تاریخی معاہدہ

تاریخی معاہدہ
 تاریخی معاہدہ

  

پاکستان اور قطر میں ایل این جی کا تاریخی معاہدہ طے پا گیا: ’’پاکستان‘‘ اخبار کی شہ سرخی۔ برادر اسلامی ملک قطر، جس نے برطانیہ سے 1971ء میں آزادی حاصل کی۔ یہ مشرق وسطیٰ کی ایک چھوٹی سی ریاست ہے، جس کی آبادی بہت کم ہے۔ یہاں پر 1930ء میں تیل، پٹرول اور گیس کے بہت بڑے ذخائر دریافت ہوئے۔ اس دولت کو صحیح استعمال کرتے ہوئے حکومت نے عوام کو تفریح تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں فراہم کیں اور اپنے عوام کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے 1993ء میں قطر یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ اس طرح 1975ء میں حکومت وقت نے سابقہ شاہی محل کو نیشنل میوزیم میں تبدیل کر دیا۔ اس ملک میں ٹیکس کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے کاروبار زندگی اپنے عروج پر ہے۔نئی اور جدید عمارات بنانے کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔ اس میں ذرائع آمد و رفت کے حوالے سے سڑکوں اور ٹرینوں کا نظام بھی جدت آمیز ہے۔ یہاں بلند و بالا ہوٹل بھی زیرتعمیر ہیں، جن پر حکومت بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے، کیونکہ یہ ملک اس وقت سیاحوں کے لئے اپنے اندر بہت کشش اور جاذبیت رکھتا ہے۔

قطر میں 1995ء میں ایک نیوز چینل ’’الجزیرہ‘‘ کا آغاز ہوا،جس سے مختلف زبانوں، اردو، عربی، انگریزی میں عوام کو خبریں اور معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کی نشریات دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں سنی جاتی ہیں۔ اس مملکتِ اسلامی کا دارالحکومت دوحہ شہر ہے،جس کا شمار دنیا کے اہم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔اس شہر کو بچشمِ خود دیکھنے کا ہمیں دوبار موقع ملا اور ہم اس کی نیرلگیوں میں خاصی دیر گم رہے! یہاں پر بیرون ممالک کے لوگ سرمایہ کاری کرنے اور ملازمت کرنے کے لئے آتے جاتے رہتے ہیں، جس میں پاکستان، انڈیا، سری لنکا، مصر اور شمالی افریقہ شامل ہیں۔ تیل، پٹرول اور گیس کی دولت سے مالامال یہ ملک تیزی کے ساتھ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ حکومتِ قطر تیل کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کرتی نظر آتی ہے۔ دوحہ شہر کھیلوں کی دنیا میں بھی اہم مقام رکھتا ہے۔ یہاں پر کھیلوں اور تفریح پر بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ حکومت نے قطر میں اربوں ڈالر کی خطیر رقم سے تیار ہونے والا دنیا کا سب سے بڑا انڈر گراؤنڈسٹیڈیم تعمیر کیا ہے۔

دسمبر2006ء میں پندرہویں ایشین گیمز بھی اسی شہر میں منعقد ہوئیں، جن کا شمار دنیا کی سب سے بڑی گیمز کے طور پر ہوتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دوحہ کھیلوں کے اہم مرکز کے طور پر اُبھر رہا ہے۔ قطر حکومت جن کھیلوں میں خصوصی دلچسپی لیتی ہے، ان میں تیراکی، کشتی رانی، باکسنگ اور فٹبال کا کھیل خاص طور پر شامل ہیں۔ دوحہ ایئرپورٹ کا شمار دنیا کے جدید ترین ہوائی مستقر میں ہوتا ہے۔ جہاں پر دن رات میں مختلف ایئر لائنز کے جہاز اترتے چڑھتے رہتے ہیں۔ تیل، گیس اور پٹرول کے علاوہ بھی یہاں کی گورنمنٹ نے مختلف ممالک سے دیگر شعبوں میں معاہدے کر رکھے ہیں، جن کی تکمیل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ پاکستان اور قطر کے درمیان متذکرہ تاریخی معاہدے کا طے پانا ایک نہایت خوش آئند اقدام ہے، جس سے پاکستان میں لوڈشیڈنگ میں کمی واقع ہونے کی توقع ہے۔

اس معاہدے پر عمل درآمد سے ہمارے ملک میں طویل عرصے سے بند پڑی مختلف کارخانوں کی مشینری رواں ہوگی اور ہمارا ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ اس طرح پاکستان میں خوشحالی آئے گی۔ مزدور کو روزگار ملے گا اور گھروں میں چراغ روشن ہوں گے۔ ٹیوب ویل چلیں گے اور کھیت لہلہا اٹھیں گے۔ زمین سونا اُگلے گی، کیونکہ یہ خطہ ء زمین کسی طرح بھی کسی دوسری سرزمین سے کم نہیں ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اپنے وطن عزیز کے سینے میں چھپے ہوئے خزانوں کے ذخائر کو تلاش کرنے کی سعی بھی کریں۔ ہمارا ملک ہر طرح کی معدنیات کی دولت سے مالامال ہے۔ ہمیں صرف ان خزانوں کو زمین سے برآمد کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لئے نیک نیتی، جدید مشینری اور محنت کی ضرورت ہے۔ اس طرح سے ہم خود انحصاری کی دولت سے بھی مالامال ہوں گے۔ پاکستانی عوام جو پہلے ہی بھاری قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں، اس قسم کے معاہدے، چاہے وہ کتنے ہی کم قیمت میں کیوں نہ طے پائیں، کے بوجھ سے آزاد ہو جائیں گے۔ ہمارے ملک میں نہ تو ہنرمندوں کی کمی ہے اور نہ محنت کرنے والوں کی ، بقول امتیاز کاظمی:

قریب منزل کو دیکھ کر اب

قدم بھی اپنا سنبھل رہا ہے

سحر بھی آخر رہے گی آ کر

وہ دیکھو سورج نکل رہا ہے!

مزید :

کالم -