ڈاکٹروں کی سیاست اور حکومت کا فرض

ڈاکٹروں کی سیاست اور حکومت کا فرض

  

وفاقی وزیر مملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ نے کہا ہے کہ ڈاکٹر بذات خود بہت بڑے سیاستدان ہیں اور ان کی آپس کی سیاست نے شعبہ صحت کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان میں صحت کی سہولتوں کی شرح شرمناک حد تک گراوٹ کا شکار ہے، تاہم حکومت چیزوں کو بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وہ اکیڈمی آف فیملی فزیشن میں تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔ محترمہ وزیر مملکت نے مرض کی تشخیص تو کر دی ہے، اب ان کا فرض ہے کہ وہ علاج بھی کریں۔ ڈاکٹر اگر سیاستدان بن گئے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ حکومت بھی انہیں سیاستدان ہی سمجھنا شروع کر دے اور ان کے مطالبات کی منظوری کے ضمن میں ان سے سیاستدانوں والا سلوک کرے، بنیادی طور پر تمام ڈاکٹر شعبہ صحت کے ملازم ہیں اور ان پر کلی طور پر سرکاری قواعد کا اطلاق ہوتا ہے، ان سے انہی قواعد کے مطابق سلوک ہونا چاہئے اور خلاف ورزی پر تادیبی کارروائی بھی ضروری ہے۔ اگر ہڑتالوں کے خوف سے ایسا نہیں ہوگا تو پھر شعبہ صحت کی اصلاح ممکن نہیں ہوگی اور ڈاکٹر حسب سابق من مانیاں کرتے رہیں گے۔ ڈاکٹروں کو جو فرائض سونپے جاتے ہیں ان کی بطریق احسن ادائیگی ان کا سرکاری اور اخلاقی فرض ہے، اگر ڈاکٹر اپنی ٹریڈ یونین سرگرمیوں کی بنیاد پر اپنے فرائض کماحقہ، ادا نہیں کرتے تو حکومت کو ان کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ شعبہ صحت میں سہولتوں کی کمی کا اعتراف تو وزیر صاحبہ نے خود کرلیا ہے، اب ان کا فرض ہے کہ وہ اس جانب توجہ فرمائیں۔ ان کا کام محض کوتاہیوں وغیرہ کی نشاندہی نہیں، ان کا درست علاج بھی ہے اور ان سے یہی امید کی جاتی ہے کہ وہ شعبہ صحت کی حالت بہتر بنائیں گی۔

مزید :

اداریہ -