یو ایم ٹی ،لاہوری ناشتہ اور ادبی بیٹھک

یو ایم ٹی ،لاہوری ناشتہ اور ادبی بیٹھک
 یو ایم ٹی ،لاہوری ناشتہ اور ادبی بیٹھک

  

پیارے دوستو، سنائیں کیسے ہیں ، امید ہے کہ اچھے ہی ہو ں گے، ہم بھی اچھے ہی ہیں، دوپہر کے قریب موبائل فون کی گھنٹی بجی فون اٹھایا ہیلو کیااورکہا فیصل بھائی۔ السلام علیکم کیسے ہیں ہم سے پوچھا گیا ، ہم بخیریت ہیں ہم نے جواب دیا ، پھر دوسری طرف سے کہا گیا لقمان بول رہا ہوں آپ کے شہر میں ہوں کب ملاقات ہو رہی ہے،ہم نے کہا جب جی چاہے ،ابھی آپ کہاں ہیں ، دفتر جا رہا ہوں میں نے پھرکہا کہ گھنٹے تک فری ہو تا ہوں تو ملاقات کرتے ہیں ،پھر بولے فیصل بھائی آپ کے ایک دوست اور بھی ہیں، انہوں نے فون پرکسی کو آواز دی۔ پھر جو آواز ہمارے کانوں میں سنائی دی وہ حسیب اعجاز عاشر کی تھی ،جو کہ تازہ تازہ دبئی سے آئے ہیں اور یونیورسل اردو نیوز کے نام سے انٹرنیٹ پر ویب سائٹ چلا رہے ہیں ، آج کل لاہور میں قیام پذیر ہیں۔ یہ بھی بتلاتے چلیں کہ اردو یونیورسل نیوز ویب سائٹ پر بھی ہمارے کالم عرصہ دراز سے شائع کر رہے ہیں ، بہر حال حسیب نے کہا کہ فیصل بھائی اگر ابھی ملاقات نہ ہو سکی تو پھر اتوار کو یو ایم ٹی یونیورسٹی میں ادبی بیٹھک ہوتی ہے، ضرور آئیے گا ، ہم نے کہا چلیں دیکھتے ہیں۔

حسیب اعجاز کے ساتھ پروگرام طے ہونے پر ہمیں جنید کے ساتھ پتوکی جانے کا پروگرام کینسل کر نا پڑا ،ہفتے کی رات حسیب اعجازنے مجھے فون پر ایک بار پھر ادبی بیٹھک میں شرکت پر زور دیا ،اتوار کی صبح دس بجے گھر سے یو ایم ٹی یونیورسٹی پہنچے ،تو پروگرام کا آغاز ہو چکا تھا ۔جب ہم ہال میں داخل ہوئے تو ہماری نظریں اس بینر پر پڑیں جو سٹیج کے پیچھے لگایا گیا تھا ، جب اس پر نظر پڑی تو دیکھا کہ اس پر جو درج تھا وہ یہ تحریر تھی کہ ،پاکستانی اردو ڈرامہ:حسینہ معین ایک شخصیت ،جبکہ شریک گفتگو جو تھے ان میں نعیم طاہر ،منو بھائی ، عمرانہ،و دیگر شامل تھے ،جب کہ کمپئیر آمنہ تھیں ہمیں پہلے بھی ادبی بیٹھک میں شرکت کی دعوت ملتی رہی، لیکن شرکت کا موقع نہ ملا ۔ مہر رؤف جو کہ یوایم ٹی کے کوارڈینیٹر بھی ہیں، اکثر ہمیں ادبی بیٹھک میں شامل ہو نے کا عندیہ دیتے رہے، لیکن ہم ان کے دعوت نامہ سے فیض یاب نہ ہوسکے، حسیب اعجاز نے دعوت دی تو انکار نہ ہو سکا۔

جب ہم پروگرام میں شرکت کے لئے پنڈال میں پہنچے تو حاضرین محفل لاہوری ناشتے سے، جن میں نان چنے ، پائے ، حلوہ ، وغیرہ اور چائے شامل تھی، محظوظ ہو رہے تھے ۔ حسیب اعجاز نے ہمیں بھی ناشتے کی دعوت دی تو ہم نے بھی ہلکا پھلکا ناشتہ کیا ، وہ اس لئے کہ صبح صبح زیادہ ہیوی ناشتہ ہضم نہیں ہو تا ، بہر حال پُر تکلف ناشتہ نوش فرمانے کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا ، پروگرام کے آغاز میں معروف گلوکار استاد پرویز نے عارفانہ کلام پیش کیا، پھر اس کے بعد مقررین نے پاکستانی ادب اور پاکستانی ڈرامہ کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کئے ، تاہم مقررین کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈرامے میں حسینہ معین صاحبہ کے ڈراموں کو منفرد حیثیت حاصل ہے۔ مقررین نے یہ بھی بتایاکہ انہوں نے تنہائیاں ،دھوپ کنارے ، کرن کہانی ، سمیت بے شمار ڈرامے ، لکھے ، اور نہ صرف یہ بلکہ حاضرین کو یہ بھی بتایا گیا کہ حسینہ معین کے ڈرامے آج بھی دنیا بھر میں مقبول ہیں ۔ہمیں آج بھی یاد ہے کہ جب ہم بچے تو تھے ہم بھی بہت شوق سے تنہائیاں اور دھوپ کنارے دیکھتے تھے ، طنز و مزاح سے بھر پور ڈرامے آج بھی ہمیں یاد ہیں ، حسینہ معین پاکستانی ادب میں ایسا نام ہے جو کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔

تقریب میں حسینہ معین صاحبہ نے بھی اپنے حالات زندگی حاضرین محفل کو سنائے، اپنی زندگی کے بارے میں اپنے ڈراموں بارے ،اور اپنی تحریروں سے متعلق اپنی یادوں سے بھی حاضرین محفل کو مستفید کیا ، ہم پہلی دفعہ لاہور میں یو ایم ٹی کی ادبی بیٹھک میں شریک ہوئے اور شرکت کر کے خوشی محسوس ہوئی ، حاضرین محفل میں الطاف حسن قریشی جو سینئر صحافی اورماہنامہ اردو ڈائجسٹ کے بانی ہیں بھی شریک تھے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے کامران ایک دوست الطاف بھی موجود تھے ، ہمیں تقریب میں ہی ہمارے ایک دوست نے بتایا کہ یو ایم ٹی میں ہر مہینے کی پہلی اتوار کو ادبی بیٹھک ہوتی ہے ،لیکن اس ماہ فروری 2016ء میں دوسرے اتوار کو منعقد ہو ئی جس میں ہم بھی خوش قسمتی سے شامل تھے۔ ہمیں خوشی ہوئی کہ اس دور میں خوبصورت محافل کا انعقاد ہو تا ہے، جس سے اہل علم و ادب بھی فیض یاب ہوتے ہیں ۔ ظاہر ہے اچھی محافل میں اچھی باتیں ہی سننے کو ملتی ہیں ، ہم بھی خاصی دیر ادبی محفل سے فیض یاب ہوتے رہے اور اختتام سے قبل ہی حسیب اعجاز عاشر اور دیگر دوستوں سے اجازت لے کر محفل سے رخصت ہوئے ،لیکن خیال یہی تھا کہ اس قسم کے پروگرام اور محافل کا انعقاد باقاعدگی سے ہونا چاہئے تاکہ گھٹن کے اس ماحول میں عوام کو چند گھڑیاں خوشی کی بھی نصیب ہوں ، بہر حال اجازت چاہتے ہیں دوستو! آپ سے تو ملتے ہیں چلتے چلتے اللہ نگہبان، رب راکھا۔

مزید :

کالم -