پنجاب بھر مےں فےصل آباد کی پہل رےسکیو1122کو کنٹرول سسٹم سے منسلک کردیا گیا میاں رفعت ضےائ

پنجاب بھر مےں فےصل آباد کی پہل رےسکیو1122کو کنٹرول سسٹم سے منسلک کردیا گیا ...

  

فیصل آباد (بیورو رپورٹ) فیصل آباد کے شہر ی علا قوں ¾کھرڑیانوالہ تک شیخوپورہ روڈ کے ساتھ ساتھ گردونواح کے دیہات میں کسی بھی حادثہ ¾ سانحہ یا کسی بھی موقع پر زند گی موت کی کشمکش میں مبتلا کوئی بھی شخص ایمرجنسی کی صورت میں بلا امتیا ز ریسکیو1122 کے کنٹرول آفس میں صرف ایک فون کال پر بالکل فری ایمبولینس گاڑی منگوا سکتا ہے جو صرف7 منٹ میں جائے وقوعہ پر پہنچنے والی ایک تیز ترین سروس ہے یہ واحد ادارہ ہے جس کی ایمبولینسز میں فرسٹ ایڈ کا تما م ایسا ساما ن موجود رہتا ہے جو کسی ہنگامی صورت میں کسی انسا ن کی زندگی بچانے کے کا م آسکتا ہے اور اس کے استعمال کیلئے تربیت یافتہ سٹاف بھی سفر میں ساتھ رہتا ہے ۔ یہ بات گزشتہ پانچ سالوں کے دوران تقریباً ایک لاکھ 62 ہزار 177 افراد کو علاج معالجہ کی بروقت سہولتیں فراہم کرنے اور بے شمار قیمتی جانیں بچانے میں انتہائی حیرت انگیز کردار ادا کر نے والے ادارے ریسکیو 1122 فیصل آباد کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر میاں رفعت ضیا ءنے ”پاکستان فورم “میں مختلف سوالا ت کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریسکیو1122 ایک چلتا پھرتا سوشل سروے بھی ہے جو ایمرجنسی سروس کی فراہمی کے دوران مشاہدے میں آنے والے مختلف اسبا ب اور عوامل کے بارے میں معلومات حاصل کر کے بوقت ضرورت متعلقہ حکومتی ادارے کو فراہم کر سکتا ہے ¾بلکہ کر رہا ہے جس کی ایک مثال شہر کے مختلف علا قوں میں ”انڈ ر گراﺅنڈ “موجود آتش گیر ساما ن یا آتشزدگی کا سبب بننے والا سامان تیار کر نے والی فیکٹریاں ¾ گھر یا افراد کی تیارکردہ ایک فہرست ہے جن کا وجود کسی وقت بھی خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے اس کی تیار شدہ فہرست اس ادارے کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی فراہم کی جا چکی ہے ۔ شہر میں پھیلی ان فیکٹریوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو1122 کے ادارے کے ایک سروے کے دوران ایک بات یہ بھی سامنے آئی کہ تقریباً80 فیصد روڈ ایکسیڈنٹ 20 سے 45 سال تک کی عمر کے لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں اور زیادہ تر حادثات موٹر سائیکلوں کے ذریعے ہوتے ہیں اس قسم کے حادثات کی روک تھام یا کمی کیلئے مختلف مرحلوں پر مختلف طریقوں سے ٹیچنگ کوچنگ اور ریفریشرکورسز کے ذریعے تربیت کی جا تی ہے خاص طور پر سکول اور کالجز میں اس کا اہتما م بھی کیا گیا جس کے بہتر نتائج بھی دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ تقریباً45 فیصد ڈرائیوروں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں ہوتاان میں بھی تقریباً15 فیصد ایسے ڈرائیو ر ہوتے ہیں جنہیں نہ صرف ڈرائیونگ بلکہ انہیں ٹریفک کے قواعد وضوابط کا بھی علم نہیں ہوتا وہ سفارشی لائسنس ہولڈر کہلاتے ہیں ۔ اس سروے رپورٹ کو سامنے رکھ کر بھی صورتحال کی کافی حد تک اصلاح کی جا سکتی ہے ¾میاں رفعت ضیاءنے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ پنجاب بھر میں ہم نے صرف فیصل آباد میں پہل کی ہے کہ یہاں ہم نے دونوں سرکاری ہسپتالوں اورپولیس ایمرجنسی کو 1122 کے کنٹرول سسٹم سے منسلک کر دیا ہے جس کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ مریض کو ہسپتال میں پہنچانے سے پہلے ہی متعلقہ شعبہ کو اس مریض کے بارے میں علم ہو جا تا ہے جس کا فائد ہ یہ پہنچتا ہے کہ مریض کے پہنچنے تک ضروری انتظامات کئے جاچکے ہوتے ہیں اس کا ایمرجنسی مریض کو کا فی فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح پولیس کے ساتھ کنٹرول روم کوانٹرلنک کرنے کا فائد ہ یہ ہوا ہے کہ کسی بھی حادثے ¾سانحے یا فوجداری صورتحال میں پولیس بھی فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ جاتی ہے اور قانونی اقدامات اٹھانا بروقت اورآسان ہوجاتا ہے ۔ اس کے بھی خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو1122 کا 2007 ءمیں آغاز ہوا تھا اس وقت کی ضروریات کے پیش نظر فیصل آباد کو12 ایمبولینس گاڑیاں دی گئی تھیں جن کی ورکنگ کی مدت2010ءتک تھی ¾ بعد میں فیصل آباد میں چار ریسکیو اسٹیشن بنے اور اب ریسکیو1122 جڑانوالہ کا بھی افتتاح ہوچکا ہے جس کیلئے سٹاف لاہور میں ٹریننگ لے رہا ہے جلد ہی سروسز کا آغاز ہوجائے گا تاہم بعدازاں تین گاڑیوں کے مزید اضافہ کے ساتھ ان گاڑیوں کی تعداد15 ہوگئی ۔ جن کی کارکردگی اب متاثر ہورہی ہے جن کو تبدیل کر کے نئی گاڑیوں کی ضرورت ہے حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان کی جگہ مارچ میں نئی گاڑیاں مل جائیں گی۔فیصل آباد کی موجودہ ضروریات پوری کرنے کیلئے ابھی مزید پانچ سے دس گاڑیوں اورفی گاڑی کے حساب سے دس سٹاف ممبران کی ضرورت ہے۔ کھرڑیانوالہ میں صنعتی ایر یا کے حوالے سے جو ریسکیو سنٹر بنا یا گیا اس کا فائدہ شیخوپورہ روڈپرکھرڑیانوالہ تک سڑک کے ساتھ ساتھ کے دیہاتوں کے مکینوں کو بھی دیا گیا ہے وہ بھی کسی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو1122 کی مدد طلب کرسکتے ہیں۔

رفعت ریاض

مزید :

صفحہ آخر -