دہشت گردوں کا قلب لاہور پرحملہ، عوام کو سوگ میں مبتلا کردیا، خوفزدہ نہیں

دہشت گردوں کا قلب لاہور پرحملہ، عوام کو سوگ میں مبتلا کردیا، خوفزدہ نہیں

  

کر سکیلاہور کی ڈائری

دہشت گردوں کا مقصد خوف و ہراس پھیلاکر مخصوص فضا قائم کرنا تھا تو اس میں وہ ناکام ہو گئے ہیں لاہور فیصل چوک میں ہونے والے دھماکے میں 18معصوم جانیں گئیں اور ستر سے زیادہ افراد زخمی ہوئے اللہ کو پیارے ہونے والوں میں پولیس کے عام سپاہیوں کے ساتھ دو بڑے افسر بھی ہیں، بے گناہ افراد کی جانیں لے کر ان کو شہید کا درجہ دینے کا یہ اقدام تو ہو گیا لیکن شہریوں کو ڈرایا نہیں جاسکا، اگلے روز شہرمیں عام زندگی رواں دواں تھی اس روز سوگ کی کیفیت ضرور تھی، دکھ بھی تھا، تجارتی مراکز اور تعلیمی ادارے بھی بند تھے لیکن یہ سب دکھ اور افسوس کی وجہ سے تھا اور شہریوں نے شہیدا اور زخمیوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کے لئے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔

نئے ڈرگ ایکٹ کے خلاف ادویات ساز فیکٹریوں کے علاوہ کیمسٹ اور ڈیلرز نے بھی جدوجہد شروع کررکھی ہے، اس سلسلے میں مطالبات کئے جارہے تھے، اور اب تمام متعلقہ اداروں کے تعاون سے ہڑتال کا اعلان کیا گیا، ادویات تیار کرنے ،بیچنے اورسپلائی کرنے والے تمام اداروں نے ڈرگ ایکٹ کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا، اورکہا گیا تھا کہ اگر یہ مطالبہ نہ مانا گیا تو غیر معینہ مدت کے لئے ہڑتال کردی جائے، چنانچہ پیر(13۔ جنوری) یہی دن تھا اور کیمسٹ اور ڈرگسٹ نے متفقہ طور پر ہڑتال کردی، اور دوکانیں میڈیکل سٹور بند کردیئے گئے، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، وزارت صحت کی طرف سے بات چیت کرکے ہڑتال ختم کرانے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہو سکی اور دوکانیں، میڈیکل سٹور بند کردیئے گئے، اس کے بعد ان حضرات نے احتجاج کا راستہ اپنایا اور مظاہرے کا پروگرام بنالیا، یہ حضرات پنجاب اسمبلی کے سامنے جمع ہو کر نعرہ زنی کررہے تھے پولیس کی بھی بھاری نفری موجودتھی، پولیس کے اعلیٰ حکام بھی پر آئے ہوئے تھے، پولیس حکام نے کچھ دیر بعد کوشش کی اور شہید ڈی، آئی، جی کیپٹن (ر) احمد مبین نے مظاہرین سے مذاکرات کرکے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی،محسوس ہوا کہ بات بن جائے گی اور مظاہرین منتشر ہو جائیں گے، احمد مبین بات کرنے کے بعد ایک طرف ہوئے کہ خود کش بمبار نے ان کے اور پولیس کی نفری کے قریب خود کو اڑالیا، بہت زور دار دھماکہ ہوا، اس میں احمد مبین کے علاوہ قائمقام ڈی،آئی،جی زاہد اگرام گوندل اورپولیس ملازمین کے علاوہ شہری بھی شکار ہو گئے، دونوں افسر موقع پر ہی شہید ہو گئے تھے۔

بم دھماکہ کے بعد وہی صورت حال تھی جو ان لمحات میں ہوتی ہے، ہر کوئی خود کو بچانے کی فکر میں تھا تاہم تھوڑی دیر ہی میں زخمیوں کو منتقل کرنے کی کوشش شروع کر دی گئی اور پھر ریسکیو سروس والے بھی آگئے آخری اطلاع کے مطابق 18۔افراد نے شہادت پائی اور 70سے زیادہ زخمی ہوئے، ان میں شدید زخمی بھی شامل ہیں، یہ دہشت گردی کا ایک بڑا واقع ہے جو طویل وقفے کے بعد ہوا، اسی روز جنوبی وزیرستان میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ کیا گیا تین اہل کار شہید ہوئے اور اسی روز کوئٹہ میں بھی سٹرک کنارے پڑا بارودی مواد فیوز کرتے ہوئے پھسٹ گیا اور یہاں بھی تین اہل کار شہید ہوئے۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لئے آپریشن ضرب عضب کا میابی سے ہمکنار اور دہشت گردوں کے تمام مرکزی ٹھکانے ختم کرکے خالی کرالئے گئے ہیں ، اس سے وارداتوں میں بہت نمایاں کمی ہوئی تاہم یہ حضرات مکمل طور پر پسپانہ ہوئے اور اب انہوں نے اپنے ہونے کا ثبوت دیا ہے، وہ شہریوں کو غم سے ہمکنار تو کرگئے لیکن خوفزدہ نہیں کر سکے، البتہ یہ سوال ضرور کیا جارہا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر جو کچھ کہا جارہا تھا اس حادثے سے اس پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے کہ خود بڑے پولیس افسر شہید ہوگئے ہیں، اب کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے شہریوں کو بھی بھرپور تعاون کرنا ہوگا۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے اور پاکستانی عوام کی بیداری کے لئے تحریک آزادی کشمیر کے راہنما یسٰین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی میدان میں آگئی ہیں ، حالیہ دنوں میں انہوں نے لاہور کا دورہ کیا، روزنامہ پاکستان بھی آئیں اور بات چیت کی جبکہ تقریبات سے خطاب کیا، کشمیری اور پاکستانی سیاسی راہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں، انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کشمیریوں کی جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ عالمی ضمیر کو جگانے کی ضرورت ہے۔

لاہور میں اس خودکش حملے سے پہلے لاہور کے رکشا ڈرائیوروں کی ایک تنظیم نے بھی اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کیا، اڈہ بادامی باغ سے لاہور ریلوئے سٹیشن تک رکشوں اور موٹر سائیکل سواروں کا ایک بڑا جلوس نکالا گیا، اس کی قیادت عوامی رکشا یونین کے چیئرمین مجید غوری نے کی، ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ رکشاؤں سے پرچی کے نام پر بھتہ وصولی بند کرائی جائے، رکشا ڈرائیور یونین کے چیئرمین نے کہا کہ نہ صرف ٹریفک وارڈن ہاتھ دھو کر رکشاوالوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں بلکہ لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے اہلکار بھی رکشاوالوں کے چالان کرتے ہیں، ان کو روکا جائے دوسری صورت میں ارکان طویل جدوجہد کے لئے تیار ہیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -