ڈنمارک میں ایسی مسجد کا افتتاح ہوگیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی، نیا تنازعہ

ڈنمارک میں ایسی مسجد کا افتتاح ہوگیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں غصے کی لہر ...
ڈنمارک میں ایسی مسجد کا افتتاح ہوگیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی، نیا تنازعہ

  

کوپن ہیگن (مانیٹرنگ ڈیسک ) ڈنمارک کی ایک مشہور مصنفہ نے ملک کی پہلی ایسی مسجدکی بنیا د رکھ دی ہے کہ جس میں امامت کے فرائض صرف خواتین سرانجام دیں گی، جمعہ کے علاوہ باقی دنوں میں مرد بھی یہاں نمازپڑھ سکیں گے لیکن ان کی امامت بھی خواتین ہی کریں گی۔

اخبار ”دی گارڈین“ کے مطابق اس مسجد کی بنیاد شیریں خانکن نامی شامی نژاد خاتون نے رکھی ہے، جن کا کہنا ہے کہ اسلامی احکامات خواتین کو امامت کی اجازت دیتے ہیں۔ شیریں خانکن کا موقف ہے کہ اسلام کی تعلیمات خواتین کی امامت کے خلاف نہیں ہیں بلکہ بعد کے دور میں اصل احکامات سے لاعلم لوگوں نے خواتین کی امامت کو ممنوع قرار دے دیا۔

مزید جانئے: اسلام میں خنزیر کا گوشت کیوں حرام ہے؟ 12 سائنسی وجوہات جنہیں جان کر آپ کا بھی ایمان تازہ ہوجائے گا

ان کا کہنا ہے کہ نئی مسجد کی بنیا د کسی تفریق یا تخصیص کی بنا پر نہیں رکھی گئی بلکہ خواتین اور مردوں کے درمیان مساوات کے مذہبی احکامات کی روشنی میں رکھی گئی ہے۔ شیریں خانکن کا کہنا ہے کہ ”مریم مسجد“ کے نام سے قائم کی جانیوالی نئی مسجد میں 10خواتین امام مقررہ کی جائیں گی، جن میں سے 2 کام شروع کر چکی ہیں جبکہ 8 مزید خواتین کی تلاش جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مسجد میں مردوں کو بھی داخلے کی اجازت ہو گی، البتہ جمعہ کے دن صرف خواتین کو داخلے کی اجازت ہو گی۔

خواتین کیلئے مخصوص مسجد کے قیام پر مقامی مسلم کمیونٹی کے کچھ رہنماﺅں کی طرف تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا۔ دارلحکومت کی سب سے بڑی مسجد سے تعلق رکھنے والے امام وسیم حسین کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ کیا ہمیں مردوں اور خواتین کیلئے مخصوص مساجد قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب مریم خانکن کا کہنا ہے کہ اگر ان کا اقدام مذہب کی تعلیمات اور معاشرتی قوانین و ا قدار کے خلاف نہیں تو اس کے متعلق اعتراضات یا سوالات اٹھانے کی بھی کوئی ضرورت نظر نہیں آتی۔

ڈنمارک میں خواتین کیلئے مخصوص یہ پہلی مسجد ہے، جبکہ اس سے پہلے امریکہ، کینیڈااور جرمنی میں بھی اسی طرح کی مساجد قائم کی جاچکی ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -