بینکوں سے کھر بوں کے قرضے معاف کرانے کی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

بینکوں سے کھر بوں کے قرضے معاف کرانے کی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش

  

لاہور(سعید چودھری) جسٹس (ر) سید جمشید علی شاہ کمیشن نے گزشتہ 42 سالوں میں بینکوں سے معاف کروائے گئے قرضوں کی تحقیقاتی رپورٹ سپریم کورٹ کو بھیج دی ہے۔ ذرائع کے مطابق کمیشن نے کھربوں روپے مالیت کے قرضوں کی معافی کے معاملے کو ”ری اوپن“ کرنے کی سفارش کردی ہے۔ کمیشن نے یہ رپورٹ ایک سال دو ماہ میں سپریم کورٹ کے حکم کی بنیاد پر تیار کی ہے جو ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری نے مختلف اخباری رپورٹوں کی بنیاد پر جون 2011ءمیں اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے کھربوں روپے مالیت کے قرضے معاف کروانے کے معاملہ کی انکوائری کے لئے سپریم کورٹ کے جسٹس (ر) سید جمشید علی شاہ کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیاتھا جس نے دسمبر 2011ءمیں کارروائی کا آغاز کیاتھا۔ ذرائع کے مطابق کمیشن نے قرضوں کی معافی کو مختلف اقسام کے دباﺅ اور سیاسی اثرورسوخ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے بے لگام اقدام قرار دیا ہے جس میں کاروباری نقطہ نظر کی کار فرمائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ کمیشن نے 1970ءسے 1992ءتک 25 لاکھ روپے یا اس سے زیادہ مالیت جبکہ 1992ءسے دسمبر 2012ءتک اڑھائی کروڑ روپے یا اس سے زیادہ مالیت کے قرضوں کی معافی کا جائزہ لیا۔ ذرائع کے مطابق کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1970ءسے 1985ءتک قرضوں کی معافی کی شرح کم تھی لیکن 1985ءاور اس کے بعد 3 کھرب کے قریب قرضے معاف کروائے گئے۔ قرضے معاف کروانے والوں میں سیاستدانوں اور کاروباری افراد کے علاوہ بڑے زمیندار بیوروکریٹس اور ریٹائرڈ فوجی افسر بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بینکوں نے قرضے معاف کرنے سے قبل مناسب انکوائری بھی نہیں کی۔ ماہرین کے مطابق کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد کیاگیا تو اس کے اثرات آئندہ انتخابات پر بھی مرتب ہوں گے اور نادہندہ سیاستدانوں سے اربوں روپے واپس لینے کی راہ ہموار ہوگی اور مستقبل میں قرضوں کی بلاجواز معافی کے امکانات میں کمی آئے گی۔ کمیشن کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ قرضوں کی معافی کو معاضی کا قصہ سمجھ کر دفن کرنا مناسب نہیں۔ یہ بینکوں کے عام صارفین کا پیسہ ہے اور قرضے معافی کے ہر کیس کا نئے سرے سے جائزہ لیا جاناچاہیے۔

قرض معاف

مزید :

صفحہ اول -