ڈیرہ میں ادبی و ثقافتی سر گرمیاں دوبارہ بحال کی جائیں ،جمشید دستی

ڈیرہ میں ادبی و ثقافتی سر گرمیاں دوبارہ بحال کی جائیں ،جمشید دستی

  

 ڈیرہ اسماعیل خان(بیورورپورٹ)تہذیب وثقافت کے فروغ اورعلاقائی زبان کی ترویج سے صحت مندمعاشرے وجودپاتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ممبرقومی اسمبلی جمشیددستی نے گندھارا ہند کو بورڈکے تعاون سے منعقدہ سرائیکی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کے مہمان خصوصی ضلع ناظم ڈیرہ نوابزادہ عزیزاللہ خان علیزئی تھے۔ضلع ناظم نوابزادہ عزیزاللہ خان علیزئی نے کہاکہ ضلعی حکومت کی کوشش ہوگی کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے ادبی وثقافتی فضاؤں کوایک بارپھرزندہ کیاجائے۔سرائیکی یہاں کے خطے کی زبان ہے اوریہاں کے لوگ جب یہ میٹھی زبان بولتے ہیں اوراس زبان میں شاعری کرتے ہیں توانکارنگ دوسروں سے جداہوتاہے۔زبان کوئی بھی ہواسکوپورے پورے مواقع ملنے چاہئے۔ڈیرہ پھلاں داسہراکے ادبی اورثقافتی رنگوں کی دھوم پورے وطن عزیزمیں تھی۔یہاں کے رسم ورواج یہاں کی ثقافت اورلوگوں کاآپس میں بھائی چارہ مثالی رہاہے پھرکسی نظربدنے اس شہرکی رونقوں کواجاڑا۔یہاں کی محفلیں ویران ہوگئیں۔یہاں کے شاعر‘ادیب‘لکھاری‘فنکار‘آرٹسٹ اورکھلاڑی سب اس شہرمیں امن کی بحالی کے خواہشمندتھے۔خداکالاکھ لاکھ شکرہے کہ اب یہ دھرتی ایک بارپھرادب ‘فن اورکھلاڑیوں کی سرگرمیوں کی جانب واپس آرہی ہے۔اس موقع پرقانون نافذ کرنیوالے اداروں کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انکی قربانیوں کی بدولت یہاں کاامن بحال ہوا۔سرائیکی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گندھاراہندکوبورڈکے چےئرمین اعجازقریشی‘وائس چےئرمین ڈاکٹرصلاح الدین اورجنرل سیکرٹری ضیاء الدین کے علاوہ ڈاکٹرشاہدمسعود خان نے بھی خطاب کیا اورکہاکہ سرائیکی زبان اس خطہ کی قدیم زبان ہے۔اس کے فروغ کیلئے گندھاراہندکوبورڈکی مساعی قابل تعریف ہے۔تقریب میں شعراء کرام‘ادیب اورمعززین شہرکی بڑی تعدادشریک تھی۔اس موقع پر گومل یونیورسٹی میں سرائیکی ڈیپارٹمنٹ کے قیام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کودورکرنے اورڈیرہ اسماعیل خان کے عوامی مقامات پرقبائلی جرگوں کے انعقادپرپابندی کے حوالے سے قراردادیں بھی منظورکی گئیں

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -