لاہور میں خود کش حملے کے پس پردہ کون؟

لاہور میں خود کش حملے کے پس پردہ کون؟
 لاہور میں خود کش حملے کے پس پردہ کون؟

  

لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے ڈرگ ڈیلرز کے ڈرگ ایکٹ ترمیم کے خلاف دھرنے میں خودکش دھماکے میں ڈی آئی جی ٹریفک لاہورکیپٹن (ر) احمد مبین اور قائم مقام ڈی آئی جی آپریشنز ایس ایس پی زاہد محمود گوندل اور 5پولیس اہلکاروں سمیت 13 افراد شہید، جبکہ 87 افراد شدید زخمی ہو گئے۔ شہدا میں ایلیٹ فورس کے دو، ڈولفن فورس کا ایک جوان، ایک وارڈن اور ایس ایس پی کا آپریٹر شامل ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دھماکہ خیز مواد6 سے 8 کلو گرام کے درمیان تھا۔

وزیراعظم نواز شریف نے لاہور میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں بڑا سانحہ ہوا ہے۔ لواحقین سے ہمدردی ہے۔ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کی جائیں۔ بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔ حکومت دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے پرعزم ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین نے شہید پولیس افسران سمیت تمام افراد کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائیاں سکیورٹی اداروں اور عوام کے حوصلے پست نہیں کرسکتیں۔

نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کی جانب سے 7 فروری کو الرٹ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا لاہور میں دہشت گرد حملے کا خطرہ ہے۔ نیکٹا نے اپنے مراسلے میں ہدایات جاری کی تھیں کہ لاہور میں تمام اہم تنصیبات بشمول اہم عمارتوں، ہسپتالوں اور سکولز کی سخت نگرانی کی جائے۔ نیکٹا نے لاہور میں دہشت گردی کے امکانات کے حوالے سے خبردار کیا تھا ۔

خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق لاہور میں چیئرنگ کراس پر ہونیوالے خودکش حملے کی پلاننگ افغانستان میں ہوئی اور چند روز قبل افغانستان کے صوبہ کنہار میں ان خود کش حملہ آوروں کی ٹریننگ کی گئی جس کے بعد انہیں پاکستان روانہ کیا گیا۔ چند خودکش حملہ آوروں کو صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھیجا گیا اور انہیں تعلیمی اداروں سمیت مختلف ٹارگٹ دئیے گئے۔ تمام خودکش حملہ آوروں کی عمریں 10سے 12سال ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پولیس افسران ، تمام کمشنرز ،تمام آر پی اوز اور سی سی پی او لاہور کو آگاہ کیا گیا اور فوری طور پر تمام ضروری سیکورٹی اقدامات کی ہدایت کی گئی۔ محکمہ داخلہ کی ہدایات کے بعد شہر بھر میں سرچ آپریشن کئے اور صوبائی دارالحکومت میں پٹھان بستیوں میں خصوصی چیکنگ کی گئی، جبکہ ناکوں پر چیکنگ کا سلسلہ جاری رہا، لیکن اس کے باوجود خودکش حملہ آور بڑا نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔

خود کش دھماکے میں ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں، کیونکہ دھماکے کی نوعیت ماضی میں کالعدم تنظیموں کی جانب سے کئے جانے والے دھماکوں سے مختلف ہے۔ تحریک طالبان سمیت دیگر کالعدم تنظیموں کی جانب سے کئے گئے دھماکوں میں بال بیرنگ، لوہے کے نٹ بولٹ اور کیل استعمال کئے جاتے ہیں، مگر گزشتہ روز صرف دھماکہ خیز بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ وطن عزیز میں ماضی میں اس نوعیت کے ہونے والے ایسے دھماکوں میں وطن دشمن بیرونی عناصر خصوصاً بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے شواہد ملتے تھے اور ایسے دھماکوں کے تانے بانے بھارت سے جا ملتے تھے۔ بھارت اپنے جاسوسوں، ایجنٹوں یا پھر پاکستان میں خصوصاً بلوچستان کی شدت پسند تحریکوں کے ساتھ ملکر وطن عزیز میں اس نوعیت کے دھماکے کرانے میں ملوث رہا ہے۔ اب اس دھماکے میں بھارت اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی سعی کر رہا ہے، جس میں اس وقت صف اوّل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کرکٹ ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کے لاہور میں انعقاد رکوانا ،جبکہ اس دھماکے سے وطن عزیز کے حالات خراب کرکے سی پیک منصوبے کو بھی نقصان پہنچانا شامل ہے۔ زمبابوے کے ساتھ کرکٹ سیریز میں لاہور قذافی سٹیڈیم کے دھماکے میں بھی بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملے تھے۔ اب بھارت پھر ایسے اوچھے و بزدلانہ ہتھکنڈوں سے اپنے مذموم مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے۔ حساس اداروں نے اس پہلو کو بھی مدنظر رکھ کر اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

مزید :

کالم -