غیررجسٹرڈاور بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف پولیس مہم قانونی پچیدگیوں کاشکارہوگئی

غیررجسٹرڈاور بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف پولیس مہم قانونی پچیدگیوں ...

  

لاہور(سعید چودھری) غیر رجسٹرڈ اور بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کے خلاف پولیس مہم قانونی پیچیدگیوں کا شکار ہوگئی ہے۔ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کی پکڑ دھکڑ پر پولیس کے اپنے لیگل ونگ نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور سے سفارش کی ہے کہ غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف کارروائی کامعاملہ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پر چھوڑ دیاجائے۔ پولیس کو ایسی گاڑیاں بند کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ذمہ دار ذرائع کے مطابق سی سی پی او لاہور کے حکم پر پولیس نے بغیر نمبر پلیٹ اور غیر رجسٹرڈ 2 ہزار گاڑیاں اور موٹرسائیکل قبضے میں لے رکھی ہیں۔ پولیس نے یہ کارروائی پولیس آرڈر 2002ءکے سیکشن 134 کے تحت کی ہے۔ یہ سیکشن پولیس کو صرف لاوارث منقولہ املاک قبضہ میں لینے کا اختیار دیتاہے جبکہ غیر رجسٹرڈ گاڑیاں لاوارث املاک کے زمرہ میں نہیں آتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی سی پی او سے کہا گیا ہے کہ پولیس آرڈر کے تحت پکڑی گئی گاڑیاں سپرداری پر بھی نہیں دی جاسکتیں۔ مجسٹریٹ صرف اپنی گاڑیوں کو سپرداری پر مالک کو واپس دینے کے مجاز ہیں جو کسی واردات میں استعمال کی گئی ہوں یا پھر چوری شدہ ہوں اور پولیس نے برآمد کی ہوں۔ ذرائع کے مطابق پولیس کے لیگل ونگ نے سی سی پی او کو تجویز دی ہے کہ پکڑی گئی گاڑیاں مالکان کو وارننگ دے کر واپس کردی جائیں اور ایسی گاڑیوں کے خلا ف کارروائی کے لئے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کو چٹھی لکھی جائے بہر حال ایسی گاڑیوں کو کسی واردات میں استعمال کرنے کا احتمال تو موجود ہے۔

غیررجسٹرڈ گاڑیاں

مزید :

صفحہ اول -