این اے 147اوکاڑہ ،امیدواروں نے سیاسی بساط پرچالیں چلنا شروع کردیں ،عوام رسہ گیروں اور ڈکیتیوں سے تنگ ہیں

این اے 147اوکاڑہ ،امیدواروں نے سیاسی بساط پرچالیں چلنا شروع کردیں ،عوام رسہ ...
این اے 147اوکاڑہ ،امیدواروں نے سیاسی بساط پرچالیں چلنا شروع کردیں ،عوام رسہ گیروں اور ڈکیتیوں سے تنگ ہیں

  

لاہور (شہباز اکمل جندران ،معاونت ذولفقار علی اٹھوال بیوروچیف)بھارتی سرحد اوردریائے ستلج کے کنارے واقع قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 147میں امیدواروں نے سیاسی شطرنج کی بازی پر چالیں چلنا شروع کردیں۔ برادریوں اور گروپوں نے فیل ،گھوڑوں اور توپوں کی جگہیںسنبھال لیں۔ این اے 147اوکاڑہ حویلی لکھا ،منڈی احمد آباد،وساویوالہ،بصیر پور، جمال کوٹ سمیت 22ےونین کونسلوں پر مشتمل حلقہ ہے۔ یہاں رجسٹرڈ ووٹوں کی کل تعداد تین لاکھ 20ہزار579 ہے جن میں مرد ووٹرز ایک لاکھ 68ہزار892اور خواتین کی تعدادایک لاکھ51ہزار687 ہے۔ اس قومی حلقہ میں پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد تقریبا231 ہے جبکہ دو صوبائی حلقہ جات پی پی 188اور پی پی193بھی شامل ہیں۔ےہاں کے بیشتر عوام مویشی چوروں ،وڈکیتوں ، مہنگائی ،غربت ،بے روزگاری،گےس و بجلی کے بحران سے بہت تنگ آئے ہوئے ہےں۔ دریائے ستلج اور بھارتی سرحدپر واقع ہونے کی وجہ سے علاقے میں بعض افراد کا روز گار سمگل شدہ اشیاءکی فروخت بھی ہے ۔یہاں سیوریج کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے اور لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیںہوتا۔ البتہ سٹرکوں کا جال بچھایا گیا ہے لیکن ابھی اسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن 2008ءمیں اس حلقہ سے میاں منظور احمد وٹو نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لیا اور جیت کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے (اس وقت وہ وسطی پنجاب پیپلز پاٹی کے صدر ہیں )بعد میں انہوں نے ےہ سیٹ چھوڑ دی اور ضمنی انتخاب میں ان کے بیٹے سابق ناظم دیپالپور خرم جہانگیر وٹو نے کامےابی حاصل کی اور رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے میاں منظور وٹو نے الیکشن 2008میں 84ہزار69ووٹ لیکر کامےابی حاصل کی تھی ان کے مدمقابل امیدوار سید رضاعلی گیلانی نے31ہزار 79ووٹ لئے تھے پی پی پی کے خضر حےات لادھوکا نے 19706ووٹ حاصل کئے تھے، اب یہاں کی صورتحا ل ےکسر تبدیل ہوچکی ہے ۔ میاں منظور وٹو اب ےہاں سے اپنے بیٹے خرم جہانگیر وٹو کو ہی لڑانا چاہتے ہیں اور خود این اے146سے الیکشن لڑنے کی خواہش رکھتے ہیں ۔پاکستان مسلم لیگ ن نے ےہاں پر کسی کو ٹکٹ نہیں دیا تھا مگر آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کا ٹکٹ موجودہ ایم پی اے میاں معین خان وٹو کو مل سکتا ہے جبکہ سید رضاعلی گیلانی نے بھی مسلم لیگ ن میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ صوبائی حلقہ پی پی 188سے میاں منظور خان وٹو کی بیٹی روبینہ شاہین وٹو صوبائی اسمبلی کی ممبر منتخب ہوئی تھیں جبکہ ان کے مدمقابل امیدواروں میں چوہدری افتخار حسین چھچھر، مسلم لیگ ن کے ٹکٹ ہولڈرمرزاعلی رضا، مسلم لیگ ق کے میاں فیاض وٹو اور پیپلز پارٹی کے محمد شہزاد لادھوکاشامل۔ 2003ءمیں بھی انہیں امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا لیکن پیپلز پارٹی نے فی الحال اپنی ٹکٹ کا فیصلہ نہیں کیا جبکہ روبینہ شاہین وٹو نے اپنے والد میاں منظور وٹو کی سربراہی میں پی پی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی، دوسرا صوبائی حلقہ 193ہے جہاں سے میاں معین خان وٹو نے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑا اور41495ووٹ حاصل کرکے کامےاب رہے جبکہ ان کے مد مقابل امیدواروں میںمسلم لیگ ق کے دیوان اخلاق احمد اور پیپلز پارٹی کے میاں عاصم خان مانیکا شامل تھے، اس حلقہ میںمسلم لیگ ن نے ٹکٹ نہیں دیا تھااب کی بار میاں معین خان وٹو مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے امیدوار ہونگے اور انہی امیدواروں کے مابین مقابلہ ہوگا۔

این اے 147

مزید :

الیکشن ۲۰۱۳ -