پاکستان نازک دورسے گزر رہا ہے، بد عنوانی نے معاشی ترقی کو مفلوج کردیا چیف جسٹس

پاکستان نازک دورسے گزر رہا ہے، بد عنوانی نے معاشی ترقی کو مفلوج کردیا چیف ...

  

اسلام آباد(اے پی اے ) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان تاریخ کے پیچیدہ دور سے گزررہا ہے ، بدعنوانی نے معاشی ترقی مفلوج کردیا ہے۔جسٹس طارق پرویز کے اعزاز میں فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ اغوا برائے تاوان ، ٹارگٹ کلنگ ، جبراًگمشدگی ،توانائی کے بحران ، بدعنوانی،اقربا پروری نے معاشی ترقی کو مفلوج کردیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کا کردار ریاست کے باقی دونوں ستونوں کی مخالفت کرنا نہیں،عدلیہ کاکام حکومت وانتظامیہ کے اداروں کی جانب سے اختیار کاناجائز استعمال روکنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ،آج اعلیٰ عدلیہ مکمل آزادی سے کام کر رہی ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی، چیف جسٹس نے کہاکہ قانون کا مقصد معاشرتی مسائل کا حل فراہم کرنا ہے نا کہ ساز باز کے مواقع فراہم کرنا۔ اِس کا جائز مقصد صرف عوام ، معاشرے اور ریاست کی خدمت کرنا ہے ۔ عدلیہ کا کردار ریاست کے باقی دونوں ستونوں کی مخالفت کرنا نہیں ¾ حکومت اور انتظامیہ کے اِداروں یا عہدیداران کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنا ہے ¾اعلیٰ عدلیہ مکمل آزادی سے کام کررہی ہے ¾ سپریم کورٹ میں ججوں کی قلت کا سامنا ہے،ملک میں سپریم کورٹ بنچوں کو پورا کرنے کیلئے نئی تقرریوں کی ضرورت ہے،جوڈیشل کمیشن ارکان کی عدم شرکت سے ججزکے انتخاب کی صلاحیت مجروح ہوتی ہے ¾انصاف کی فراہمی عدالتی نظام کے تمام شرکاءکی ذمہ داری ہے ¾ بینچ، بار، فریقینِ مقدمہ اور تحقیقاتی اِدارے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ¾ تمام ریاستی ادارے اورسول سوسائٹی کے افراد متحد ہو کرقانون کی حکمرانی کے حصول، شفافیت، احتساب اور آئینی بالادستی کے اصولوں کی پاسداری اور فلاحی ریاست بنانے کے مشترکہ مقصد کے حصول کیلئے کام کریں۔ امید ہے آئینی اجتماعیت اور تمام عوام کو بلا تفریقِ رنگ و نسل بنیادی حقوق کا تحفظ ہمیں کامیاب قوم کے درجے پر پہنچا دے گی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جسٹس طارق پرویز کا شمار اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی اُس اکثریت میں ہوتا ہے جنہوں نے نومبر2007ءمیں فوجی آمر کے سامنے حلف لینے سے انکار کیا جس کی وجہ سے اُنہیں غیر فعال کیا گیا۔ عدلیہ کی بحالی کے بعد وہ 2009ءمیں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج مقرر ہوئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ موجودہ عدلیہ نے ماضی میں اِداروں سے وابستہ لاقانونیت کا خاتمہ کیا اور غاصب کے غیر آئینی اقدامات کو رد کیا۔ یہ ہمارے ملک کی آئینی تاریخ کیلئے ایک نیا موڑ ہی تھا جب 3نومبر2007ءکے امتناعی احکامات جن کے تحت پارلیمان نے غیر آئینی اقدامات کی توثیق کرنے سے انکار کیا مضبوط اور ناقابلِ شکست جمہوریت کے قیام کی وجہ بنے۔ یہ نیا جمہوری اُفق جو قانون کی حکمرانی کی بنیاد پر حکومت کے قیام کی وجہ بنا اور جہاں سپریم کورٹ آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے مشغول ہے، میرے برادر جج کے نڈر اور بے باک طرزِ عمل کی وجہ سے ہی ممکن ہواجو اُنہوں نے آمر کی ناانصافی اور غیر آئینی احکامات کی پیروی کے خلاف اختیار کیا ۔

مزید :

صفحہ آخر -