دہشت گردی کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا ایک طریقہ!

دہشت گردی کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا ایک طریقہ!
 دہشت گردی کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کا ایک طریقہ!

  

پرسوں 13فروری کو لاہور کی مال روڈ پر جو خودکش دھماکہ ہوا اور جس میں کئی پاکستانی شہید اور کئی زخمی ہوئے، وہ اپنی نوعیت کا کوئی انوکھا دھماکہ نہیں تھا۔ اس میں پولیس کے دو سینئر افسر، دو ٹریفک وارڈن اور دو پولیس اہلکار بھی جان سے گئے۔ کئی ابھی تک ہسپتالوں میں موت و حیات کی کشمکش میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور دعاگو ہیں کہ وہ مرنے والوں کو جنت مقام فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا کرے اور زخمیوں کے زخم جلد مند مل کرے۔

پاکستان کے لئے یہ دھماکہ کوئی نیا نہیں۔ گزشتہ 15،16برسوں میں اس نوع کے دھماکوں کی برسات لگی رہی۔ پھر ضربِ عضب لانچ ہوا اور نیشنل ایکشن پلان کی بہت دھوم مچی۔ لیکن ہوا یہ کہ جب آگ کا الاؤ بجھنے کے قریب پہنچا تو اس پر پانی ڈالنا بند کر دیا گیا۔ اس الاؤ کے جو حصے پوری طرح بجھے نہیں تھے اور سلگ رہے تھے، وہ پھر سے بھڑک اٹھے۔ کراچی، کوئٹہ اور پشاور کو یہ تجربہ ہو چکا اور اب لاہور کی باری آ گئی ہے۔ سمجھ یہ لیا گیا تھا کہ حکومت دہشت گردوں کو نہیں چھیڑے گی تو وہ بھی حکومت کو نہیں چھیڑیں گے۔ حکومت سے مراد پنجاب حکومت تھی۔ اس کے وزیر قانون اب تک جو بیانات میڈیا پر دیتے چلے آئے ہیں، ان سے ان کا یہ عزم ہرگز ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ دہشت گردی کی وبا کے اصولی مخالف ہیں۔ انہوں نے فوجی عدالتوں کو بھی بجھے بجھے دل سے قبول کیا اور برملا کہا کہ دہشت گردی کا علاج فوجی عدالتیں نہیں۔ لیکن خدا نہ کرے اگر پنجاب میں خودکش دھماکوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تو یہ تواتر و تسلسل میں ملک کے دوسرے حصوں کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ملک کے دوسرے تمام صوبوں اور علاقوں کے جو دہشت گرد وہاں سے نکالے گئے تھے انہوں نے اب صوبہ پنجاب کو محفوظ پناہ گاہ بنا لیا ہے۔ ان کو معلوم تھا کہ پنجاب کی صوبائی حکومت ان کی مخالفت میں اس حد تک نہیں جائے گی جس تک ان کے اپنے اوطانِ مالوف جا چکے تھے۔

خودکش دھماکوں کا کلچر ایسا ہے کہ یہ ایک بار شروع ہو جائے تو اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ہاں دبایا ضرور جا سکتا ہے۔ لیکن چونکہ اربابِ اختیار کلی طور پر ان کو دبانے کے حق میں نہیں۔اس لئے اس ابتلا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ممکن نہیں۔ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا منہ سے اقرار و اعلان کرنا اور بات ہے اور دل سے چاہنا اور چیز ہے۔

میرے ایک قاری نے اگلے روز پوچھا کہ انڈیا میں خودکش دھماکوں کا کلچر کیوں فروغ نہیں پا سکا، کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں مسلمان کا دشمن مسلمان ہے اور بھارت میں ہندو کا دشمن ہندو نہیں۔ میں نے اپنی سمجھ کے مطابق ان کو تفصیل سے بتایا کہ اس مظہر (Phenominon) کی وجوہات چند در چند ہیں۔ سب سے اہم اور پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں چونکہ آبادی کی اکثریت مسلمان ہے اس لئے مسلمان ہی مسلمان کا دشمن ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا عیسائی یورپ اور عیسائی امریکہ سینکڑوں برس تک آپس میں برسرپیکار رہے اور 1945ء میں اگر جوہری قوت تخلیق نہ کی جاتی تو تیسری اور چوتھی عالمی جنگیں اب تک ہو چکی ہوتیں۔ اگست 1945ء کے بعد مغرب کے کرسچین فرمانرواؤں نے جب یہ دیکھا کہ اگر دوسرے کرسچین فرمانروا کو مارا گیا تو وہ جوہری وارہیڈز کے استعمال کی طرف جا سکتا ہے تو تب جا کر ان کے دلِ بیتاب کو کچھ قرار آیا۔ پاکستان کی چونکہ غالب آبادی مسلمان ہے اس لئے خوں آشام انسانی جبلّت کو اپنا آپ ظاہر کرنے کے لئے کوئی بہانہ چاہیے۔ ہمارے ہاں یہ بہانہ بعض اوقات غربت و امارت کی صورت میں سامنے آتا ہے، کبھی شیعہ سنی جھگڑے وجہ نزاع بنتے ہیں اور بعض اوقات سماجی اونچ نیچ کشتوں کے پشتے لگا دیتی ہے۔

ہمارے برعکس بھارت میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں اگرچہ آبادی کی کثرت ہندوازم کی پیروکار ہے لیکن اسلام کی نام لیواؤں کی آبادی کا تناسب بھی کچھ کم نہیں۔ مسلمانوں کے بعد سکھ، عیسائی اور پارسی لوگ بھی کافی تعداد میں ہیں۔ ہندو مذہب کی اس اکثریت میں چونکہ کئی قابلِ لحاظ غیر ہندو اقلیتیں بھی ہیں اس لئے امن و امان کا توازن قائم رہتا ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں پاکستان میں چونکہ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی تعداد آٹے میں نمک سے بھی کم ہے اس لئے امن و امان کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس کو بگاڑنے والے بھی چونکہ اسلام کے پیروکار ہیں اس لئے کسی ظالم مسلمان کے دل میں مظلوم مسلمان کے بارے میں کوئی خوفِ خدا پیدا نہیں ہوتا۔ دھماکہ ہوتا ہے لیکن جو گروپ دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتا ہے وہ بھی اسلام کا نام لیوا اور کلمہ گو ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان میں ایک اکیلے مذہب کی اکثریت سے دہشت گردی پھوٹتی ہے اور بھارت میں ایک سے زیادہ مذاہب کی قابلِ لحاظ آبادیوں کی موجودگی کسی ایک فریق کو دوسرے کے درپئے آزاد ہونے سے روکتی ہے۔

آپ نے دیکھا ہوگا امریکہ میں کالے گورے کی تمیز مدھم کرنے کے لئے کالوں کی اقلیت کو ایسی سماجی مراعات میسر ہیں جو گوروں کی اکثریت کو کلین سویپ (Clean Sweep) کرنے نہیں دیتیں۔ حال ہی میں بارک اوباما کا دوبار صدر بن جانا، عدلیہ اور مسلح افواج میں سیاہ فاموں کا اعلیٰ مناصب پر فائز ہونا وغیرہ سیاہ فام اقلیت کو اس احساسِ محرومی سے بچاتا ہے جو شدت کا روپ دھار لیتی ہے۔ پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر تشکیل پایا تھا اس لئے ہم نے اپنے ہاں کے ’’چند‘‘ غیر مسلموں کو ایک اور طرح کے احساسِ محرومی کا شکار بنا رکھا ہے۔۔۔ اگر ایک آدھ مثال میرے اس موقف کی تردید میں پیش کی جائے گی تو میں اسے استثنا کی ذیل میں شمار کروں گا۔۔۔یہاں مسلمان کا ٹارگٹ مسلمان ہے اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کوئی ایک مسلم ریاست دوسری مسلم ریاست کو جوہری بم کا نشانہ نہیں بناتی یا کوئی غیر مسلم ریاست کسی مسلم ریاست کے خلاف جوہری حملہ نہیں کرتی۔ مغرب آج تک کسی جوہری حملے سے اس لئے بھی بچا ہوا ہے کہ اس کو معلوم ہے کہ ایسا کرنا باہمی خود کشی ہو گی۔لیکن ہم پاکستانیوں کو یہ معلوم نہیں کہ ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان کو قتل کر دیتا ہے تو وہ خواہ خود بھی اسی قتل گاہ میں مقتول ہو جاتا ہے،لیکن ایسا کرنے کے سوا اس کے پاس دوسرا چارہ نہیں رہتا۔

ذرا تاریخِ اسلام پر نظر دوڑائیں۔۔۔ خلافت راشدہ کے بعد خلافت بنوامیہّ اور پھر خلافت بنو عباس کے دور میں مسلم افواج نے اپنی مخالف غیر مسلم افواج پر جو ترک تازیاں کیں وہ تاریخ اسلام کا اہم باب شمار کی جاتی ہیں۔لیکن جب یہ ترک تازیاں بند کی گئیں تو تھوڑا ہی عرصہ ایسا گزرا جسے پُرامن اسلام کا زریں دور کہا جا سکے۔ خاندان مغلیہ میں مغلوں کا سنہری دور شاہجہان اور جہانگیر کا دور سمجھا جاتا ہے لیکن اس خاندان کے بانی ظہیر الدین بابر نے کسی غیر مسلم کو تہہ تیغ نہ کیا، بلکہ ابراہیم لودھی اور اس کے لشکر کو شکست دی جو مسلمان تھا یا جس کی اکثریت مسلمان تھی۔ بابر سے پہلے تیمور نے دہلی کے قتل عام میں بھی مسلمانوں ہی کو قتل کیا اور تیموری دور کی سب سے بڑی مہم سلطان با یزید آف ترکی کے خلاف تھی، کسی غیر مسلم کے خلاف نہیں۔ اس بحث سے قارئین کو یہ بتانا مقصود ہے تو پاکستان میں مسلمان کو مسلمان اس وقت تک مارتا رہے گا جب تک اس کی قاتل جبلت کے لئے آپ کوئی متبادل راستہ نہیں نکالتے۔

کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے قومی پیمانے پر یہ بھی سوچا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی وبا کیوں پھیلی، اس کی نفسیاتی وجوہات کیا تھیں اور اس کا علاج کیا ہے؟۔۔۔ ہم نے ایک طویل عرصے تک ’’لشکریوں‘‘ کو پالا پوسا اور برقرار رکھا اور جب ان کے ٹارگٹ ختم ہو گئے یا ان تک رسائی مشکل یا ناممکن بنا دی گئی تو ہم نے ان ’’لشکریوں‘‘ کو کسی ایسے متبادل راستے کی طرف نہ موڑا جو جدال و قتال کے کلچر کو امن و امان کے کلچر میں تبدیل کر دیتا۔۔۔ آپ کسی شکاری جانور کو شکار کرنے کی ٹریننگ دے کر دیکھ لیں۔ جب تک اس جانور کو ’’خوراک‘‘ ملتی رہے گی وہ شکار کرتا رہے گا،لیکن جب وہ خوراک ختم ہو جائے گی(یا ختم کر دی جائے گی) تو وہ شکار کی بجائے اپنے ٹرینر (Trainer) کو شکار کرنے سے باز نہیں آئے گا۔

پاکستان سے دہشت گردی ختم کرنے کا طریقہ یہ نہیں کہ آپ دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگا دیں کہ ان پابندیوں سے کچھ نہیں ہو گا۔ ان تنظیموں کے کیڈرز کو ایسے متبادل ٹارگٹ دیں کہ وہ اپنے روایتی اہداف کے حصول کے لئے اپنی سکھلائی کے طریقوں کو ایک نئی راہ پر ڈال سکیں۔مثلاً ان کالعدم تنظیموں نے اپنے ہاں برس ہا برس سے جو لوگ تیار کر رکھے ہیں،وہی آپ کا اصل ٹارگٹ ہونے چاہئیں۔ ان پر فوکس کریں، ان کی ڈائریکشن تبدیل کریں، ان کو کوئی ایسا کاروبار اور متبادل روزگار فراہم کریں جو دہشت گردی سے حاصل ہونے والے کاروبار سے اگر زیادہ پُرکشش نہ بھی ہو تو کم از کم مالی اعتبار سے اس کے برابر تو ہو!یہ دہشت گردی اب باقاعدہ ایک کاروبار بن چکا ہے۔۔۔ آب جب تک ایسا نہیں کریں گے آپ کا سدھایا ہوا عقاب آپ پر جھپٹنے اور آپ کی بوٹیاں نوچنے سے گریز نہیں کرے گا۔

ذرا تاریخ اٹھا کر دیکھیں کہ پرانے بادشاہوں نے اپنے لشکروں کو کس طرح برقرار (Maintain)رکھا۔ ان کے کمانڈر ان کو گاہے بگاہے جنگوں میں دھکیلتے رہے اور جب یہ مواقع نہ رہے تو کسی اور طاقتور نے آکر ان لشکریوں کو اپنے اندر ضم کرکے ان کو پھر پرانی روش پر ڈال دیا۔

1849ء میں انگریزوں نے سکھوں کی فوج کو شکست دی اور پنجاب پر قبضہ کر لیا۔ اس دور میں پشاور بھی پنجاب میں شامل تھا۔ لیکن جونہی انگریزوں نے فتح حاصل کرکے لاہور پر قبضہ کیا، شکست خوردہ سکھ فوج کو اضافی تنخواہ اور اضافی مراعات دے کر برٹش انڈین آرمی میں بھرتی کر لیا۔ یہی وہ سکھ فوج تھی جس نے صرف آٹھ برس بعد 1857ء میں انگریزوں کو دوبارہ تحتِ دہلی پر بٹھایا۔۔۔ اگر 1849ء میں انگریز، سکھوں کی شکست خوردہ فوج کو اپنی فوج کا حصہ نہ بناتے تو 1857ء میں ان کو انڈیا سے دیس نکالا مل جاتا۔

پاکستان میں جو تنظیمیں خودکش حملے کرواتی ہیں ان کی کچھ نہ کچھ سُن گُن ملک کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس تو ہو گی۔ کیا فیڈرل حکومت اور پاک فوج مل کر ایک ایسی کمیٹی تشکیل نہیں دے سکتی جو دہشت گرد تنظیموں سے مذاکرات کرے؟ ان کو، ان کے سہولت کاروں، ہینڈل کرنے والوں اور ماسٹر مائنڈوں سمیت ایک ایسی عسکری تنظیم میں ڈھال دے جو ان کے جذبہ ء خودکشی کو جذبہ ء زندگی (یا جذبہ ء کسبِ روزگار) میں تبدیل کر دے؟ ۔۔۔

میرے خیال میں ایسا ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کے لئے ایک انقلابی سوچ اور انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم اب تک گورنمنٹ کی رِٹ (writ) بحال کرنے کی باتیں کرتے رہے ہیں، دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے دعوے کرتے رہے ہیں، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ڈینگیں مارتے رہے ہیں، لیکن ہوا کیا ہے؟ کیا ہم اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب ہو سکے ہیں؟۔۔۔ اگر آج تک ہم دہشت گردی کے ناسور کو ختم نہیں کر سکے تو آیئے وہی سٹرٹیجی اپنائیں جو 1849ء میں انگریز نے خالصہ آرمی کے خلاف اپنائی تھی۔ اس قسم کی مثالیں تاریخ اسلام سے بھی دی جا سکتی ہیں لیکن کالم طویل ہو جائے گا۔ اس لئے ختم کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ اگر یہ سطور کسی صاحبِ اختیار کی نظر سے گزریں تو وہ کم از کم اس سکیم کو آزمانے کے لئے آغازتو کریں!۔۔۔ مجھے یقین ہے یہ سٹرٹیجی فیل نہیں ہوگی!

مزید :

کالم -