’یہ کام ہماری نوکریاں ہی نہیں صحت بھی تباہ کررہا ہے، فوری بند کرو۔۔۔‘ سعودی عرب میں اب ایک ایسے کام کے خلاف تحریک شروع ہوگئی جس سے ہزاروں پاکستانیوں کا روزگار وابستہ ہے

’یہ کام ہماری نوکریاں ہی نہیں صحت بھی تباہ کررہا ہے، فوری بند کرو۔۔۔‘ سعودی ...
’یہ کام ہماری نوکریاں ہی نہیں صحت بھی تباہ کررہا ہے، فوری بند کرو۔۔۔‘ سعودی عرب میں اب ایک ایسے کام کے خلاف تحریک شروع ہوگئی جس سے ہزاروں پاکستانیوں کا روزگار وابستہ ہے

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)سعودی عرب میں مقیم غریب پاکستانیوں کی بڑی تعداد سڑک پر چھابڑی لگا کر پھل، سبزیاں و دیگر ایسی ہی اشیاءفروخت کر کے کچھ رقم کما لیتی ہے، مگر اب اس کام کے خلاف ایسا طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اس کا جاری رہنا بہت مشکل نظر آتا ہے۔

الریاض ڈیلی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر چھابڑی لگانے والوں پر پابندی کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کام کرنے والے غیر ملکی افراد جعلی الیکٹرونکس مصنوعات سے لے کر سبزیاں اور فروٹ سمیت ہر چیز بیچتے نظر آتے ہیں۔ ان پر جرمانوں اور ملک سے نکالنے جیسی سزائیں دینے کے باوجود ان کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے اور اب انہیں صحت عامہ کے لئے ایک ٹائم بم قرار دیا جا رہا ہے، جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔

’اب اس شعبے سے غیر ملکیوں کو نکالو‘ سعودی حکومت نے انتہائی خطرناک حکم دے دیا، اب ایسے شعبے کو نشانہ بنالیا کہ ہزاروں پاکستانی بھی نوکریوں سے محروم ہوجائیں گے

سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق یہ چھابڑی فروش اپنی اشیاءکھلے آسمان تلے بیچتے ہیں اور سبزیوں اور پھلوں جیسی اشیاءکا ایسے ماحول میں خراب ہونے کا اندیشہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ سعودی ماہرین صحت بھی خانچہ فروشوں کو صحت عامہ کے لئے خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ نہ صرف ان کی بیچی گئی غذائی اشیاءکو صحت کیلئے خطرناک قرار دیا گیا ہے بلکہ جعلی الیکٹرونک مصنوعات کو بھی عوام کے لئے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان غیر ملکیوں کو گرفتاری کی صورت میں ایک لاکھ ریال جرمانہ اور ملک بدری کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جس کے بعد دوبارہ مملکت میں آنے کی اجازت نہیں۔ دوسری جانب سڑکوں پر پھیری لگانے والوں کا کہنا ہے کہ وہ پھل، سبزیاں اور کپڑے وغیرہ بیچ کر مناسب رقم کمالیتے ہیں اور اس صورت میں انہیں دکان کھولنے کے لئے سرمائے اور کرائے کی ادائیگی جیسی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ عوام کی بڑی تعداد ان سے سستی اشیاءخریدتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان چھابڑی فروشوںمیں سے اکثر حج کی غرض سے مملکت آئے اور پھر غیر قانونی طور پر یہیں مقیم ہو رہے۔ سعودی کنزیومر پروٹیکشن ایسوسی ایشن نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کھلے عام فروخت کی جانے والی اشیاءجراثیموں اور گرد سے بھرپور ہوتی ہیں اور صحت کیلئے شدید نقصان کا باعث بنتی ہیں، لہٰذا ان سے ہر ممکن پرہیز کیا جائے۔

مزید :

عرب دنیا -