر رہ گئے۔ ۔۔۔۔لیکن پھر آخر میں کیا ہوا؟۔ سبکی اور وہ بھی ایسی زبردست کہ سبھی کو سانپ سونگھ گیا۔ اب اس ”آزاد“ اور ”سچ“ کی تلاش میں مجہولوں کی طرح بیابانوں میں ٹھڈے کھاتے میڈیا کو چاہئے گیلانی صاحب کی قربانی کا ذکر بھی زوروشور سے کرے۔ ۔۔لیکن میڈیا ایسا نہیں کرے گا؟۔ اس لئے کہ اسے ہر صاحب اقتدار حکومت کرپٹ نظر آتی ہے۔ ہر معروف لیڈر کی بے عزتی کرنا ٹی وی چینلز والے حق سمجھتے ہیں۔ خدشہ تو یہ ہے قومی اداروں کے سربراہان کو جس تمسخرانہ انداز میں ٹی وی سکرینوں پر پیش کیا جا رہا ہے وہ عوام میں ریاستی اداروں کے خلاف نفرت انگیزی بھر کر رکھ دے گا۔ آج آصف علی زرداری ، یوسف رضا گیلانی زیر عتاب ہیں۔ کل کو یہی میڈیا میاں نواز شریف، شہباز شریف کی کردار کشی شروع کر دے گا۔ جن قومی مفادات کو ”زک“ پہنچانے کا الزام لگا کر سیاستدانوں کی بے عزتی کی جاتی ہے بعض اوقات اس کے پیچھے اناءاور مفادات جیسے عناصر بھی چھپے ہوتے ہیں۔ کئی صحافی اس وجہ سے مخالفت پر اتر آتے ہیں کہ انہیں فلاں تقریب میں مدعو کیوں نہیں کیا گیا۔ کسی کو سلام کا جواب نہ ملنے کا رنج ہوتا ہے۔ کئی غیر ملکی دوروں سے محرومی کو وجہ عناد بنا لیتے ہیں۔ دیار غیر میں ”پرواز“ کرتے ایک صحافی نے تو آصف علی زرداری صاحب سے باقاعدہ سفیر کا عہدہ بھی طلب کر لیا تھا۔ دوسری طرف سے انکار ہوگیا۔ بس اسی گھڑی سے وہ پرانے تجزیہ کار اور نئے نئے کالم نگار پیپلز پارٹی کے دشمن بن چکے ہیں۔ وہ لگاتار کئی سالوں سے ”نادیدہ“ قوتوں کو مخاطب کرتے ہوئے اصرار کر رہے ہیں ”گناہ گاروں“ کا یہ ٹولہ اگر ملک سے بھاگ نکلا تو ذمہ داری ان پر عائد ہوگی۔

کچھ حضرات اس بات پر بھی مرے جا رہے ہیں پیپلز پارٹی کی حکومت نہ صرف عرصہ اقتدار مکمل کرنے جا رہی ہے بلکہ اگلی ٹرم کے لئے بھی زبردست انداز میں پتے کھیل چکی ہے۔ یہ حضرات آصف علی زرداری کی لاہور والی رہائشگاہ کی تعمیر پر بھی خفاءہیں۔ انہیں اس بات پر بھی شدید پریشانی ہے پارٹی کی خاطر وزیراعظم کے عہدے سے قربانی دینے والے یوسف رضا گیلانی کو، زرداری صاحب نے صوفے پر اپنے اور بلاول بھٹو کے درمیان کیوں بٹھایا تھا؟۔ انہیںاس بات کی بھی فکر کھائے جا رہی ہے سندھی سیاستدانوں کا ایک طاقتور گروپ پنجابی یوسف رضا گیلانی کی قربانی کو انتہائی عزت کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے اور یہ تجویز بھی زیر گردش ہے جب بھی موقع ملا، بھلے کچھ عرصے کے لئے ہی سہی ، گیلانی صاحب کو دوبارہ وزیر اعظم بنایا جائے گا۔ کچھ حضرات کو اس بات پر بھی اینٹھن ہے کہ زرداری صاحب نے شوکت بسرا کی عیادت کرتے ہوئے شفقت بھرے انداز میں بوسہ کیوں لیااور پوچھا”میرے لائق کوئی حکم؟“۔ پاکستان بھر کی سیاسی جماعتوں میں میاں نوازشریف، آصف علی زرداری اور الطاف حسین جیسے لیڈر خال خال ہی نظر آتے ہیں جو نہ صرف کارکنوں کو عزت دیتے ہیں بلکہ پذیرائی بھی۔ باقی کئی ایک تو ایسے بھی ہیں جو کارکنوں کو محض ہاتھ ملاتے ہی ٹرخا دیتے ہیں۔

 عزیز دوست آدم خان کہتے ہیں رائی کا پہاڑ بنانے پر تلا میڈیا کئی سال سے ایک خطرناک پریکٹس میں مبتلا ہوچکا ہے۔ پہلے کسی کو مظلوم بنایا جاتا ہے۔ پھر یکدم ظالم دکھلا کر ”حقیقت“ بے نقاب کی جاتی ہے۔ ایک ہفتہ لوگ کسی کو سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔ نم آلود آنکھوں ، گلوگیر لہجے میں اسے محسن قرار دیتے ہیں، پھر اگلے ہفتے انہیں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ یہ” محسن“ انتہائی خبیث اور ملک دشمن ٹائپ انسان ہے۔ پھر اس غدار کے انڈیا، اسرائیل، امریکہ اور قادیانیت سے روابط کی باتیں بذریعہ ایس ایم ایس مارکیٹ میں پھیلا دی جاتی ہیں۔ بیچارہ محسن شکل چھپائے پھرتا ہے اور میڈیا نئے شکار کی تلاش میں مکڑی کی مانند جالا بن کر اونگھنے لگتا ہے۔ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ الیکٹرانک میڈیا کے کثیر حصے نے پہلے پہل عوام کو باور کروایا”انداز ٹھیک نہیں لیکن باتیں بالکل درست ہیں“۔ چند ہی ہفتوں بعد میڈیا کو ہوش آیا اور کہا”نہیں نہیں اس جھوٹے خواب بیان کرنے والے پر یقین نہیں کیا جا سکتا“۔ بس پھر اسٹارٹ ہونے کی دیر تھی۔ ایسی ایسی سازشی تھیوری ڈاکٹر صاحب کے سر تھونپی گئی کہ غیر جانبدارانہ صحافت کے چیتھڑے اڑا کر رکھ دیے گئے۔ بد اعتمادی کا کلچر صحافیوں میں بھی سرایت کر چکا ہے۔ ڈاکٹرصاحب چلاتے رہے ان کے پیچھے کوئی نہیں۔ لیکن میڈیا زور لگاتا رہا ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی ”وہ“ ضرور موجود ہے۔ اس وہ کی بنیاد پر ہی ڈاکٹر صاحب پر اس قدر ذاتی حملے کئے گئے جس کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ ایک ”حملہ آور“ کالم نگا ر و اینکر نے جو بات شروع کرنے سے قبل سب سے پہلے خود کو ملامت کرتے ہیں، ڈاکٹر صاحب کو اس عالمی ”وہ مافیا“ کا مہرہ قرار دیا جو پاکستان میں دو سے تین سال کے لئے ایماندار نگران سیٹ اپ دیکھنا چاہتا ہے۔دوسرے حملہ آور نے ڈاکٹر صاحب کی آمد کو (ن) لیگ کا راستہ روکنے کی سازش قرار دیا۔ تیسرے حملہ آور کو حسب عادت ڈاکٹر صاحب کے پیچھے فوج نظر آئی۔ ایک حملہ آور نے تو یہ کہتے ہوئے حد ہی کر دی کہ جی ڈاکٹر صاحب کو زرداری نے الیکشن ملتوی کروانے کا ٹاسک سونپا اور رقم پراپرٹی کنگ نے فراہم کی ہے۔ ایک اور کالم نگار جن کا وژ ن پشاور سے کابل تک محدود ہے، جو اپنی کالم نگاری کی بقاءکے لئے افغان، امریکہ جنگ کے خاتمے پر شدید پریشان نظر آرہے ہیں اور جنہوں نے پچھلے دنوں میاں نواز شریف کی کردار کشی کرتے ہوئے متکبر قرار دیا تھا، کی نظر میں ڈاکٹر صاحب جھوٹے اور مذہبی جذبات سے کھیلنے والی شخصیت ہیں۔ اپنے تئیں ان کالم نگاروں ، اینکروںنے ”سیسہ پلائی“ دیوار بن کر آمر، سازشی ٹولے اور اس ”وہ “ کا راستہ روکا جس کے بارے میں خود بھی پریقین نہیں تھے۔ ڈاکٹر صاحب پر میڈیا نے اس وجہ سے بھی چڑھائی کی کہ ان کے” آگے پیچھے“ کوئی نہیں تھا ۔ کاش یہ آزاد، بے باک اور سچ کا علمبردارمیڈیا خیبر پختونخوا،جنوبی پنجاب میں بستے چند دوسرے ”مذہبی رہنماﺅں“ کے ماضی کو بھی ڈاکٹر صاحب کی طرح نوچے ۔ وہاں تو حقیقتا کئی ”وہ“ موجود ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ” وہ“ بیابانوں میں ٹھوکریں کھاتے مجہولوں کو کبھی کبھار موت کی دیوی کے چرنوں میں قربان بھی کر دیتے ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -