نجکاری پروگرام سے تعلیمی اداروں ، اساتذہ کی شہرت کو نقصان پہنچا، پنجاب ٹیچرز یونین

نجکاری پروگرام سے تعلیمی اداروں ، اساتذہ کی شہرت کو نقصان پہنچا، پنجاب ...

  

لاہور( اپنے نامہ نگار سے ) حکومت ایجوکیشن اتھارٹی کے نفاذ کا فیصلہ واپس لے اور پیف کے حوالے کئے گئے 5500 سکولوں کو واپس لے وگرنہ 19 فروری سے احتجاجی تحریک کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں پہلے مرحلہ میں جنوبی پنجاب کے اضلاع سے احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ سیکورٹی کے ناقص انتظامات کے الزام میں اساتذہ کے خلاف پرچے دیئے جارہے ہیں حالانکہ حفاظتی انتظامات حکومت کی اپنی ذمہد اری ہے سکولوں میں جانے والے بچے اور استاد ہر وقت خطرے کی گھنٹی کا بوجھ اپنے اوپر سمجھتے ہیں ۔ ان خیالات کاا ظہار اللہ بخش قیصر ، رمضان انقلابی ، فرخندہ عثمان ، میر چغتائی ، اللہ رکھا گجر اور تاج حیدر نے صحافیوں سے گفتگو کر تے ہوئے کیا ۔ اللہ بخش قصیر نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی ایسا کارنامہ نہیں جس سے عوام مطمئن ہو سکیں ۔ اس لئے صوبائی حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں اساتذہ کو بدنام کرنے اور کام چور ثابت کرنے کیلئے تمام سرکاری وسائل استعمال کرکے استاد کی شہر ت کو نقصان پہنچایا ہے جبکہ دراصل پس پردہ حکومت کا پروگرام نجکاری ہے ۔ جو کہ پی آئی اے صحت اور دیگر اداروں پر تھوپی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم اور صحت پوری دنیا میں ریاست اپنے شہریوں کو مفت فراہم کرتی ہے ۔ مگرحکمرانوں نے تعلیم کو پرائیویٹ کرنے کا پختہ عزم کررکھا ہے اس ضمن میں 5500ادارے پیف کے حوالے کئے جارہے ہیں ۔ جو کہ سراسر عوامی استحصال ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم 19فروری سے باقاعدہ تعلیم بچانے کیلئے تحریک کا آغا ز کررہے ہیں اور صوبہ بھر کے تمام اداروں کے تحفظ کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے مگر پیف کے حوالے کئے جانے والے اداروں کی واپسی ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے قیام اور ظالمانہ منصوبے ناکام بنا دیں گے ۔ حکومت اساتذہ کو بدنام کرنا اور نجکاری جیسے مذموم ادارے ترک کرکے فلاحی کام کریں ۔ جس کا عوام کو فائدہ پہنچ سکے ۔ اس وقت ملک کے چالیس فیصد عوام دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں اور غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرر ہے ہیں مگر شاہی محلوں میں رہنے والوں کو جھونپڑی نشینوں کے مسائل کا کیا پتا ان کو توغلامی کا طوق پہن کر ان کے وزیر مشیر سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں جبکہ سب اچھا کی رپورٹ سراسرغلط ہے ۔ اب حکومت پنجاب نے ایجوکیٹر کی بھرتی کا اعلان کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ غلط پالیسیاں بنا کر تعلیم کو تباہ کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہا گزشتہ سال بچے پنجم کا امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے اور انہیں سزائیں دی گئیں اس برس بھی انگلش کا پرچہ بہت مشکل تھا ۔ ایسے سوالات امتحان میں شامل کرنا اور فیل ہونے کی صورت میں اسے پاس اور اساتذہ کو سزا دینا بہت نامناسب پالیسی ہے ۔ جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے آخر میں کہاکہ پنجاب بھر کے اساتذہ میرے ہمراہ چلیں ہم نے ان ظالمانہ پالیسوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا عزم کیا ہے حکومت کی طرف سے نافذکردہ ایسی پالیسیاں جو سراسر استاد دشمن ہیں انہیں ختم کرکے دم لیں گے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -