دہشت گردی اور احتجاج باہم گلے مل رہے ہیں؟

دہشت گردی اور احتجاج باہم گلے مل رہے ہیں؟

  

لاہور میں پیر کے روز پنجاب اسمبلی کے سامنے شاہراہ قائداعظم پر فیصل چوک میں خود کش دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک کیپٹن(ر) سید احمد مبین اور قائم مقام ڈی آئی جی آپریشنز زاہد گوندل سمیت13افراد شہید ہو گئے،جن میں چھ جوان اور تین وارڈن شامل ہیں،84سے زائد افراد زخمی ہوئے،خود کش بمبار کا حملہ دوا ساز کمپنیوں اور ڈرگ ڈیلروں کے احتجاج کے دوران ہوا،جنہوں نے ٹریفک روک کر دھرنا دیا ہوا تھا، حملے کے وقت ڈی آئی جی ٹریفک مظاہرین سے مذاکرات کر رہے تھے کہ پولیس ٹرک کے قریب خود کش بمبار نے دھماکہ کر دیا۔ شہید ڈی آئی جی کے گن مین نے اُسے روکا تو اُس نے خود کو اُڑا لیا جس سے زور دار دھماکہ ہوا، دو گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور قریب کھڑی بہت سی گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ کالعدم جماعت الاحرار نے اِس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

سات فروری کو نیکٹا نے ایک خط کے ذریعے خبردار کر دیا تھا کہ لاہور میں دہشت گردی کی واردات ہو سکتی ہے، پولیس حکام نہ صرف اِس سے باخبر تھے بلکہ شہید ڈی آئی جی بار بار دھرنے والوں کو خبردار کر رہے تھے کہ سڑک کو ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے،کیونکہ رش کی وجہ سے دہشت گردی ہو سکتی ہے، جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے تھوڑی ہی دیر بعد اُن کا یہ خدشہ خونیں سانحہ بن کر سامنے آ گیا اور وہ خود بھی اِس کا شکار ہو گئے، دہشت گردوں کا ٹارگٹ پولیس افسر تھے لیکن دہشت گردوں کو یہ موقع احتجاج اور دھرنے کی وجہ سے ملا۔اگر احتجاج نہ ہوتا تو دہشت گرد پولیس کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔

اِس میں شبہ نہیں کہ مُلک گیر سطح پر دہشت گردی کی وارداتیں پہلے کی نسبت بہت کم ہو گئی ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ مختلف آپریشنوں خصوصاً آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کر دیئے گئے ہیں اور اُن کے اسلحے کے ذخائر بھی بڑی حد تک ختم کر دیئے گئے ہیں تاہم لاہور کی اِس تازہ ترین واردات اور اِس سے پہلے مختلف شہروں میں کبھی کبھار ہو جانے والی وارداتوں سے یہ نتیجہ ضرور نکالا جا سکتا ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک ابھی تک موجود ہے، کالعدم تنظیمیں اب بھی کہیں نہ کہیں خود کش حملہ آوروں کو تیار کر رہی ہیں، پہلے تو اِن کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور مسلسل زیر نگرانی رکھ کر انہیں ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے اور پھر خود کو اُڑانے کے لئے ٹارگٹ پر بھیج دیا جاتا ہے۔

ٹارگٹ کوئی ایک دن میں منتخب نہیں کر لئے جاتے اِس کے لئے طویل منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور پھر کسی ایسے مقام پر خود کش حملہ آور کو بھیجا جاتا ہے جہاں وہ سیکیورٹی انتظامات کو غیر موثر کر کے یا دھوکہ دے کر آسانی سے پہنچ سکتا ہو، پھر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ دھماکہ ایسے مقام پر کیا جائے جہاں جانی نقصان زیادہ سے زیادہ ہو، افراتفری پھیلے، بھگدڑ مچ جائے اور شہریوں کی بڑی تعداد سراسیمہ ہو کر اِدھر اُدھر بھاگنے پر مجبور ہو۔ یہ سارے مقاصد اِس خود کش حملے کے نتیجے میں منصوبہ سازوں کو حاصل ہو گئے،لیکن سوال یہ ہے کہ جن اسباب کی بنا پر دہشت گرد یہ خونیں واردات کرنے میں کامیاب ہوئے یہ اسباب فراہم کرنے والے کون تھے؟ اور اگر مظاہرین کو ایک جہاں دیدہ اور ذمہ دار افسر بار بار تنبیہہ کر رہا تھا تو اس کی بات کیوں نہیں سُنی گئی؟ ہٹ دھرمی کا یہ رویہ ہمیں کہاں لے جائے گا اور ہمارے معاشرے کا تارو پود کس حد تک بکھیرکر رکھ دے گا ہمیں اِس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں احتجاج اور مظاہروں کا جو سلسلہ چل نکلا ہے اُس کی و جہ سے ایک ایسی نفسیاتی فضا بن گئی ہے کہ چند درجن یا چند سو لوگ کسی ایک سڑک پر پرانے ٹائر جلا کر ٹریفک بند کر دیتے ہیں اور نتیجے کے طور پر چند ہی منٹوں میں آدھے اور بعض اوقات پورے شہر کا ٹریفک جام ہو جاتا ہے، جگہ جگہ گاڑیوں کے اژدہام اور موسمی اثرات کے باعث لوگوں کے لڑائی جھگڑے بھی شروع ہو جاتے ہیں اور یوں لگتا ہے کہ پورے شہر میں کوئی بڑی آفت آ گئی ہے،ایسے میں دہشت گرد بھی اگر صورتِ حال سے فائدہ اُٹھانے کے لئے وہاں پہنچ کر دھماکہ کر دیں تو پھر یوں سمجھئے کہ قیامتِ صغریٰ برپا ہو گئی۔

لاہور میں گزشتہ روز بھی ایسا ہی ہوا، دوا ساز اداروں اور دوا فروشوں نے ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کے خلاف جو احتجاج شاہراہ قائداعظم پر کیا، سوال یہ ہے کہ اس میں عملاً کتنے لوگ شریک تھے؟ کیا پولیس فورس کے لئے ناممکن تھا کہ وہ ان مظاہرین کو ٹریفک بلاک کرنے سے روک دیتی؟ لیکن پولیس نے صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا اور احتجاج کرنے والوں کی ہٹ دھرمی کا یہ رویہ اعلیٰ پولیس افسروں سمیت قیمتی جانیں لے گیا، لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے شاہراہ قائداعظم پر ایسے احتجاج ممنوع قرار دیئے گئے ہیں،لیکن اس کے باوجود کسی نہ کسی طرح مظاہرین مال روڈ پر پہنچ جاتے ہیں اس سڑک پر تو اگر ٹریفک کا اشارہ بند ہو جائے تو گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور اشارے پر رُکی ہوئی گاڑیاں دو تین بار اشارہ کھلنے کے بعد اِس قابل ہوتی ہیں کہ وہ چوک عبور کر سکیں،ایسے میں مال روڈ پر احتجاج سستا ترین نسخہ بن گیا ہے۔ اعلیٰ سطح پر یہ رپورٹ دی جاتی ہے کہ شہر میں ٹریفک جام ہے اور یوں احتجاجیوں کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔

شملہ پہاڑی کا علاقہ بھی پریس کلب کی وجہ سے احتجاجیوں کا پسندیدہ مقام بن چکا ہے جو کوئی سو پچاس بندے جمع کر سکتا ہے وہ چند بینر لہراتا ہوا پریس کلب کے باہر پہنچ جاتا ہے، چونکہ کلب کے اندر صحافی اور کیمرہ مین آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں اِس لئے زیادہ ہینگ اور پھٹکڑی کے بغیر احتجاج کا رنگ چوکھا آ جاتا ہے، حالت یہ ہے کہ شملہ پہاڑی کے اردگرد ٹریفک اکثر جام رہنے لگی ہے لیکن پیر کے سانحہ کے بعد یہ ضروری ہو گیا ہے کہ شہر کی انتظامیہ ڈیڑھ کروڑ سے بڑھتی ہوئی آبادی کے اِس شہر کے باسیوں کی خاطر احتجاج کے اِس کلچر کو تبدیل کرنے کی کوئی سبیل کرے، احتجاج حق ہے لیکن یہ دوسروں کے حقِ حرکت پر ڈاکہ ڈال کر اور شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر حاصل نہیں کیا جا سکتا اگر اس پر بند نہ باندھا گیا تو پھر ہر چند ماہ بعد ایسے ہی سانحات ہماری تقدیر میں لکھ دیئے جائیں گے،کیونکہ دہشت گردوں کو ایسے شہر اور ایسے مقامات بہت بھاتے ہیں، جہاں بھیڑ بھاڑ ہو اور افراتفری کا سماں ہو، وہاں وہ آسانی سے دہشت گردی کر کے لاکھوں شہریوں کو خوفزدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کو اِس معاملے میں خصوصی دلچسپی لینا ہو گی اور اُنہیں شہر کی انتظامیہ کو ہر لحاظ سے متحرک کر کے شہر کو محفوظ بنانا ہو گا۔ ایسے لگتا ہے احتجاج اور دہشت گردی باہم گلے مل رہے ہیں اور اگر بے لگام احتجاج کے نام پر یہ سلسلے نہ روکے گئے تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا۔

مزید :

اداریہ -