مشرف اور ان کے ساتھیوں کےخلاف کاروائی کا ےہ مناسب وقت نہیں وفاق کا ہائیکورٹ مےں موقف

مشرف اور ان کے ساتھیوں کےخلاف کاروائی کا ےہ مناسب وقت نہیں وفاق کا ہائیکورٹ ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) وفاقی حکومت نے لاہور ہائیکورٹ میں مو¿قف اختیار کیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف اور آئین توڑنے کے دیگر ذمہ داروں کے خلاف سنگین بغاوت کے الزام میں کارروائی کا یہ مناسب وقت نہیں ہے، مسٹر جسٹس کاظم رضا شمسی کے روبرو گزشتہ روز وفاقی حکومت کا یہ مو¿قف ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہد افتخار نے بیان کیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل کے بیان کے بعد فاضل جج نے درخواستگزار رانا جمیل کو اس معاملے پر وزارت داخلہ سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مقدمہ کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔ رانا جمیل ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کررکھی ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں نے 12 اکتوبر1999ءاور 3 نومبر 2007ءکو آئین توڑا، ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت سنگین بغاوت کے الزام میں کارروائی کا حکم جاری کیا جائے۔ عدالتی نوٹس پر وفاقی حکومت کی طرف سے ڈپٹی اٹارنی جنرل شاہد افتخار نے پیش ہوکر مو¿قف اختیار کیا کہ سنگین بغاوت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرانے کا اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے۔ اس قانون کے تحت وفاقی حکومت نے دسمبر 1994ءکو نوٹیفکشین نمبر1234 جاری کیا تھا جس میں سنگین بغاوت کے الزام میں کارروائی کااختیار وفاقی سیکرٹری داخلہ کو دیاگیاتھا۔ یہ نوٹیفکیشن ابھی تک نافذالعمل ہے اور اس معاملے کو وزارت داخلہ دیکھتی ہے۔ آئین توڑنا ایک سنگین جرم ہے تاہم اب عام انتخابات سر پر ہیں اور آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا نیا پینڈورہ بکس کھولنا مناسب نہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارے ملک میں آئین توڑنے کی تاریخ بہت طویل ہے ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے آئین توڑنے کے جواز کو درست قرار دیا۔ حکومت مناسب وقت آنے پر آئین کو سبوتاث کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔ اس پر فاضل جج نے درخواست گزار سے کہا کہ آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو 1994ءمیں دی جاچکا ہے۔ آپ وزارت داخلہ میں شنوائی کے لئے عرضداشت پیش کریں۔ فاضل جج نے مقدمہ کی مزید کارروائی غیر معینہ مدت تک ملتوی کردی۔

مشرف کارروائی

مزید :

صفحہ آخر -