آزاد کشمیر کی سیاست میں تشدد ،مقبوضہ کشمیر میں کیا پیغام جائیگا؟

آزاد کشمیر کی سیاست میں تشدد ،مقبوضہ کشمیر میں کیا پیغام جائیگا؟

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

ایک مہینہ پہلے جب دس جنوری کو جنازے اٹھنے کی بات کی گئی تھی توہمارا ماتھا ٹھنکا تھا کہ ایک وزیراعظم کی جانب سے یہ طرز تکلم کسی صورت پسندیدہ نہیں کہا جاسکتا۔ سیاست میں تشدد کا دروازہ اگر کھل جائے تو پھر یہ آسانی سے بند نہیں ہوتا اور سلسلہ دراز تر ہوتا جاتا ہے، اس وقت کوٹلی میں سیاسی کشیدگی عروج پر ہے۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کی ہلاکت کے خلاف آج یوم سیاہ منایا جا رہا ہے، احتجاجی ریلیاں نکالی جائیں گی۔ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، لیکن مسلم لیگ (ن) کا خیال ہے کہ اب شکست کو سامنے دیکھ کر وزیراعظم آزاد کشمیر بوکھلا گئے ہیں۔ اُن کو معلوم ہوچکا ہے کہ پیپلز پارٹی یہاں اسی طرح الیکشن ہارنے جا رہی ہے جس طرح پہلے پاکستان اور پھر گلگت بلتستان میں ہار گئی تھی جبکہ چودھری عبدالمجید کا دعویٰ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو شکست ہونے والی ہے اس لیے وہ انتخابات ملتوی کرانے کیلئے تشدد پر اتر آئی ہے۔

ہفتے کے روز کوٹلی میں کاروبار بند رہا اور گرفتاریاں جاری رہیں جن کا آغاز کل ہی ہوگیا تھا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے احتجاج کرتے ہوئے نکیال کوٹلی روڈ بند کردی۔ شہر میں پولیس اور فوج تعینات ہے۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر آصف کرمانی نے نکیال میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں میں تصادم کا ذمہ دار آزاد کشمیر کے وزیراعظم چودھری عبدالمجید کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوچکے ہیں اس لیے انہیں فوری طور پر مستعفی ہو جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کی بجائے وہ مسلم لیگ (ن) پر ملبہ ڈالنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پارٹی کے کسی دانا آدمی کو آزاد کشمیر بھیجیں اور واقعے کی تحقیقات کرائیں جبکہ چودھری عبدالمجید کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے وزراء بے جا مداخلت کر رہے ہیں اور آزاد کشمیر کی سیاسی فضا کو مکدر کر رہے ہیں، یہاں لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلنے دی جائے گی۔

آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹری نے گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے کارکن کی ہلاکت کے واقعہ کی تحقیقات کیلئے فوری طور پر جوڈیشل کمیشن قائم کردیا تھا جس نے ابھی کام بھی شروع نہیں کیا‘ بہتر طرز عمل تو یہ تھا کہ فریقین کمیشن کی تحقیقات کا انتظار کرتے لیکن ابھی آغاز بھی نہیں ہوا اور الزام تراشی کی مہم زوروں پر ہے۔ چودھری عبدالمجید نے تو چیف سیکرٹری کے بنائے ہوئے جوڈیشل کمیشن کو ماننے سے ہی انکار کردیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ کوئی بیورو کریٹ ایسا کمیشن نہیں بنا سکتا۔ ہر فریق یہی تاثر دے رہا ہے کہ جیسے وہی حرف آخر ہے اور اس کا فرمایا ہوا ہی مستند ہے جبکہ فائرنگ کے واقعہ میں ذمہ داری کا تعین ابھی ہونا ہے۔ سابق وزیراعظم سردار سکندر حیات کے بیٹے فاروق سکندر سمیت دو درجن کے لگ بھگ افراد کو گزشتہ روز ہی گرفتار کرلیا گیا تھا، اتوار کو بھی گرفتاریاں ہوئیں اور مزید گرفتاریوں کیلئے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے۔ مسلم لیگ (ن) کے حلقوں کا خیال ہے کہ یہ سب کچھ پیپلز پارٹی شکست کے خوف سے کر رہی ہے۔ چودھری عبدالمجید کو نظر آگیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) گلگت بلتستان کے بعد اب آزاد کشمیر میں بھی حکومت سازی کی پوزیشن میں آ رہی ہے، اس لیے پہلے چودھری عبدالمجید نے واویلا کیا اور اب مسلم لیگی کارکنوں کو ہراساں کرنے کیلئے ان کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ آصف سعید کرمانی نے چودھری عبدالمجید کو نااہل اور بدعنوان کہا اس سے پہلے وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی کہہ چکے ہیں کہ وفاقی حکومت نے آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 300 کروڑ روپے دیئے تھے جن کا کوئی حساب کتاب نہیں دیا گیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ رقم کہاں خرچ ہوئی؟ مسلم لیگ (ن) کا یہ بھی خیال ہے کہ آزاد کشمیر میں بڑے بڑے مالی گھپلے منظر عام پر آنے والے ہیں، اس لیے چودھری عبدالمجید نے پیش بندی کے طور پر تشدد شروع کر رکھا ہے۔

آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جس انداز میں آمنے سامنے کھڑی ہیں اس کا مقبوضہ کشمیر میں مثبت پیغام نہیں جائے گا، دونوں جماعتوں کے کارکن کوئی باہر سے آزاد کشمیر کو ’’ایکسپورٹ‘‘ نہیں کئے گئے، بلکہ یہ سب کشمیری ہیں اور کشمیریوں کے بارے میں عمومی رائے یہ ہے کہ وہ سیاسی طور پر بالغ نظر ہیں، سیاسی شعور رکھتے ہیں اور اپنے لیڈروں سے بھی اس کی توقع کرتے ہیں لیکن اب تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ لیڈروں نے ورکروں کے سیاسی شعور کو بھی گہنا دیا ہے اور ورکر لیڈروں کی سیاست کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں جبکہ الیکشن کا انعقاد پرامن طور پر ہو جائے تو عوام کا فیصلہ بھی سامنے آ جائے گا جس کے سامنے فریقین کو سرتسلیم خم کردینا چاہئے۔ الزام تراشی کی سیاست اور بدعنوانیوں کے چرچے اگر اسی طرح ہوتے رہے تو مقبوضہ کشمیر کے وہ حریت پسند بھی مایوس ہوں گے جو اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر سات لاکھ بھارتی فوج کے مقابلے میں سینہ سپر ہیں۔

چودھری عبدالمجید نے جس انداز میں چیف سیکرٹری کے بنائے ہوئے جوڈیشل کمیشن کو رد کیا ہے اس کے متعلق آصف کرمانی کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات نہیں چاہتے اور زبردستی ہمارے گلے میں ڈالنا چاہتے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -