عزیر بلوچ کے انکشافات کا پنڈورا بکس

عزیر بلوچ کے انکشافات کا پنڈورا بکس
 عزیر بلوچ کے انکشافات کا پنڈورا بکس

  

مَیں پھر عزیر بلوچ کا ذکر کروں گا جو اس وقت طویل جسمانی ریمانڈ پر رینجرز کی ’’تحویل‘‘ میں ہے اور روز انکشافات کا نیا پنڈورا بکس کھولتا ہے۔ بڑے بڑے لوگوں کے نام ہیں جو اُس نے رینجرز کی تحقیقاتی ٹیم کو بتائے ہیں۔ یہ وہ بڑے لوگ ہیں ،جن کے ایماء پر اُس نے کراچی میں قتل و غارت کا بازار گرم رکھا۔ چُن چُن کر ’’سپاری‘‘ دینے والوں کے مخالفین کو قتل کیا۔ نہ صرف قتل کیا ،بلکہ نعشوں کے ٹکڑے کر کے انہیں ندی نالوں میں بہا دیا یا پھر صندوقوں اور بوریوں کی نذر کیا۔عزیر بلوچ بظاہر ایک سیاسی کارکن تھا، لیکن درحقیقت کراچی میں خوف و دہشت کی علامت بن چکا تھا۔ بھتہ کی مَد میں کروڑوں روپے کی رقم اُس کے پاس جمع ہوتی تھی جو شہر کے اعلیٰ پولیس افسروں اور پیپلز پارٹی کے چند بڑوں میں تقسیم ہو جاتی تھی۔ سندھ حکومت کے سابق ترجمان اور سابق وزیر شرجیل میمن کا نام بھی اُن لوگوں کی فہرست میں شامل ہے، بلکہ سرفہرست ہے ،جن کے ایماء پر عزیر بلوچ نے ظلم کے پہاڑ توڑے۔ شرجیل میمن کو بھی اپنے انجام کا پتہ ہے۔ اس لئے وہ واپس ملک میں آنے سے گریزاں ہیں۔اُنہیں نظر آرہا ہے کہ ملک میں آئے تو اُن کا حشر کیا ہو گا؟ سندھ حکومت بھی انہیں قانون کے اُس مضبوط شکنجے سے نہیں بچا پائے گی جو اب اُن کے گرد روز بروز تنگ ہوتا جا رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری کو بھی یہی دھڑکا لگا ہوا ہے کہ پاکستان واپسی پر اُن کی’’ سلامتی ‘‘ کی ضمانت کون دے گا ،کیونکہ اُن سے اب فوج ہی نہیں وفاقی حکومت بھی اپنا ہاتھ پیچھے ہٹا چکی ہے۔ پاکستان واپسی پر اُن کے لئے خطرہ ہی خطرہ ہے۔ اگرچہ ماضی میں وہ کافی عرصہ جیل میں رہے ہیں، لیکن اس بار جیل گئے تو شاید جیل سے باہر نہ آ سکیں۔اس بار جیل گئے تو سیاسی نہیں، بڑے کریمنل کے طور پر جائیں گے۔ یہی وہ وجہ ہے کہ جب سے دبئی گئے ہیں، دوبئی کے ہی ہو کر رہ گئے ہیں۔ فوج کو للکارنے یا اُس کی اینٹ سے اینٹ بجانے جیسا بیان دے کر اب اُن کے دل میں پچھتاوا ہی رہ گیا ہے، لیکن ’’اب پچھتائے کیا ہوت، جب چڑیاں چُک گئیں کھیت‘‘۔۔۔ اب حالات آصف علی زرداری یا پیپلز پارٹی کے حق میں بہتر نہیں، کب اور کیسے نارمل ہوتے ہیں؟ابھی ایسے کوئی حالات نہیں۔ پرانی کہاوت ہے ’’ہر بات سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے‘‘ اور’’ پہلے تولو، پھر بولو‘‘۔۔۔ لیکن آصف علی زرداری نے کچھ بھی خیال نہیں رکھا۔ وہ جوشِ جذبات یا جوشِ خطابت میں اُس ادارے کومطعون کر گئے جو ہماری سرحدوں کی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ انہی حالات نے میاں محمد نواز شریف کو بھی آصف علی زرداری سے دُور کیا۔

آصف علی زرداری جس پارٹی کے کوچیئرمین ہیں، اُس کا بھی اپنا حال بُرا ہے۔ اُس کی سیاست پورے ملک میں پِٹ چکی ہے۔ سیاسی بانچھ پن کا شکار ہونے والی یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت اس حال کو پہنچ جائے گی کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ پارٹی ضرور چل رہی ہے، لیکن ایسے ،جیسے اُسے کسی نے ’’وینٹی لیٹر‘‘ پر ڈال دیا ہو۔ یہ صدمے کی گھڑی ہے ‘وہ لوگ جو پیپلز پارٹی کے ساتھ مخلص اور اتنا کچھ ہونے کے باوجود اب بھی اس کے ساتھ ہیں اور اس کا دم بھرتے ہیں۔ اپنے آپ کو پارٹی قیادت کی نااہلی کی وجہ سے یتیم سمجھنے لگے ہیں۔ کوئی اُن کا پُرسان حال اور والی وارث نہیں۔ وہ بے بسی اور بیچارگی سے قیادت کی طرف دیکھتے ہیں تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ قیادت خود حالتِ نزاع میں ہے۔ایسے میں وہ کیسے یقین کر لیں کہ پارٹی کی نیّا پار لگے گی اور کوئی ملاح اسے طوفانوں سے نکال لے جائے گا اور یہ پھر سے کنارے لگ جائے گی۔ اپنے اُس سیاسی سفر کر آغاز کر سکے گی جس کی بنیاد اس کے بانی، عظیم سیاسی رہنما ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی۔

پیپلز پارٹی یا آصف علی زرداری کے پاس اگرسیاست میں کچھ تھوڑا بہت باقی رہ گیا تھا تو عزیر بلوچ کے انکشافات نے اُسے بھی باقی نہیں رہنے دیا۔ اُس کے پنڈورا بکس سے انکشافات کا جو نیا سلسلہ شروع ہوا ہے، وہ نہ ختم ہونے والا ہے۔ بڑا بھیانک ہے اور خوفناک بھی۔ اس کے اثرات آصف علی زرداری، اُن کے قریبی ساتھیوں اور پیپلز پارٹی پر واضح نظر آ رہے ہیں۔’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم! تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘ کے مصداق ہم جلد سن لیں گے کہ پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی گزر گیا ہے۔ خراب صورت حال ہے اس وقت آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کے لئے ۔ عزیر بلوچ اس تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا۔ خدا ایسے دن بھی کسی کو نہ دکھائے جن کا سامنا آج آصف علی زرداری ، اُن کے ساتھی اور پیپلز پارٹی کر رہی ہے۔عزیر بلوچ کے انکشافات ایوانِ وزیراعظم اور جی ایچ کیو تک پہنچ چکے ہیں، لیکن یہ سنسنی خیز انکشافات جیسے ہی میڈیا کے ذریعے طشت ازبام ہوئے، سیاست میں ایک بھونچال برپا ہو جائے گا۔ کوئی کچھ بھی کہے، لیکن یہ حقیقت ہے کہ ہر ایک کو اپنے کئے کی سزا بھگتنی ہی پڑتی ہے۔ چاہے یہ جہاں ہو، یا وہ جہاں۔ سزا کا عمل کبھی نہیں رکتا۔ یہی دین و دنیا کا دستور ہے۔

مزید :

کالم -