ہائر ایجوکیشن کی تباہی کا نوحہ

ہائر ایجوکیشن کی تباہی کا نوحہ

  

اپنے ایک حالیہ کالم ”ہائر ایجوکیشن کی تباہی“ (روزنامہ ”جنگ“ 24 جنوری 2014ئ) میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر عطاءالرحمن نے اِس کی تباہی کا نوحہ پڑھا ہے اور اِن خدشات کا اظہار کیا ہے کہ درون پردہ اِسے ختم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ بلاشبہ پاکستان کے لئے ڈاکٹر صاحب کی گراں قدر خدمات اور اُن کی صلاحیتوں اور کارناموں کا ہر کوئی معترف ہے، مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ اِس کالم میں انہوں نے بہت سی ایسی باتیں تحریر کی ہیں جو معروضی حقائق کے برعکس ہیں۔ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لئے ستمبر 2002ءمیں ایک صدارتی آرڈی نینس کے ذریعے ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ڈاکٹر صاحب کی سربراہی میں اِس ادارے کی اڑان شان دار تھی، جس سے عوام میں اُمید پیدا ہوئی کہ وہ وقت دور نہیں جب ہمارا نظامِ تعلیم بھی عالمی معیار کے مطابق ہو گا، مگر نہ جانے اِس ادارے کو کس کی نظر لگ گئی کہ یہ اپنے مقاصد سے ہٹتا گیا اور آج یہ حال ہے کہ ڈگریوں کی تصدیق کے سوا اِس قومی ادارے کی کوئی افادیت نہیں رہی۔

مذکورہ کالم میں ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں: ” پچھلے10 سال میں ہماری جامعات میں رونما ہوئی اس ڈرامائی تبدیلی کی منظر کشی عالمی بینک، برٹش کونسل، USAIDِِ، رائل سوسائٹی (لندن)، اقوامِ متحدہ کمیشن برائے فروغِ سائنس و ٹیکنالوجی نے بڑے مفصّل اور ضخیم مسودوں کی صورت میں پیش کی ہے۔ ہماری جامعات میں سے 6 جامعات کا شمار دنیا کی چوٹی کی 600 جامعات میں آگیا تھا اور 2کا شمار چوٹی کی 300جامعات میں تھا،جبکہ 2003ءتک کسی بھی پاکستانی جامعہ کا نام اس فہرست میں نہیں تھا۔طلبہ کا اندراج 2003ءمیں 270,000 سے بڑھ کر آج دس لاکھ تک پہنچ گیا ہے۔ جامعات کی تعداد 59 سے بڑھ کر آج 157 تک پہنچ گئی ہے۔ 2000ءمیں پاکستان میں صرف 700 تحقیقی مقالات شائع ہوئے تھے یہ تعداد بڑھ کر 2012ءمیں 9000 تحقیقی اشاعت تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ 10 سال میں 5000 سے زائد PhD کی ڈگریاں جاری کی گئیں، جبکہ 2003ءسے پہلے 55سال میں صرف 3500 پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری کی گئی تھیں“....یہ اعداد و شمار اپنی جگہ درست ہیں، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ”ڈرامائی“ تبدیلی کا اثر ہمارے ملک میں نظر کیوں نہیں آتا؟

پاکستان میں نئی جامعات کے قیام کا پروگرام اگرچہ قابل ِ تحسین تھا تاہم ایچ ای سی کی نااہلی سے ملک میں ایسی یونیورسٹیز کا سیلاب آ گیا، جن کے مالکان یا انتظامیہ کا واحد مقصد پیسہ بناناتھا۔ اُنھیں طلبا کے مستقبل یا معیارِ تعلیم سے قطعاً کوئی غرض نہ تھی۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول جو جامعات دنیا کی بہترین یونیورسٹیز میں شمار ہوتی ہیں، اُن کا معیار تعلیم پہلے ہی سے بہت اعلیٰ تھا۔ جہاں تک جامعات کی تعداد بڑھ کر 157 ہونے کی بات ہے تو حال یہ ہے کہ اِن میں سے بیشتر جامعات گرانٹس کی شکل میں ایچ ای سی اور فیسوں کی شکل میں طلبا سے پیسہ بٹور رہی ہیں۔ عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والا پیسہ چند مخصوص لوگوں کی معاشی حالت میں تبدیلی کا ذریعہ تو بنا ،مگر تعلیم کا فروغ ایک ادھورا خواب ہی رہا۔ اس پر مستزاد یہ کہ اِن یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں نوجوان بے روزگاری کے عذاب کا شکار ہیں۔

حالیہ سالوں میں یہ خبریں بھی وقتاً فوقتاً اخبارات کی زینت بنتی رہیں کہ فلاں یونیورسٹی کی انتظامیہ جعلی ڈگریاں بیچنے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہے بلکہ شاید ڈاکٹر صاحب کوبھی یاد ہو کہ اس وجہ سے کئی ایک یونیورسٹیز کی رجسٹریشن منسوخ بھی کی گئی، مگر اس مافیا کی دیدہ دلیری اور ایچ ای سی کی ”شاندار کارکردگی“ دیکھئے کہ درس و تدریس جیسے مقدس کام کو دھندا بنادینے والے یہ لوگ نئے ناموں سے یونیورسٹیز قائم کر کے پھر سے اُسی قبیح کاروبار میں مشغول ہو گئے۔ کوئی بھی ذی شعور شخص یہ ہرگز نہیں مان سکتا کہ اس گھناﺅنے کام میں کمیشن کے اہلکاران شامل نہیں۔ اگر طلبہ کے حقوق کے حوالے سے ایچ ای سی کا کردار دیکھیں تو چشم کشا حقائق سامنے آتے ہیں۔ یونیورسٹیز کی درجہ بندی کے لئے ایچ ای سی کی وضع کردہ کیٹگریز میں Wاعلیٰ ترین کیٹگری ہے۔ ایک طالب علم کسی یونیورسٹی کا شمار W کیٹگری میں دیکھ کر وہاں داخلہ لے لیتا ہے۔ اُس کے تعلیم مکمل کرنے تک اُس یونیورسٹی کی رینکنگ گر کر Z کیٹگری میں آ جاتی ہے تو اُسے روزگار کے حصول کے لئے برسوں دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ اِس میں اُس طالب علم کا کیا قصور؟ اُس کے مستقبل کا کیا ہو گا؟ کیا ایچ ای سی نے اس مسئلے کے حل کے لئے خاطرخواہ اقدامات کئے؟ افسوس کہ اس سوال کا جواب ہے.... ”بالکل نہیں“۔ اِس سے بھی پریشان کن بات یہ ہے کہ ایسا نوجوان یا تو نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جائے گا یا پھر معاشرے سے بغاوت کرتے ہوئے غلط راہ پر چل نکلے گا۔

رہی بات PhDs کی تو اِس حوالے سے گزارش یہ ہے کہ بیشتر یونیورسٹیز نے ریسرچ کلچر پروان چڑھانے کے بجائے صرف اپنوں کو نوازا اور ایسے لوگوں کو پی ایچ ڈی کی ڈگریاں عطا کیں،جو قطعی طور پر حق دار نہ تھے۔ یہ لوگ بعض ذہین نوجوانوں کو ملازمت دے کر اُن سے ریسرچ کرواتے ہیں اور اُس کی بنیاد پر اپنی بیویوں، بھائیوں، بہنوں، بیٹے بیٹیوں غرض گھر کے تمام افراد کو PhDs بنا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے اِن پانچ ہزار PhDs کی ذہنی صلاحیتوں کو پرکھا جائے اور اُن کا موازنہ ماضی کے کسی PhD سے کیا جائے تو سر شرم سے جھک جائے، کیونکہ شاید ہی کوئی ایسا ہو جو اِس اعلیٰ ترین ڈگری کا صحیح معنوں میں مستحق ثابت ہو۔

سپریم کورٹ کی جانب سے جعلی ڈگریوں کے خلاف سخت اقدامات کے بعد بعض اراکین پارلیمنٹ کی ڈگریاں جعلی ثابت ہوئیں ، مگر مجال ہے کہ ایچ ای سی نے یہ ڈگریاں جاری کرنے والی کسی یونیورسٹی کے خلاف ایکشن لیا ہو۔ ایک اور تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ جب کوئی یونیورسٹی فیکلٹی ہائر کرنے کے لئے اخبار میں اشتہار دیتی ہے تو کوالیفیکیشن کے ضمن میں واضح طور پر تحریر کیا جاتا ہے کہ ”فارن کوالیفائیڈ افراد ہی اہل یا قابل ترجیح ہیں “۔ جب کوئی یونیورسٹی اپنے ہی کسی PhD کو فیکلٹی میں شامل نہیں کرتی تو بیرون ملک اُس کی ڈگری کی کیا وقعت ہو گی!

حال ہی میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ملک میں اعلیٰ تعلیم کے رو بہ زوال نظام پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ اس رپورٹ میں یونیورسٹی لیول کے طلبا کی صلاحیتوں کی یہ حقیقت سامنے آئی کہ CSS 2013ء میں صرف 2.38 فیصد لوگ ہی کامیاب ہو سکے۔ کیا یہ ایچ ای سی کے دعووں کی قلعی کھولنے کے لئے کافی نہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ایچ ای سی کو اس قدر فعال بنانے کے لئے کیا کیا جائے کہ اسے تباہ کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے تو یونیورسٹیز کی سخت مانیٹرنگ کے لئے ایچ ای سی کے تحت ایک ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی جائے جو کسی قسم کے دباﺅ کو خاطر میں لائے بغیر ایسے تمام عناصر کو کٹہرے میں لائے، جو تعلیم کے نام پر قوم سے ایک سنگین مذاق مسلسل کئے جا رہے ہیں۔ اس اتھارٹی کو مکمل حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہو۔ تمام یونیورسٹیز میں فائنل ٹرم کے امتحانات اسی اتھارٹی کے تحت منعقد کئے جائیں تاکہ ملک کی جاب مارکیٹ میں آنے والے تمام نوجوانوں کو روزگار کے یکساں مواقع میسر ہوں اور کسی یونیورسٹی کی رینکنگ میں کمی اُس نوجوان کے مستقبل کو داﺅ پر نہ لگا دے۔ آج کے پاکستان میں میڈیا اور عدلیہ ہی ریاست کے طاقت ور ستون ہیں خصوصاً میڈیا پر کسی قسم کی قدغن لگانا شاید اب کسی حکومت کے بس کی بات نہیں، کیونکہ میڈیا گروپس اور سول سوسائٹی اس کے خلاف ہم آواز ہوں گے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ایچ ای سی کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب تعلیم صوبوں کی عمل داری میں ہے، اس لئے صوبائی سطح پر ایچ ای سی کی طرز پر اداروں کی تشکیل کی جائے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کا رول صرف معیار تعلیم میں بہتری لانے کے عمل کی نگرانی ہو۔ کسی ادارے کی بربادی کا رونا رونے اور سیاست دانوں کی ”سازشوں“ کو بے نقاب کرنے سے پہلے اس کے سابقہ کردار کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کر لیا جائے تو ساری صورت حال کھل کر سامنے آئے گی۔ خدارا قوم کو درست حقائق سے آگاہ کیا جائے۔ مجھے قوی اُمید ہے کہ ڈاکٹر صاحب میری گزارشات پر توجہ فرمائیں گے اور ان کی روشنی میں سپریم کورٹ اور حکومت پاکستان کو مناسب رہنمائی ضرور فراہم کریں گے تاکہ ہمارے نظام تعلیم کی بہتری کے لئے مربوط پالیسیاں بنائی جائیں کیونکہ ایسا نہ ہونے کی صورت میں ہمارا پاکستان کو ایشین ٹائیگر بنانے اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنے کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔ ٭

مزید :

کالم -