حکومت اسٹیل ملز جیسے عظیم اثاثے کو تباہ کرنے سے باز رہے:این ایل ایف

حکومت اسٹیل ملز جیسے عظیم اثاثے کو تباہ کرنے سے باز رہے:این ایل ایف

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ’’پاکستان اسٹیل ملز کی غیر اعلانیہ بندش اور نجکاری کے مضر اثرات‘‘ کے موضوع پر ’’ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن‘‘اور ’’پاکستان اسٹیل آفیسرز ، ورکرز ایکشن کمیٹی ‘‘ نے مشترکہ طور پر پی، ایم، اے ہاؤس کراچی میں نجکاری مخالف کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں منتخب نمائندوں اور ٹریڈ یونین رہنماؤں سنیٹرتاج حیدر، ممبر قومی اسمبلی اسد عمر ، جوائنٹ ایکشن کمیٹی PIAکے رہنما سہیل بلوچ،شیخ مجید،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے ڈاکٹر شیر شاہ سید ،ریلوے ورکرز یونین کے چیئرمین منظور رضی، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے مرکزی صدر رفیق بلوچ، ڈپٹی جنرل سیکریٹر ی ناصر منصور اور پاکستان اسٹیل ملز آفیسرز ، ورکرز ایکشن کمیٹی کے رہنمارحمن شاہ اور نویدآفتاب شامل نے خیالات کا اظہار کیا۔کانفرنس میں ریلوے، بجلی، گیس، ٹرانسپورٹ ، ہوابازی سے متعلق اداروں کے یونینز نمائندوں کے علاوہ دیگر صنعتوں کے محنت کش رہنماؤں نے بھی شرکت کی ۔جبکہ PIAکے دو محنت کشوں عنایت رضا شہید اور سلیم اکبر شہید کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔لیبرکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دورِ حکومت میں ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچانے کی پالیسیوں پر عمل درآمد کیا ہے جن میں قومی اداروں کو بدحال کر کے انھیں اونے پونے خریدنے کی راہ ہموار کرنا ہے ۔ اس کی بدترین مثال پاکستان اسٹیل ملز کی غیر قانونی و غیر اعلانیہ بندش ہے جس کے نتیجے میں ملک کا اہم حساس ادارہ عضوئے معطل بن کر رہ گیا ہے ۔ اسٹیل ملز کے ہزاروں کارکن عرصہ درازسے تنخواہوں سے محروم ہیں جس کی وجہ سے وہ شدید ذہنی اذیت اور معاشی بحران کا شکار ہیں۔حکومت نے اسٹیل ملز میں جاری اقربا پروری اور کرپشن کو نہ صرف جاری رکھا ہے بلکہ NABاورFIAمیں زیر التوا کیسز چلانے سے بھی شعوری طور پر سست روی کا مظاہرہ کیا تاکہ ادارے کو نقصان پہنچانے والے بدعنوان عناصر کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔موجودی حکمران اپنی اسٹیل ملز چلانے کے لیے پاکستان کے اس عظیم اثاثے کو تباہ کرنے کے درپے ہیں جس کے خلاف ادارے کے تمام محنت کش مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں اور ادارے کے محنت کشوں کا اتحاد نجکاری کی کوشش سمیت حکومت کی تمام مزدور دشمن پالیسیوں کو ناکام بنا دے گا ۔مقررین نے نجکاری کے سماج پر مرتب ہونے والے مضر اثرات پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں صنعتی ترقی کے لیے نجکاری کا راستہ اختیار کرنے کے بھیانک نتائج برآمد ہوئے ہیں اور خصوصی طور پر شہریوں کو خدمات ( سروسز) مہیا کرنے والے اداروں کی نجکاری نے عوام کو براہِ راست متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں ان کی غربت میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور سماج میں معاشی ابتری کے نہ ختم ہونے طوفان نے جنم لیا ہے ۔یہ پالیسی ساری دنیا میں ناکام ثابت ہو چکی ہے جب کہ پاکستان میں بھی آج تک جن اداروں کی نجکاری کی گئی ہے ان میں سے ساٹھ فیصد سے زائد یا تو بند ہو چکے ہیں یا پھر خسارے میں چل رہے ہیں جو کہ IMFاور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی ایماء پر کی جانے والی حکمرانوں کی نجکاری پالیسی کو غلط ثابت کر ر ہے ہیں اس کی مثال بزنس ٹرین ،PTCL، KESC، روہڑی سیمنٹ فیکٹری، ذیل پاک اور مالیاتی ادارے وغیرہ ہیں جن کی ابتر حالت ہم سب کے سامنے ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بزنس ٹرین کے مالکان ریلوے کے اربوں روپے لیکر فرار ہو گئے ہیں ۔ سیمنٹ کے آدھے ادارے بند ہیں جب کہ کئی ایک میں رہائشی منصوبے بنائے جا رہے ہیں ۔ جب کہ پرائیویٹ بینکوں نے لوٹ مار کا ایک بازار گرم کر رکھا ہے۔ دوسری جانب نجکاری کرتے وقت مزدور تنظیموں کو ملازمتوں کے تحفظ کی جو ضمانتیں دی گئی تھیں وہ جھوٹ پر مبنی وعدے ہی ثابت ہوئے اور محنت کشوں کو جبری طور پر برطرف کر کے غیر قانونی ٹھیکہ داری سسٹم اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ سسٹم کو رائج کیا گیا ہے جو کہ ILOکے لیبر کنونشنز اور GSP+کے تحت کیے گئے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کی حکومتِ پاکستان نے ضمانت دی ہوئی ہے۔حکومت کی بدنیتی اور مزدور دشمنی کے بارے میں مقررین نے کہا کہ حکومت میگا پروجیکٹس کے ذریعے ذاتی اسٹیل ملوں اور سیمنٹ کے کارخانوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے اورقومی ائیر لائن کو تباہ کرنے کے درپے ہے تاکہ نجی ائیر کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے اور اسے کوڑیوں کے مول خریدا جاسکے۔موجودہ حکمرا ن قومی اداروں میں بہتری کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی بجائے نجکاری کے نام پر ان قیمتی اداروں کو اپنے فرنٹ مینز کے ذریعے خریدنے کا خطرناک منصوبہ بنا چکے ہیں ۔اداروں کی بہتری کے لیے اگر سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں تو یہ بہتر انداز میں کام کرنے کا آغاز کر سکتے ہیں جس کی ایک مثال ریلوے کا ادارہ ہے جو بہتر انتظامی معاملات اور لوٹ کھسوٹ کو روکنے کے اقدامات کے نتیجے میں بہتری کی جانب گامزن ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ ملک کے قیمتی اثاثوں کی لوٹ سیل کے خلاف محنت کش اور ان کی تنظیمیں ہمیشہ سراپا احتجاج بنتی رہی ہیں اور انھوں نے ہمیشہ اس گھناؤنے عمل کے خلافمزاحمت کی ہے جس کے نتیجے میں انھیں بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بننا پڑا ۔اس کی ایک تازہ مثال PIAجیسے ادارے کی نجکاری کے خلاف محنت کشوں کی پرامن بہادرانہ جدوجہدہے جسے کچلنے کے لیے حکومت نے طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے نتیجے میں دو ملازمین عنایت رضا اور سلیم اکبرکو شہیداور خواتین سمیت متعدد کو زخمی کیا گیا ۔جب کہPIAکے پر امن ہڑتالی محنت کشوں کو ہراساں اور خوفزدہ کرنے کے لیے ان کے چار رہنماؤں کو کئی روز تک پراسرار طور پر غائب رکھا گیا ۔لیکنPIAکے محنت کشوں کی جدوجہد اور نجکاری مخالف تحریک کے پہلے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان کے خون سے ایک نئی تحریک جنم لے گی۔اس وقت حکمرانوں کی ترجیحات میں اولین ایجنڈا نجکاری کا ہے جس میں اسٹیل مل سمیت 68قومی اداروں کی نجکاری کے ذریعے IMFکی فرمائش پوری کرنے کے ساتھ ساتھ من پسند افراد کو نوازنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں ۔ یہ اسٹیل مل، PIAاور واپڈاسے لے کر صحت ، تعلیم ، بجلی پانی تک جتنے بھی سروسز کے ادارے ہیں ان سب کی نجکاری کرکے ایک طرف محنت کشوں سے ان کے بنیادی حقوق چھین لینا چاہتے ہیں اور اس کے تباہ کن اثرات عام زندگی میں مرتب ہوں گے کیوں کہ سروسز کے ان سب اداروں سے عام آدمی متاثر ہو گا ۔اس کے خلاف ملک کے مختلف اداروں کے محنت کش سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں جن میں اسٹیل مل، پیرا میڈیکل اور صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ملازمین ، واپڈا کے محنت کش اورتعلیمی اداروں کے محنت کش وغیرہ مصروفِ جہد ہیں ۔یہ ایک ایسی حکومت ہے جو کئی بار کشکول توڑنے کا دعویٰ کر کے عوام کو آزمائش میں ڈال چکی ہے لیکن ہر بار ایک نئے اور بڑے کشکول کے ساتھ IMFاور ورلڈ بینک کی چوکھٹ پر خیرات مانگتی نظر آتی ہے جس کا خمیازہ نہ صرف آج عوام بلکہ آنے والی نسلوں تک کو بھگتنا پڑے گا ۔ عوام دشمن حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں آج پاکستانIMFکا 75ارب ڈالر ز سے زائد کا مقروض ہے اور اسی بوجھ کے تلے حکومت ملک اور ملکی اداروں کو گروی رکھنے کے درپے ہے ۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے PIAکے محنت کشوں کی جدوجہد کو دبانے کے لیے ’’ لازمی سروسز ایکٹ ‘‘ کا استعمال کیا تو خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے صحت کے شعبے کے ملازمین پر اس کا اطلاق کیا جو کہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کی ہے جس نے اس کے غیر قانونی وغیر آئینی ہونے پر تصدیق کی مہر ثبت کر دی ہے۔ ’’لازمی سروسز ایکٹ‘‘ نوآبادیاتی دور سے یادگار ہے جس کا اطلاق دوسری عالمگیر جنگ کے موقع پر 1942میں کیا گیا تھا لیکن IMF،ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسیوں پر عمل پیرا حکمران اس کالے قانون کو آج بھی محنت کشوں کے خلاف استعمال کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ نجکاری کے مضر اثرات کے بارے میں اور اداروں کو بہتر اور منافع بخش اداروں میں تبدیل کرنے کے لیے مزدور تنظیموں اور ان کے ہمدردوں کے پاس اس کا ایک پورا متبادل پلان موجود ہے جس سے ادارے ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں لیکن حکومت کی بدنیتی یہ ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اداروں کو بیچ کر بین الاقومی مالیاتی اداروں کو خوش کرنے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ لیبر کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ اسٹیل مل کی غیر اعلانیہ بندش فی الفور ختم کی جائے ۔اسٹیل ملز کے تمام ورکرز بشمول آفیسرز کی تنخوہیں فی الفور اادا کی جائیں۔NABاورFIAمیں اسٹیل مل کے حوالے سے زیر التواء کیسز کا فوری طور پر فیصلہ کیا جائے۔اسٹیل ملز کی مصنوعات کی سیلز پالیسی پر نظر ثانی کی جائے۔ لازمی سروسز ایکٹ کے نوآبادیاتی کالے قالون کو فی الفور واپس لیا جائے۔تمام اداروں بشمول بجلی، پانی، گیس ،صحت اور تعلیمی اداروں کی نجکاری کا فیصلہ واپس لیا جائے۔نجکاری کمیشن کا خاتمہ کیا جائے۔ماضی میں جن اداروں کی نجکاری کی گئی ہے اسے قومی تحویل میں لیتے ہوئے اس میں ہونے والی بدعنوانیوں کی تحقیق کی جائے۔PIAکے محنت کشوں کے مطالبات تسلیم کیے جائیں۔PIAکے دو محنت کشوں عنایت رضا شہید اور سلیم اکبر شہید کے قتل کی تحقیق کے لیے غیر جانبدار ججز پر مشتمل کمیشن بنا کر تحقیقات کی جائیں اور قاتلو ں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر قرار واقع سزا دی جائے۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -