وہ مشروب جو قدیم فارس میں شادی کے بعد ایک ماہ تک مسلسل نوبیاہتا جوڑوں کو پلایا جاتا تھا

وہ مشروب جو قدیم فارس میں شادی کے بعد ایک ماہ تک مسلسل نوبیاہتا جوڑوں کو ...
وہ مشروب جو قدیم فارس میں شادی کے بعد ایک ماہ تک مسلسل نوبیاہتا جوڑوں کو پلایا جاتا تھا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) بہتر مردانہ قوت اور خوشگوار ازدواجی زندگی کے لیے لوگ طرح طرح کے مہنگی ادویات استعمال کرتے ہیں لیکن ماہرین نے کھانے کی چند ایسی چیزیں بتا دی ہیں جنہیں اگر انسان اپنی خوراک کا حصہ بنا لے تو ان مہنگی ادویات اور کٹھن طریقہ ہائے علاج سے بچا جا سکتا ہے اور اپنی ازدواجی زندگی کو آسانی کے ساتھ خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔ذیل میں آپ کے لیے وہ اشیاءاور ان کی تاریخی افادیت بیان کی جا رہی ہے۔

شہد

شہد کی افادیت قرون وسطیٰ سے مسلم مانی جاتی ہے۔ اس قدیم زمانے کے لوگ بھی اپنی مردانہ قوت میں اضافے کے لیے شہد استعمال کرتے تھے۔ بالخصوص قدیم ایران میں اس کے استعمال کے واضح شواہد موجود ہیں، جہاں میاں بیوی شادی کے بعد ایک ماہ تک مسلسل شہد کھاتے تھے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ ”ہنی مون“(Honeymoon) کی اصطلاح بھی شہد کی اسی تاریخی حیثیت سے ماخوذ ہے۔ طبی نقطہ نظر سے شہد میں وٹامن بی اور بورون (Boron) وافر مقدار میں پائے جاتے ہیںجو مردوں میں جنسی رغبت کو ابھارنے والے انسانی ہارمون ٹیسٹاسٹرون (Testosterone) کی مقدار میں اضافے کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔شہد سے نظام دوران خون بھی بہتر ہوتا ہے۔

لہسن

لوگ سانس میں بدبو آنے کے ڈر سے لہسن کا استعمال نہیں کرتے لیکن یہ انسان کی جنسی صحت کے لیے انتہائی مفید چیز ہے اور یہ قدیم مصری تہذیب سے آج تک اس مقصد کے لیے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔اس میں ایلچین(Allicin)بھرپور مقدار میں پائی جاتی ہے جو نظام دوران خون کو بہتر بناتی ہے اور انسان کو بہت زیادہ توانائی فراہم کرتی ہے۔

ادرک

ماہرین کے مطابق ادرک بھی مردوں کے لیے انتہائی مقوی غذا ہے۔ اس کی خوشبو کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ نظام دوران خون کوانتہائی فعال بنا کر جسم کے کونے کونے میں خون کی آمدورفت یقینی بناتی ہے۔یہ نہ صرف جنسی قوت کے لحاظ سے فائدہ مند ہے بلکہ اس سے پورے جسم کو تقویت ملتی ہے اور بیماریوں کے خلاف مدافعت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ادرک کو پانی میں ابال کر اس میں تھوڑا سا لیموں اور شہد ڈال کر اس کی چائے بنا کر پینے سے انسان کا مدافعتی نظام بہت طاقتور ہو جاتا ہے۔

انجیر

تقریباً ہر قدیم تہذیب میں انجیر کے استعمال کے شواہد ملتے ہیں۔ قدیم یونان کی ملکہ قلوپطرہ، جو اپنی خوبصورتی اور رومانوی طرززندگی کے باعث آج بھی شہرت رکھتی ہے، کے متعلق کہا جاتا ہے کہ انجیر اس کا بھی پسندیدہ پھل تھا۔ قدیم یونان کے لوگ انجیر کو محبت کی علامت سمجھتے تھے۔انجیر میں فولاد، پوٹاشیم، فائبر و دیگر کئی ایسے اجزاءبکثرت پائے جاتے ہیں جو دل اور خون کے خلیوں کی کارکردگی میں اضافہ کرتے ہیں۔آئرن انسان میں تھکن اور کمزوری کا خاتمہ بھی کرتا ہے جس سے آدمی ہمہ وقت توانا اور متحرک رہتا ہے۔

کھجور

ماہرین کا کہنا ہے کہ کھجور مردوخواتین کے لیے کئی حوالوں سے فائدہ مند ہے لیکن جنسی صحت کے حوالے سے یہ بالخصوص خواتین کے لیے انتہائی مقوی اور مفید ہے۔اس میں وٹامن اور منرلز وافر پائے جاتے ہیں جو انسان کو توانائی سے لبریز کر دیتے ہیں۔

سامن مچھلی

اگرچہ سمندر سے حاصل ہونے والی تمام غذاﺅں کو جنسی صحت کے حوالے سے انتہائی مفید سمجھا جاتا ہے لیکن سامن مچھلی یا میٹھے پانی کی مچھلی کو اس حوالے سے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔اس میں بہت زیادہ پروٹین پایا جاتا ہے جو جسمانی قوت کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اومیگا3ایس بھی بہت زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے جو انسان کی قوت حافظہ، عصبی نظام کو تقویت دینے والے اور انسان کو فرحت و شادمانی بخشنے والے مادے سروٹونین (Serotonin)کی پیداوار میں اضافہ کرتا ہے۔اس مچھلی میں وٹامن اے ، بی ، ڈی اور کیلشیئم بھی وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں جس سے انسان کی جنسی صحت کے ساتھ ساتھ پورے جسم کو تقویت ملتی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -