بینظیر بھٹوکی خدمات (2)

بینظیر بھٹوکی خدمات (2)
بینظیر بھٹوکی خدمات (2)

  

ہمیں فخر ہے کہ ہماری سیاسی تربیت شہید بی بی نے کی۔ ہم سب آگاہ ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا مقبول عام نعرہ تھا ”وزیراعظم بے نظیر“۔ ان کے ہوتے ہوئے ان کے قافلہ جمہوریت میں شامل کوئی فرد یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کسی اور نے وزارت عظمیٰ کی ذمہ داری سنبھالنی ہے۔ وہ پاکستان کا عظیم اثاثہ تھیں اور ہم میں سے کسی کو اس میں شبہ نہیں کہ اگرآج وہ ہمارے درمیان موجود ہوتیں تو آج پاکستان کے حالات بہت بہتر ہوتے اور بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا مقام بلند تر ہوتا۔

آج شہید بی بی جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی سوچ، ان کے افکار اور ان کے نظریات ہماری سوچ ، ہمارے دل، ہمارے دماغ اور ہماری روح میں راسخ ہوکر ہماری شخصیت کا حصہ بن چکے ہیں۔

عوام دوست اور عوام دشمن قوتوں کے درمیان جاری لڑائی کی ایک جھلک اس وقت بھی دیکھی گئی، جب مجھے ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے ہوئے آئین اور اپنی سیاسی قیادت سے وفاداری کے جرم میں نااہل قرار دیا گیا۔ ملتان کے عوام نے اسی دن پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک غریب کارکن کو رکن پنجاب اسمبلی منتخب کر کے نام نہاد عدالتی فیصلے کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔

چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ جب ایک عدالت نے مجھے نااہل کیا تو عوام نے میرے بیٹے کو قومی اسمبلی میں بھیج کرمیری بریت پر عوامی مقبولیت کی مہر تصدیق ثبت کردی۔

پاکستان پیپلز پارٹی وفاق پاکستان کی حقیقی ترجمان اور علامت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری حکومت نے خیبرپختونخوا کے عوام کا صدیوں پرانا مطالبہ پورا کیا اور اس صوبہ کوشناخت دی۔ گلگت بلتستان کے عوام کو حق حکمرانی دیا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت تعمیر و ترقی کے لئے صوبوں کو خطیر فنڈز دیئے گئے اور آغاز حقوق بلوچستان کے تحت بلوچ عوام کو صوبائی خودمختاری اور مالیاتی اختیارات دیئے۔مَیں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر یہ حقوق مشرقی پاکستان کے عوام کو دے دیئے جاتے تو سقوط ڈھاکہ کا سانحہ کبھی رونما نہ ہوتا۔

 عوامی حقوق دینے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں کو ختم کرنے کے لئے انہیں شناخت دینے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

مجھے فخر ہے کہ شہید بی بی کی سیاست کا امین ہونے کے ناطے مجھے پاکستان میں سب سے زیادہ عرصہ تک وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز رہنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس امانت کی پاسداری میںمجھے جو کامیابی نصیب ہوئی اس کی گواہی آپ سب لوگ دیں گے۔ اور یہ امر تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

 شہید بی بی کی سوچ، افکار اور ویژن پر عمل کرتے ہوئے ہم نے پارلیمنٹ سے 104آئینی ترامیم متفقہ طور پر منظور کرائیں۔ صدر نے اپنے اختیارات رضاکارانہ طور پر پارلیمنٹ کو سونپ دیئے تاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دیئے ہوئے آئین اور پارلیمانی نظام کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کیا جاسکے۔

ہم نے شہید بی بی کے فلاحی مملکت کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مزدوروں کی تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ملک کے 72لاکھ غریب خاندانوں کو مالی معاونت بہم پہنچائی گئی۔ یہ وہ عوامی پروگرام ہے، جس کے شفاف ہونے کی تصدیق دنیا کے موقر عالمی ادارے کرچکے ہیں۔

ہماری حکومت نے میڈیا کی آزادی کے لئے قانون سازی اور معلومات تک رسائی کے حق کا قانون متعارف کرایا، خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی کی، کاشتکاروں اور زراعت پیشہ لوگوں کومراعات دیں۔ اقلیتوں کے لئے اسمبلیوں میں ان کی نشستوں میں اضافہ بھی اس ویژن کی ترجمانی ہے۔ اسی طرح ہم نے11اگست کو اقلیتوں کے دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ۔

 ہم نے سوات کو دہشت گردوں سے پاک کیا۔ اور شاید خود تاریخ کے پاس بھی ایسی کوئی دوسری مثال موجود نہیں کہ صرف 90 دن کے اندر 25 لاکھ سے زیادہ اندرون ملک بے گھری کا شکار افراد کوواپس اپنے گھروں میں بسایا گیا۔ دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ 30 برسوں کے بعد بھی افغان مہاجرین اپنے وطن واپس نہیں جاسکے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت نے شہید بی بی کے معاشی مفادات کے ویژن کواختیار کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ تجارت بحال کی اور وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کی اور امریکہ کے ساتھ respect Mutual اور Mutual interest کی بنیاد پر تعلقات کا نیا دور شروع کیا ۔ روس اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر کئے۔ بہترین سفارت کاری کی بدولت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نشست حاصل کی۔

 ہمارے عوامی دورحکومت میں کشمیر کاز کو بین الاقوامی سطح پر اُجاگر کیا گیا اور بھارتی وزیراعظم اور پاکستانی وزیراعظم نے سفارتی سطح پر کشمیر کے مسئلہ پر بامقصد بات چیت کا آغاز کیا۔

بین الاقوامی تجارت میں نمایاں اضافہ کیا۔ سرکاری اور نیم سرکاری اداروں سے برطرف شدہ ہزاروں ملازمین کو بحال کیا۔ کنٹریکٹ پر کام کرنے والے ملازمین کومستقل کیا ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں نے شہید بی بی کے قافلہ جمہوریت کا حصہ بنتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا تو شہید بی بی نے مجھ سے صرف ایک ہی Commitmentلی تھی اور یہ Commitment شہید قائد عوام کے آئین کی بحالی اور نئے انتخابات کے لئے جدوجہد کرنے کے بارے میں تھی۔ مجھے یقین ہے کہ آج شہید بی بی کی روح مطمئن اور مسرورہوگی کہ ہم نے 1973ءکا آئین اصل شکل میں بحال کردیا ہے۔

آج شہید بی بی کے سامنے کھڑے ہوکر میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ محترمہ ! میں نے اپنے عہد سے بے وفائی نہیں کی۔

یہاں میں یہ بات واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جب شہید قائد کے آئین کے تحفظ کا مسئلہ سامنے آیا تو میں اپنے موقف پر ڈٹ گیا، کیونکہ یہ شہید بھٹو اور ان کی عظیم دختر کی مسند کا تقاضہ تھا۔ اس مسند پر بیٹھ کر شہید قائدین کے نظریات، خیالات اورسیاسی اقدار سے روگردانی کا تصور بھی میرے لئے محال تھا، لہٰذا مَیں نے حکومت کو خیرباد کہنے میں ایک لمحہ کی تاخیر نہ کی اور آئندہ بھی شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے ویژن کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا۔

مَیں آج گڑھی خدا بخش میں اپنے عہد کی تجدید کرتا ہوں کہ محترمہ! یوسف رضا گیلانی کل بھی آپ کا بھائی تھا، آپ کا جانثار تھا اوریوسف رضا گیلانی آئندہ بھی آپ کا بھائی اور جانثار رہے گا۔

میرے دوستو اور بزرگو!

آج سے پانچ سال قبل لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ جام شہادت نوش کرنے والے کارکنوں کو ہم اپنی یادوں کا محبت بھرا سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ سب جانتے ہیں کہ اپنی جان بے نظیر بھٹو پر نچھاور کرتے وقت ان کارکنوں نے یہ نعرہ بلند کیا تھا۔

ہر گھر سے بھٹو نکلے گا

تم کتنے بھٹو مارو گے

ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی کارکنوں نے جمہوریت کی بالادستی کے لئے قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے، مگر مجھے خوشی اور فخر ہے کہ میرا تعلق ایک ایسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہے جہاں کارکنوں سے زیادہ قربانیاں پارٹی کی قیادت نے دی ہیں۔

میرے دوستو اور بزرگو!

گڑھی خدا بخش میں دفن ہونے والے تمام شہید پاکستان پیپلز پارٹی کی عظیم قربانیوں کی روایت کی ہمیشہ گواہی دیتے رہیں گے۔ یہ ان قربانیوں کااعجاز ہے کہ آج یہ نعرہ پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ہے !

زندہ ہے بی بی ۔ زندہ ہے

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو زندہ باد ۔ پاکستان پائندہ باد

(محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی پانچویں برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں سید یوسف رضا گیلانی، سابق وزیراعظم پاکستان ، سینئر وائس چیئرمین پی پی پی کی تقریر کا مکمل متن)  (ختم شد)

مزید :

کالم -