ماضی کی لاجواب ایئرلائن کو باکمال سروس کی ضرورت

ماضی کی لاجواب ایئرلائن کو باکمال سروس کی ضرورت

  

تجزیہ:نعیم الدین

گذشتہ دنوں پی آئی اے کے ملازمین کی ہڑتال اور احتجاج کے باعث سب سے زیادہ مسافر متاثر ہوئے، جبکہ پی آئی اے کے شیڈول کے متاثر ہونے کے اثرات اب تک سامنے آرہے ہیں جبکہ مالی نقصان اپنی جگہ ہے۔ کیا پی آئی اے کے حالات بہتر ہوسکیں گے یا نہیں، اس کا فیصلہ حکومت اور ملازمین کو بیٹھ کر کرنا ہوگا، ورنہ یہ معاملہ جوں کا توں رہے گا۔ اب تک ہونے والی بات چیت سے ایسا لگتا ہے کہ معاملہ ڈاما ڈول ہے ۔ کاروباری حلقوں کا مشورہ ہے کہ پی آئی اے کی بہتری اور اسے منافع بخش بنانے کے لیے ماہرین سے مفید مشورے حاصل کرنے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو 10 جہاز ٹیکنیکل خرابی کے باعث کھڑے ہیں انہیں فوری طور پر قابل استعمال بنانے کیلئے حکمت عملی اختیار کرے اور حکومت اس سلسلے میں بھرپور تعاون کرے تاکہ اضافی عملے کو بھی کھپایا جاسکے اور آئندہ کیلئے سیاسی بھرتیوں پر ہمیشہ کیلئے پابندی عائد کی جائے اور اس پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ کیونکہ ماضی میں باکمال لوگوں کی یہ لاجواب سروس دنیا میں کبھی مثالی تھی اور متعدد ایئرلائنز نے اس سے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھا ہے۔ سیکھنے والی ایئرلائنز کا شمار آج بڑی ایئرلائنز میں ہوتا ہے ۔ یہ ایئرلائنز اربوں روپے منافع کمارہی ہیں جو آج پی آئی اے کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان تمام کاموں کے لیے سخت مینجمنٹ کو آگے آنا ہوگا اور ایسے ایکشن لینے ہونگے جس سے ادارہ منافع بخش ہوسکے ، اور ملازمین کے جائز مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے تلخ فیصلے کرنا ہونگے۔ ابھی تک کی صورتحال سے ایسا لگ رہا ہے کہ احتجاج اور ہڑتال کے خاتمے کے بعد حالات ڈاما ڈول ہیں ، کچھ ٹھیک سے پتہ نہیں چل رہا ہے کہ حالات کس موڑ پر پہنچے ہیں۔ اس وقت پی آئی اے کو اصل مسئلہ جو درپیش ہے وہ مجموعی خسارے میں کمی لانا ہے ، اس کی ممکنہ حل کے لیے جلد مؤثر اور شفاف اصلاحات اور فوری تدارک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پی آئی اے میں طلسماتی تبدیلی آسکے ، اس کا مجموعی خسارہ جو کہ 320 ارب روپے سالانہ ہے، اُسے کم کیا جاسکے ، فوری طور پر کرائے میں کمی کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس کو عوام میں پذیرائی ملی ہے جس سے مسافروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا ۔نئے منافع بخش روٹس تلاش کرنے ہونگے، جس کیلئے حکومت اور ملازمین کو کچھ قربانیاں دینا ہونگی تب کہیں جا کر پی آئی اے دوبارہ سے ماضی کی طرح ایک مضبوط ادارہ بن کر ابھر سکتا ہے۔

مزید :

تجزیہ -