حکومت صحت پر توجہ دینے کی بجائے فنڈز اورنج ٹرین جیسے منصوبوں پر لگا رہی ہے ،ہائی کورٹ کے ریمارکس

حکومت صحت پر توجہ دینے کی بجائے فنڈز اورنج ٹرین جیسے منصوبوں پر لگا رہی ہے ...
حکومت صحت پر توجہ دینے کی بجائے فنڈز اورنج ٹرین جیسے منصوبوں پر لگا رہی ہے ،ہائی کورٹ کے ریمارکس

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہورہائیکورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں قائم ڈویژن بنچ نے 40لاکھ روپے کی ادویات چوری کرنے کے مقدمہ کے ملزموںکی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران ایس ایس پی انویسٹی گیشن حسن مشتاق سکھیرا کو فوری نوٹس پر طلب کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ”بڑے سکینڈلز میں درجہ چہارم کے ملزمان کو گرفتار کر کے بڑوں کو بچا لیا جاتا ہے،حکومت صحت پر توجہ دینے کی بجائے سارے فنڈز اورنج لائن ٹرین جیسے منصوبوں پر لگا رہی ہے"۔ملزمان محمد ریاض اور مظہرعلی کی ضمانت کی طرف سے ان کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے خلاف جوہرٹاﺅن پولیس نے 9 نومبر2015ءکو ادویات چوری کا بے بنیاد اور جھوٹا مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا ،ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ عدالت سے ملزمان کی درخواست ضمانت منظور کرنے کی استدعا کی گئی۔ عدالت میں ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر شوکت وہاب ، ڈی ایس پی سی آئی اے نواں کوٹ انور سعید کنگرہ پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انکوائری اور تفتیش میں ملزمان قصوروار ہیں، ان کے گھر سے 40لاکھ روپے کی ادویات برآمد ہوئی ہیں۔ عدالت نے ناقص تفتیش اور ضمنیاں ریٹائرڈ پولیس اہلکار سے لکھوانے پر ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن حسن مشتاق سکھیرا کو فوری پیش ہونے کا حکم دیا، تا ہم ڈی آئی جی آپریشنز پیش نہ ہوسکے اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن حسن مشتاق سکھیرا نے پیش ہو کر بتایا کہ ملزموں کے خلاف مزید تفتیش جاری ہے۔ عدالت نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کے جواب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے ہسپتال سے کروڑوں روپے کی ادویات چوری ہوں اور صرف دو ڈسپنسرز ملوث ہوں؟ متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور فارمیسی کے انچارج سمیت دیگر لوگوں کے بغیر اتنی بڑی مقدار میں ادویات کیسے چوری ہو سکتی ہیں؟ بد قسمتی ہے کہ عدالتی حکم کے باوجود بھی پولیس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ حکومت صحت پر توجہ دینے کی بجائے سارے فنڈز اورنج لائن ٹرین جیسے منصوبوں پر لگا رہی ہے۔ عدالت نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن کو حکم دیا کہ وہ اپنی سربراہی میں سکینڈل میں ملوث ایم ایس اور فارمیسی انچارج سمیت دیگر لوگوں سے بھی تفتیش کریںاور 5روز میں رپورٹ پیش کی جائے ۔ عدالت نے دونوں ملزمان کی درخواست ضمانت بھی آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

مزید :

لاہور -