مارکیٹ گراوٹ کا الزام چین پر عائد کرنا حقیقی مسئلے پر توجہ دینے سے انحراف ہے

مارکیٹ گراوٹ کا الزام چین پر عائد کرنا حقیقی مسئلے پر توجہ دینے سے انحراف ہے

  

بیجنگ (آئی این پی /شنہوا)ایکوٹی مارکیٹ سرمایہ کاروں کے لئے گذشتہ ہفتہ سیاہ دور ثابت ہوا کیونکہ تعطیلات کے دوران بند رہنے والی تمام سٹاک مارکیٹوں بینچ مارک انڈیکس لڑ کھڑا گئے ۔تازہ ترین مارکیٹ کریش سے ثابت ہوتا ہے کہ حالیہ مالیاتی مارکیٹ بحران کا الزام چین پر دھرنا بے بنیادہے کیونکہ چین کی سٹاک مارکیٹیں نئے قمری مالی سال کی تعطیلات کی وجہ سے بند تھیں اور ملک میں کوئی اقتصادی اعدادو شمار یا نئی پالیسیاں جاری نہیں کیں۔کئی ایک کا خیال ہے مارکیٹ کی مشکلات مختلف عوامل کا نتیجہ ہے جن میں جاپان کا منفی شرح سود کا حیرا ن کن اختیار امریکہ میں شرح سود میں اضافے کے امکان بارے غیر یقینی صورتحال ، تیل کے گرتے ہوئے نرخ اوریورپ کے نمایاں بینکوں کی مالیاتی قوت کے بارے میں خدشات شامل ہیں ، اس حقیقت کے باوجود کہ عالمی مارکیٹ گذشتہ ہفتے چین کے اثرات سے کسی لحاظ سے انسولیٹڈ ہے ، یہ کوششیں کی جارہی ہیں کہ حقیقی عالمی اقتصادی مشکلات پر توجہ دینے کے بجائے چین کو پگھلاؤ کا مورد الزام ٹھہرایا جائے ، عالمی معیشت گذشتہ چند برسوں میں طویل کمزور بحالی کی وجہ سے مشکلات کا شکاررہی ہے کیونکہ ممالک نے بلبلوں کے پھٹنے سے گریز کی کوششوں میں اثاثوں کی قیمتوں میں اضافے کے لئے انتہائی نرم مالیاتی پالیسی اختیار کی ۔یہ بات بجاہے کہ چین ان مسائل سے کلیتاً مستثنیٰ نہیں ہے کیونکہ یہ ملک اپنی تشکیل نو کوششوں سے گزررہا ہے ، بعض تبصرہ نگاروں کے دعوے کے برعکس چینی معیشت مضبوط پوزیشن میں رہی اور مبینہ ’’ہارڈ لینڈ نگ ‘‘کاامکان انتہائی کم ہے ۔

مزید :

کامرس -