لیک ویو سٹی سابق گورنر اےم پی اے اور پٹواری کی آشےر باد سے اربوں کی اراضی کو ڑیوں مےں خریدی گئی

لیک ویو سٹی سابق گورنر اےم پی اے اور پٹواری کی آشےر باد سے اربوں کی اراضی کو ...

  

لاہور(اپنے نمائندے سے) وضع جناتے میں واقع لیک ویو سٹی کی انتظامیہ نے بااثر سیاسی افراد کی چھتری استعمال کرکے اونے پونے داموں اراضی خرید کر اربوں روپے کمایا اور سادہ لوح شہریوں کو سبز باغ دکھا کر ویرانے میں پلاٹ الاٹ کردیئے سوسائٹی انتظامیہ نے سیاسی اور بااثر شخصیات کو پرائم لوکیشن پر جبکہ عام شہریوں کو کھیت کھلیان میں دھکیل دیا ستم بالا ستم یہ کہ کوڑیوں کی زمین کے عوض قومی بینکوں سے کروڑوں قرض لے کر ڈکا ر مار لی جمع پونچی لٹانے والے شہری اور بینک افسران ہاتھ ملتے رہ گئے اور اب سوسائٹی انتظامیہ کی تلاش میں سرگرداں ہیں ہوشیار سوسائٹی مالکان نے ایل ڈی اے کے راشی افسروں سے ساز باز کرکے جھوٹے سچے نقشے منظور کروائے اور ہوا میں ہی تعمیراتی کام کی تکمیل دکھا دی سوسائٹی کے ایک معتبر اور باخبرشخص نے ”پاکستان“ کو بتایا کہ موضع جناتے میں لیک ویو سٹی سوسائٹی پنجاب کے ایک سابق گورنر مقامی رکن صوبائی اسمبلی ملک منظر عباس پٹواری کے ساتھ ملکر گوہر اعجاز نے شروع کی تھی مزید معلوم ہوا ہے کہ موضع جناتے میں واقع لیک ویو سٹی کی انتظامیہ نے سوسائٹی ہذا کا آغاز مقامی سیاسی افراد کے ساتھ ملکر کیا اور موضع جناتے کے مقامی سادہ لوح شہریوں کو حکومتی نوٹیفکیشن کے فرضی آڈر دکھا کر رقبہ ریکور کرنے کی افواہیں پھیلاتے ہوئے اونے پونے داموں ہزاروں کنال اراضی خرید کی جبکہ لیک ویو سٹی سوسائٹی کی خرید وفروخت کرنے کے دوران اس وقت کے پٹواری ملک منظر عباس مقامی ایم پی اے سمی دیگر بااثر ڈیلروں باقاعدہ تحریری معاہدے بھی تحریر کئے گئے تھے جس میں سوسائٹی ہذا کی جانب سے ایک مخصوص قیمت فی ایکڑ کے لئے مختص کی گئی اور پٹواری ملک منظر عباس اور مقامی ایم پی اے سمیت دیگر افراد نے اس معاہدے کی آڑ میں کروڑوں روپے کے اثاثے بنائے جبکہ اس سوسائٹی کی پرائم لوکیشن پر ناصرف حکومتی اور سیاسی شخصیات کو پلاٹوں کی تقسیم کرتے ہوئے بندر بانٹ کی بلکہ پوری قیمت دیکر پلاٹ کی خریداری کرنے والے عام شہریوں کو ویرانے میں میں دھکیل دیا گیا مزید انکشاف ہوا ہے کہ کوڑیوں کے بھاﺅ خریدی گئی اس اراضی کے عوض قومی بینکوں سے کروڑوں روپے بھی قرض لیکر ڈکاڑ لئے گئے ہیں شہریوں کی بڑی تعداد نے لیک ویو سٹی میں ہونے والی بے ضابطگیوں کے حوالے سے احتسابی اداروں کے سربراہ کو بھی ازخود نوٹس لے کر تحقیقات کرنے کی اپیل کی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -