سندھ میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے

سندھ میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے

  

سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دیئے گئے واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے سندھ میں لگائے گئے آراو پلانٹس کے بارے میں ریمارکس دیئے ہیں کہ صوبے میں ایسے پلانٹس تو بڑی تعداد میں لگائے گئے ہیں۔جن پر اربوں روپے خرچ ہوئے ہیں لیکن ان کی کارکردگی کا یہ حال ہے کہ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ جو پانی پی رہا ہے،وہ کس حدتک صاف ہے۔جسٹس اقبال کلہوڑو نے سندھ میں صاف پانی کی فراہمی کے لئے لگائے جانے والے پلانٹس کی کارکردگی کے حوالے سے جو ریمارکس دیئے ہیں، وہ سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔برسوں سے اندرون سندھ خصوصاً تھرپار کر میں لوگوں کو پینے کا انتہائی آلودہ اور مضرصحت پانی میسر ہے۔اس علاقے میں صاف پانی کی سہولت خواب بن کر رہ گئی ہے۔ بارش کا پانی جوہڑوں.میں جمع ہوجاتا ہے،جسے انسان اور جانور اکٹھے پیتے ہیں۔ مختلف ادوار میں سرکاری طور پر مختلف مقامات پرکنویں تعمیر کئے گئے، اور ہینڈ پمپ بھی لگائے گئے مگر دیکھ بھال نہ ہونے اور زیر زمین کھاری اور آلودہ پانی ہونے کی وجہ سے ان کا پانی پینے کے قابل نہیں۔ گذشتہ دوتین برسوں میں بعض عالمی سماجی اداروں اور این جی اوز نے تھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لئے کچھ فلٹر پلانٹس لگائے تھے،جن کی وجہ سے چندماہ کے لئے توصورت حال بہتر رہی،اس کے بعد ان فلٹر پلانٹس کی دیکھ بھال درست طریقے سے نہیں ہوئی جبکہ یہ شکایات بھی منظر عام پر آئیں کہ پلانٹس کے بعض پرزے چوری کرلئے گئے ۔سندھ حکومت نے بھی بعض مقامات پر صاف پانی کی سہولت مہیا کی لیکن وہاں بھی زیادہ دیر تک صاف پانی نہ مل سکا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے واٹر کمیشن تشکیل دے کر صورت حال معلوم کرنے کی ہدایت کی گئی تو کمیشن کے سربراہ فاضل جسٹس اقبال کلہوڑو نے جو ریمارکس دیئے، ان سے صورت حال کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ عوام کی صحت اور زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔ اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ عوام کو پینے کا صاف پانی مستقل طور پر اور ہر جگہ مہیا کیا جائے۔

مزید :

اداریہ -