سانحہ بلدیہ فیکٹری ، مالکان سے جبر اً وصول زر تلافی ہڑپ کئے جانے کا انکشاف

سانحہ بلدیہ فیکٹری ، مالکان سے جبر اً وصول زر تلافی ہڑپ کئے جانے کا انکشاف

  

دبئی(صباح نیوز)سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں بھائلہ برادران کا دبئی میں مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کو ریکارڈ کروایا گیابیان منظر عام پر آگیا، فیکٹری مالکان سے زخمیوں اور جاں بحق افرد کے زرتلافی کی مد میں جبر اً وصول کیے گئے کروڑوں روپے سے ثالثوں نے جائیدادیں بنالیں ایک خاتون سیاسی رہنما اور اس کا منہ بولا بیٹا بھی زر تلافی ہڑپ کرنے میں ملوث نکلا، بھائلہ برادران نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو بتایا کہ 2013میں جیل سے رہائی کے بعد ان پر ایک سیاسی جماعت کا شدید دباؤ تھا انہوں نے شوکت خیام اور علی حسن نامی افراد کے زریعہ سیاسی جماعت کے اہم رہنما سے رابطہ کیا ،علی حسن نے فیکٹری مالکان کو زخمیوں کو ایک لاکھ روپے فی کس اور جاں بحق افراد کے لیے اڑھائی لاکھ روپے فی کس بطور زرتلافی ادا کرنے کا کہا اور ا س کے بدلے سیاسی جماعت کی جانب سے معاملہ حل کروانے کی یقین دہانی کروائی گئی، بھائلہ برادران نے اپریل 2013کے آخری عشرے میں پانچ کروڑ 98لاکھ روپے علی حسن کے بتائے گئے اکاونٹ میں جمع کروائے اور ایک کروڑ روپے لواحقین اور ورثاء کو ادائیگی کے اعلان سے مشروط کر دیئے لیکن یہ رقم آج تک فیکٹری ملازمین کے ورثاء کو نہیں دی گئی بھائلہ برداران کے مطابق علی حسن سے رقم کے معاملہ کی گئی آخری بات چیت میں انہیں جواب دیا گیا کہ سارا پیسہ بیرون مقیم سیاسی رہنما کو پہنچا دیا گیا ہے اور اب اس حوالہ سے بات کرنا مزید خطرناک ہوگا جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق یہ رقم علی حسن اس کے والد صدیق قادری اور سیاسی جماعت کے رہنما کے لے پالک بیٹے عبدالستار کے پاس ایک جائیداد کی شکل میں موجود ہے جبکہ رقم ہڑپ کرنے میں سہولیات فراہم کرنے والوں میں ایک خاتون اور ایک بلڈر بھی شامل ہے جن کا تعاقب کیا جارہا ہے۔

مزید :

صفحہ اول -