این اے 1پشاور1پیپلز پارٹی اوراے این پی میں کانٹے دار مقابلہ متوقع غلام احمد بلور کاپلڑ ا بھاری

این اے 1پشاور1پیپلز پارٹی اوراے این پی میں کانٹے دار مقابلہ متوقع غلام احمد ...

  

پشاور(تحقیق: سلیم غیاث ) این اے ون پشاور ون قومی اسمبلی کا پہلا حلقہ ہے جہاں ماضی میں اہم سیاسی شخصیات الیکشن میں حصہ لیتی رہی ہیں ہر دور میں اس حلقہ پر بڑے بڑے انتخابی معرکے برپا ہوئے اور 2013کے آنیوالے عام انتخابات میں بھی یہاں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے جس کے لئے مختلف سیاسی جماعتوں کے اُمیدوار خم ٹھونک کر میدان میں اتر آئے ہیں چوکہ این اے ون پشاور زیادہ تر اندرون شہر اور کچھ مضافاتی علاقوں پر مشتمل حلقہ ہے اسلئے حلقہ کے باسیوں کو زیادہ تر شہری مسائل کا سامنا ہے جن میں بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود ناکافی بنیادی سہولیات بے روزگاری اور بدامنی لاقانونیت و امن وامان کی خراب یا ناقص صورتحال سر فہرست ہیں این اے ون پشاور کے ذیل میں چار صوبائی حلقے پی کے ون ،پی کے ٹو پی کے تھری اور پی کے فور آتے ہیں پشاور کا یہ قومی حلقہ ماضی میں مسلم لیگ کا گڑھ رہا ہے لیکن77ءمیں یوسف خٹک آخری لیگی جرنیل ثابت ہوئے جنہوں نے انتخابی حریفوں کو الیکشن کے میدان میں شکست سے دو چار کیا1988میں سابق وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیر پا¶ پی پی پی کے ٹکٹ پر اسی حلقے سے کامیابی کے بعد صوبہ کے وزیر اعلیٰ بنے اور آئینی تقاضے کے تحت انہوں نے سیٹ چھوڑ دی جس پر ضمنی الیکشن میں اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور، پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے مشترکہ اُمیدوار کی حیثیت سے کامیاب ہوئے اس سے قبل جنرل الیکشن میں دونوں جماعتوں کی مخلوط حکومت وجود میں آ چکی تھی1990کے انتخابات میں اے این پی کے حاجی غلام احمد بلور51ہزار دوسو تینتیس ووٹ حاصل کر کے این اے ون پشاور سے منتخب ہوئے اور فاتح بے نظیر کہلائے کیونکہ پی پی پی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو ان کے مد مقابل تھیں انہوں نے غلام احمد بلور کے مقاملے میں38ہزار نو سواکاون ووٹ حاصل کئے تھے الیکشن میں بے نظیر نامی ایک مرد اُمیدوار نے بھی ایک ہزار ووٹ حاصل کئے جس کا پی پی پی پارلیمنٹرین کے انتخابی نشان تیر سے ملتا جلتا نشان قلم تھا 1993ءکے الیکشن میں پی پی پی کے ٹکٹ پر سید ظفر علی شاہ40ہزار تین سو تینتالیس ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے پاکستان اسلامک فرنٹ کے اُمیدوار حاجی دوست محمد تیسرے نمبر پر آئے 1997ءکے عام انتخابات میں جب انتخابی گہما گہمی عروج پر تھی پی پی پی کے اُمیدوار حاجی گلفراز کے اچانک انتقال کے باعث این اے ون کے الیکشن ملتوی ہوگئے ضمنی الیکشن میں پی پی پی کے خورشید خان ایڈوکیٹ اُمیدوار جنہوں نے احمد رضا قصوری کا منہ کالا کر کے شہرت پائی تھی وہ انتخاب کے لئے نا اہل قرار پائے تو سید قمر عباس اُمیدوار بنے ان کے مد مقابل اے این پی کے اُمیدوار حاجی غلام احمد بلور25ہزار نو سو تیس ووٹ حاصل کر کے این اے ون سے تیسری بار کامیاب تو ہو گئے تاہم وزیر باغ کے پولنگ اسٹیشن پر پی پی پی اور اے این پی کے تصادم میں ان کے صاحبزادے شبیر احمد بلور زندگی کی بازی ہار گئے این اے ون پشاور میںہندکو اور پشتو دوبڑی زبانیں بولی جاتی ہیں تاہم یہاں فارسی، کشمیری، سرائیکی، ہزارہ والی اور اردو بولی و سمجھی جاتی ہیں اسلئے پشاور کو شہر ہفت زبان بھی کہا جاتا ہے اگرچہ اردو بولنے والے زیادہ تر پشاور کے دوسرے حلقے میں آباد میں بہر حال2002ءکے عام انتخابات میں جب خیبر پختونخوا میں ایم ایم اے کا طوفان آیا تو این اے ون پشاور سے جماعت اسلامی کے موجودہ جنرل سیکرٹری شبیر احمد خان شہید بشیر احمد کے صاحبزادے عثمان بلور کو شکست دے کر پشاور سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئے گریجویٹ نہ ہونے کے باعث حاجی غلام احمد بلور میدان سے باہر تھے2008ءکے عام انتخابات میں حاجی غلام احمد بلور اس حلقے سے ایکبار پھر جیت گئے پی پی پی پارلیمنٹرین کے سید ایوب شاہ ان کے مد مقابل تھے ۔ این اے وہ پشاور چونکہ زیادہ تر پشاور کے شہری علاقوں پر مشتمل ہے سو صوبے کا سب سے بڑا شہر ہونے کے ناطے اس کی سرگرمیوںکے صوبہ کے دیگر شہروں پر براہ راست اثرات مرتب ہوتے ہیں این اے ون پشاور کے ووٹروں سمیت یہاں کی سیاسی جماعتیں اُمیدوار اور عوام 2013ءکے انتخابی دنگل کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اس مرتبہ این اے ون کا انتخابی معرکہ اس لہاظ سے دلچسپی کا حامل ہو گا کہ ملک بھر کی طرح الیکشن میں تین کروڑ نئے ووٹر اپنے حق کا استعمال کر رہے ہیں جن کی اکثریت نوجوانوں پر مشمتل ہے یہ نوجوان پرانے چہروں سے اکتا چکے ہیں اور نظام کی تبدیلی کے خواہاں ہیں جبکہ دوسری جانب الیکشن کمیشن اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں اور حکومتی اقدامات کے نتیجے میں ایسا لگ رہا ہے کہ 2013ءکا الیکشن سابقہ انتخابات سے مختلف ہو گا گو این اے ون پشاور پر اصل مقابلہ دونوں بڑی جماعتوں پی پی پی پارلیمنٹرین اور اے این پی کے درمیان ہے اور حضور کی شان میں گستاخی اور توہین آمیز فلم بنانے والے فلم ساز کے سر کی قیمت مقرر کرنے کے اعلان پر مذہبی اور غیر مذہبی حلقوں میں یکساں مقبولیت حقاصل کرنے پر حاجی غلام احمد بلور اور شہید بشیر بلور کی شہادت سے بلور فیملی کے لئے عوام کے دلوں میں عزت اور احترام کا جذبہ پہلے سے بڑھ گیا ہے اسی لئے 2013کے انتخابات میںبھی حاجی غلام احمد بلور اس حلقے سے مضبوط اُمیدوار تصور کئے جاتے ہیں جماعت اسلامی کے شبیر احمد خان ایک بار پھر اسی حلقے سے اُمیدوار ہیں سینیٹر حاجی غلام علی ،قاری فیاضاور جلیل جان جے یو آئی ف جبکہ پی پی پی پارلیمنٹرین کی جانب سے صوبائی وزیر صحت سید ظاہر علی شاہ کا نام لیا جا رہا ہے معلوم ہوا ہے کہ ان پر پارٹی کا کافی دبا¶ ہے تاہم وہ خود صوبائی حلقہ پی کے ٹو سے الیکشن میں حصہ لینے کے خواہشمند ہیں البتہ انہوں نے پارٹی قیادت کے سامنے یہ شرط رکھی ہے کہ اگر قیادت ہر صورت میں اپنے فیصلے پر قائم رہتی ہے تو پھر ان کو این اے ون اور پی کے 2پشاورکے قومی اور صوبائی دونوں حلقوں سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے این اے ون پر تحریک انصاف کی جانب سے اُمیدوار کے طور پر پارٹی کے سربراہ عمران خان کا نام لیا جا رہا ہے اگرچہ اس کا حتمی فیصلہ نہیں ہوا اگر وہ این اے ون پشاور سے الیکشن میں حصہ لیتے ہیں تو یہ این اے ون انتخابی محاذ پر اے این پی اور پی ٹی آئی کے درمیان کا نٹے دار مقابلے کی توقع ہے یہی صورتہال پی پی پی کے اُمیدوار کے میدان میں آنے پر بھی ہو گی البتہ پی پی پی کی جانب سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ کی صورت میں اے این پی کے اُمیدوار کی حمایت یا حاجی غلام احمد بلور کی دستبرداری کی صورت میں بالکل مختلف صورتحال بھی رونما ہو سکتی ہے جماعت اسلامی اور تحریک انصاف مل کر اے این پی کے لئے مشکلات پیدا کر سکتی ہیں مسلم لیگ ن کے افضل خان پنیالہ بھی میدان میں ہیں تاہم این اے ون سے افضل پنیالہ کو ٹکٹ نہ ملنے کی صورت میں امکان یہی ہے کہ نواز لیگ حاجی غلام احمد بلور کے مقابلے میں اپنا اُمیدوار کھڑا نہ کرے جماعت اسلامی کے ساتھ مسلم لیگ ن کے انتخابی اتحاد کی رو میں نواز لیگ جماعت اسلامی کے اُمیدوار شبیر احمد خان کی حمایت کرکے ان کی کامیابی میں اپنا کردار بھی ادا کر سکتی ہے جبکہ جے یو آئی ف سے سیٹ ایڈ جسٹمنٹ بھی جماعت اسلامی کے اُمیدوار کے ووٹوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے اگرچہ 2002میں ایم ایم اے کی کامیابی کو چھوڑ کر گزشتہ انتخابات میں جماعت اسلامی اور جے یو آئی ف نے اس حلقے سے کامیابی حاصل نہیں کی این اے ون پشاور کے پہلے صوبائی حلقہ پی کے 1 میں پی پی پی پارلیمنٹرین کی جانب سے ممتاز صنعت کار اور پارٹی رہنما اکبر خان مہمند اُمیدوار ہیںجماعت اسلامی نے اس حلقے سے بحرا اللہ کو اپنا اُمیدوار نامزد کیا ہے اس حلقے سے ملک عدیل مسلم لیگ ن کے مضبوط اُمیدوار ہیں جبکہ عرفان اللہ جے یو آئی ف اورتحریک انصاف کے اصغر خلیل ،گل باچا، ظفر اللہ آفریدی، ظفر اللہ خٹک اور اے این پی کے اورنگزیب خان متوقع اُمیدوار ہیں پی کے 2سے صوبائی وزیر صحت اور پی پی پی کے رہنما سید ظاہر علی شاہ کے علاوہ خواجہ یاور نصیر ، طاہر عباس اور سعید احمدخان کانام بھی لیا جا رہا ہے ان سب نے اس سلسلے میں پارٹی کو ٹکٹ کے لئے درخواستیں دے رکھی ہیں جے یو آئی ف کی جانب سے حسین احمد مدنی اے این پی کے ہارون احمد بلور مسلم لیگ ن کے میاں سید بادشاہ جبکہ تحریک انصاف کے طاہر عباس مہمند اور جاوید خان متوقع اُمیدوار ہیں، جماعت اسلامی نے پی کے 2پشاور کے لئے سراج الدین قریشی کو اُمیدوار نامزد کیا ہے پی کے 3پشاور 3میں پی پی پی کے متوقع اُمیدواروں میں شوکت علی اور اقبال مہمند کا نام لیا جا تا ہے اس حلقے پر جماعت اسلامی نے خالد گل کو اپنا اُمیدوار نامزد کیا ہے جے یو آئی ف کی جانب سے جلیل جان واورنگزیب آفریدی اور مسلم لیگ ن کے خادم علی یوسفزئی جو پارٹی کے رہنما بھی ہیں متوقع اُمیدوار ہیں اے این پی کی طرف سے عثمان بلور کا نام لیا جا رہا ہے پی کے 4پشاور سے جے یو آئی ف کے متوقع اُمیدواروں میں ارباب فاروق احسان الحق اور اسد اللہ کا نام لیا جاتا ہے جبکہ جماعت اسلامی نے ریاض باچہ کو نامزد کیا ہے پی پی پی پارلیمنٹرین کے اعظم آفریدی اور مسلم لیگ ن کے ارشد قریشی واے این پی کی جانب سے سید عاقل شاہ اور تحریک انصاف کے عارف یوسف متوقع اُمیدوار ہیں۔ این اے ون پشاور پر انتخابی گٹھ جوڑ اسکے چاروں ذیلی حلقوں کے علاوہ پی کے 6 پر بھی اثر انداز ہوگا جس کا کچھ حصہ این اے ون سے منسلک ہے این اے ون پشاور اور اسکے ذیلی صوبائی حلقوں میں آبنوشی تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا فقدان ہے بدامنی کی وجہ سے مقامی کاروباری طبقہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے افغان مہاجرین کاروبار پر قابض ہیں بے روگاری عام ہے دہشت گردی کے واقعات آئے روز کا معمول بن ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے ترقیاتی کام اور سکیمیں ادھوری پڑی ہیں بعض علاقوں میں تعمیراتی منصوبوں پر سست روی سے کام جاری ہے جن میں شہری حلقے نمایاں ہیں شاہرا¶ں اور سڑکوں کی حالت یہ ہے کہ تعمیراتی کام کے باث ہر وقت دھول اڑتی رہتی ہے مٹی اور گردو غبار کے بادلوں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس سے مختلف امراض پھیل رے ہیں ہر وقت ٹریفک کا اژدھام رہتا ہے تجاوزات کی بھر مار ہے اور آبی وماحولیاتی آلودگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اشیاءخورد و نوش کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے جبکہ جا بجا سڑکوں کی بندش اور پولیس ناکوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے یقیناً ان میں بعض عوامل چھوٹے اور معمولی نوعیت کے سہی لیکن آنیوالے عام انتخابات میں وہ حکمران جماعتوں کی نیک نامی یا بدنامی کا سبب بنیں گے اپوزیشن جماعتیں بھی انہیں انتخابی کارڈ کے طور پر استعمال کر تے ہوئے اپنی تشہیری مہم میں اچھالیں گی ان میں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے مسائل وفاقی اداروں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن مسائل کی فہرست میں سر فہرست ہیں۔

این اے 1

مزید :

صفحہ اول -