بنوں تھانہ پر حملہ باکام 4دہشت گردوں نے خود کو اڑالیا 2مارے گئے پولیس اہلکار زخمی

بنوں تھانہ پر حملہ باکام 4دہشت گردوں نے خود کو اڑالیا 2مارے گئے پولیس اہلکار ...

  

بنوں (اے پی اے) تھانہ میریان پر دہشت گردوں نے صبح سویرے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔ سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد مارے گئے جبکہ چار نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ تفصیلات کے مطابق بنوں میںتھانہ میریان پر شدت پسندوں نے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کردیا۔پولیس اور سیکورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 2دہشت گرد مارے گئے جبکہ 4 نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا، جبکہ جھڑپ میں ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔پولیس کے مطابق بنوں شہر سے بارہ کلومیٹر دور تھانہ میریان پر شدت پسندوں نے صبح تقریباًسات بجے حملہ کر دیا۔ جس کے بعد پولیس اور شدت پسندوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوگیا،بعد میں سیکیو رٹی فورسز کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لیا۔اس دوران قریبی پہاڑیوں سے شدت پسندوں نے تین راکٹ بھی فائر کیے جو تھانے سے ملحقہ ویران جگہ پر گرے جس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ذرائع کے مطابق حملے کے وقت تھانے میں 4سے 5 پولیس اہلکار موجود تھے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق شدت پسندخود کش جیکٹوں اور دستی بموں سے لیس تھے۔ شدت پسندوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان ڈیڑھ گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا ۔جس کے نتیجے میں 6 شدت پسند ہلاک ہوگئے۔جس میں 2شدت پسند مارے گئے جبکہ 4نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ حملہ آوروں کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیاجسے طبی امداد کے لئے بنوں سی ایم ایچ منتقل کردیاگیا۔ حملہ آوروں سے ملنے والی خود کش جیکٹیں اور بارودی مواد کو ناکارہ بنا دیاگیا۔مزید شدت پسندوںکی موجودگی کی اطلاع پرمیریان بنوں شاہراہ کو بند کر دیا گیا۔علاقے کو پولیس ، ایف سی اور سیکورٹی فورسز نے گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ۔ ادھر ڈی آئی جی نثار تنولی کا کہنا ہے کہ تھانہ پر دہشت گردوں کے حملے کو ناکام بنادیا گیا۔حملہ آوروں کا تعلق ازبکستان سے تھا، حملہ آوروں کے پاس 6سے 8کلوگرام بارودی مواد تھا۔ان کا کہنا ہے کہ حملے میں 6 شدت پسند ہلاک ہوئے جس میں سے پانچ کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کیا جبکہ ایک شدت پسند نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔

تھانہ پر حملہ

مزید :

صفحہ آخر -