چکدرہ میں جنگلات مالکان کااحتجاجی جلسہ ،سیاسی جماعتوں کی شرکت

چکدرہ میں جنگلات مالکان کااحتجاجی جلسہ ،سیاسی جماعتوں کی شرکت

  

چکدرہ( نما ئندہ پاکستان)چکدرہ میں جنگلات مالکان کااحتجاجی جلسہ ، جرگہ میں مالاکنڈڈویژن بھر کے تمام اضلاع بشمول انڈس کوہستان کے سینکڑوں عوام اورسیاسی جماعتوں کے موجودہ اور سابق ممبران اسمبلی نے شرکت کی،جرگہ کے شرکانے فارسٹ پالیسی2002کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مالکانہ حقوق کامطالبہ کیا،وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے ملاقات کافیصلہ،اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو راست اقدام اٹھائیں گے ہمیں 1976ء کی تاریخ دہرانے پر مجبور نہ کیاجائے،تفصیلات کے مطابق گزشتہ روزمولاناگل نور شاہ کی صدارت میں تنظیم تحفظ حقوق کوہستان کافارسٹ پالیسی کے خلاف احتجاجی جرگہ ہواجس میں دیرکوہستان،سوات کوہستان،انڈس کوہستان،چترال، اور مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں عوام نے شرکت کی جبکہ تنظیم کے عہدیدارون سمیت سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سابق وموجودہ ممبران اسمبلی نے شرکت بھی کی اور اظہار خیال بھی کیا۔دیر سے پیپلز پارٹی کے ایم پی اے صاحبزادہ ثناء اللہ نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مالاکنڈڈویژن میں عوام جنگلات کاتحفظ کررہے ہیں مگر ان کے ساتھ ہر دور میں سوتیلی ماں جیسا سلوک روارکھاگیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام کے ووٹ کی طاقت سے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچنے والے ممبران اسمبلی پر عوام کی مشکلات کے حل کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اگر وہ ایساکرنے سے قاصر ہوتے ہیں تو انہیں اسمبلیوں میں بیٹھنے کاکوئی حق نہیں پہنچتا۔انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ فارسٹ پالیسی مرتب کرنے میں کوہستان کے عوام کو شامل نہ کرناظلم اور زیادتی ہے اور کہاکہ وہ اس حوالے سے صوبائی اسمبلی میں قراداد سامنے لائیں گے ۔ جماعت اسلامی کے ایم پی اے محمد علی،تحریک انصاف کے ممبرقومی اسمبلی سلیم الرحمٰن ،سابق صوبائی وزراء شاہ رازخان اور ملک جہانزیب،سابق ایم پی ایزبادشاہ صالح اور انورخان ،تنظیم کے جنرل سیکرٹری نگین خان اورعوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء حسین شاہ یوسفزئی سمیت دیگرمقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے کہاکہ فارسٹ پالیسی 2002مشرف کے دور میں صدارتی آرڈیننس کے تحت عمل میں لائی گئی تھی جس کی منتخب اسمبلی سے منظوری نہیں دی گئی جبکہ مشرف کااقتدار ختم ہوتے ہی یہ پالیسی بھی ختم ہوگئی ہے مگر اس کے باوجود اس پر عملدرآمد یہاں کے عوام کے ساتھ سراسرزیادتی ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ 60فیصد کی بجائے مکمل مالکانہ حقوق چاہتے ہیں اور اس حوالے سے کسی قربانی سے دریغ کیاجائے گانہ کسی قسم کاسمجھوتہ بلکہ جب تک یہ ظالمانہ پالیسی واپس نہیں لی جاتی تب تک قوم چھین سے نہیں بیٹھے گی۔انہوں نے کہاکہ محکمہ فارسٹ کی ناقص کارکردگی کے باعث دیر کوہستان میں عوام نے نجی پھاٹک بنائے ہیں جبکہ جنگلات کاتحفظ عوام کررہے ہیں اور فوائد حکومت لے رہی ہے۔ان کے مطابق پنجاب اور سندھ میں رہنے والوں کویہاں کے عوام کے لئے پالیسیاں بنانے کاکوئی حق حاصل نہیں۔جرگہ کے منتظمین نے مستقبل کے لائحہ عمل اعلان کرتے ہوئے کہاکہ 14مارچ کو سوات کے گراسی گراؤنڈ میں احتجاجی جرگہ ہوگا جبکہ ڈویژن بھر کے 22ممبران صوبائی اسمبلی کی وساطت سے جرگہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک سے ملاقات کرے گاتاہم اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو راست اقدام اٹھائیں گے اور خیبرپختونخواحکومت کے گرین کے پی کے کاخواب کسی صورت شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیں گے۔ دوست محمد نما ئندہ پا کستان ر چکدرہ

مزید :

کراچی صفحہ آخر -