37 ملکوں کی بحری مشقوں سے پاکستان کا وقار بلند ہوا

37 ملکوں کی بحری مشقوں سے پاکستان کا وقار بلند ہوا

  

کراچی(نصیر سلیمی سے)

ملک بھر کی طرح سانح�ۂ لاہور پر سندھ کے باسی بھی سوگ میں ہیں پیر کی شام نمازِ مغرب کے وقت ہونے والی دہشت گردی کے المناک اندوہناک سانحہ نے اس حقیقت کو ایک بار پھر روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیا ہے۔ ہماری قومی سلامتی اور امن کی دشمن قوتیں اپنے داخلی اور خارجی گماشتوں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست پاکستان اورپاکستانی قوم کی بے بہا جانی اور مالی قربانیوں کو ’’بے ثمر‘‘ کرنے کے لئے ایک بار پھر پوری قوت سے سرگرم اور فعال ہو گئی ہیں۔ کراچی میں تازہ ٹارگٹ کلرز کی کارروائیوں میں تیزی اور لاہور کے سانحہ کو سنجیدہ سیاسی اور صحافتی حلقے اسی پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔ لاہور میں دہشت گردی کے ذریعے محض پی ایس ایل کے میچ کے انعقاد کو روکنا ہی مقصود نہیں،بلکہ اس کے ملٹی پل مقاصد ہیں ان میں ایک مقصدپاکستان نیوی کے زیر اہتمام جاری عالمی سطح کی کثیر القومی بحری امن مشقیں 2017ء کے کھلے سمندر میں امن برقرار رکھنے کی پاکستان کی صلاحیت کے حوالے سے ابھرنے والے مثبت تاثر اور اثرات کو سبوتاز کرنا بھی ہے۔ پاکستان نیوی کے زیر اہتمام یہ چوتھی بحری امن مشقیں ہیں، جن میں دُنیا کے37ممالک کی بحری افواج حصہ لے رہی ہیں۔ ان میں امریکہ، برطانیہ، چین،روس اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کی نیوی بھی شریک ہیں اور سری لنکا جیسے ترقی پذیر ممالک کی نیوی بھی حصہ لے رہی ہے۔ ان بحری مشقوں کی اہمیت یہ ہے کہ پاکستان نیوی کی فنی مہارت اور پیشہ وارانہ قابلیت کا اعتراف دُنیا کی ترقی یافتہ نیوی کے وفود نے کیا ہے۔ پاک بحریہ کی ’’بحری امن مشقیں‘‘ غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں، ان میں شریک ممالک کی بحری افواج کی سپیشل آپریشنز فورسز نے منوڑہ کے مقام پر کھلے سمندر میں بحری دہشت گردی سے نمٹنے کے اور دیگر آپریشنز کا ایک شاندار مظاہرہ کیا۔ ان مشقوں سے بحری افواج کے وفود نے بحری امن کو برقرار رکھنے کے مختلف موضوعات پر مقالے اور مضامین پڑھے اور اپنے اپنے تجربات اور تجاویز سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

پاکستان نے بھی ان مشقوں کو ’’باثمر‘‘ بنانے کے لئے بھرپور کوشش کی، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق ر کھنے والے ماہرین کو مدعو کیا۔ ان مشقوں سے بحری اور فضائی افواج کے ماہرین کو مدعو کیا اور برّی، بحری اور فضائی افواج کے سربراہوں سمیت مشیر خارجہ جناب سرتاج عزیز اور وزیر دفاع جناب خواجہ آصف سمیت کئی دانشوروں نے بھی خطاب کیا یہ سطور شائع ہوں گی، تو ان مشقوں کے اختتامی اجلاس سے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے خطاب کی تفصیل اور کراچی میں ان کے زیر صدارت ہونے والے اہم اجلاس میں دہشت گردی کی تازہ لہر پر قابو پانے اور سندھ میں خصوصاً کراچی میں وفاق کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں کی تفصیل بھی میڈیا کے سامنے آ چکی ہوں گی، جس کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔

ان بحری مشقوں میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کو بھی مدعو کیا گیا تھا ان کا یہ دورہ اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد یہ کراچی کا پہلا دورہ تھا۔وفاقی حکومت نے صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان کے کراچی کے دورہ کے لئے کوآرڈی نیٹر مسلم لیگ (ن) سندھ کے سابق وزیر قانون سینیٹر سلیم ضیا کو مقرر کیا تھا، جنہوں نے ان کے دورے کو کامیاب بنانے کے لئے مختلف پروگرام ترتیب دیئے۔ اس میں مسلم لیگ(ن)سندھ کے دانشور سیکرٹری اطلاعات ناصر الدین محمود کا کردار بھی قابلِ ذکر ہے،جنہوں نے میڈیا سے رابطہ رکھا اور ان کی مصروفیات کی تفصیل فراہم کی۔18سال بعد سندھ کے گورنر ہاؤس میں مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں کی آمدورفت کسی دقّت کے بغیر شروع ہوئی ہے۔ سینیٹر سلیم ضیاء نے سردار مسعود خان کے ساتھ ایڈیٹرز سے چائے پر تبادلہ خیال کا اہتمام گورنر ہاؤس میں ہی کیا تھا۔ ایڈیٹرز کے ساتھ ان کی گفتگو کا دورانیہ مختصر تھا تاہم ان کی گفتگو محفل میں شریک میڈیاسے وابستہ لوگوں کے لئے نہایت مفید اور معلومات سے بھرپور رہی۔ آزاد جموں و کشمیر کو ایک طویل عرصے بعد ایسا منتخب صدر میسر آیا ہے جو خط�ۂ کشمیر کے مظلوموں کی لازوال قربانیوں اور تاریخ ساز جدوجہد کو بین الاقوامی فورمز پر اس علم الکلام کے ساتھ پیش کرنے کی اہلیت و صلاحیت رکھتا ہے، جس میں وہ بات سنتے اور سمجھتے ہیں۔ جناب سردار مسعود خان کا تعلق خود بھی کشمیر کی آزادی کی تاریخ ساز جدوجہد میں عملی حصہ لینے والے اور ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرہ کو حقیقت کا روپ دینے کی تمنا رکھنے والے خاندان سے ہے ان کا طویل سفارتی کیریئر اس کا مظہر بھی ہے وہ وزارت خارجہ میں جس منصب پر بھی رہے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کے موقف کی بھرپور ترجمانی کو اپنے فرائض منصب کا جزو لاینفک بنایا جس کی وجہ سے اہلِ کشمیر اور اہلِ پاکستان کے تمام مکتبہ ہائے فکر میں عزت و توقیر کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت نے آزاد کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ اور صدارت کے مناصب پر ایسی اہل اور باوقار شخصیات کا انتخاب کیا جن کے دامن پر مفاد پرستی کا کوئی داغ ہے نہ ہی ان کا کوئی سیاسی مخالف کشمیریوں کی تاریخ ساز جدوجہد سے بے وفائی کا الزام لگا سکتا ہے۔ اگر یہ بھی کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ صدارت کے منصب پر فائز ہو کر سردار مسعود خان نے اس باوقار منصب کی حقیقی توقیر بحال کی ہے۔انہوں نے دورۂ کراچی کے اپنے تمام پروگراموں میں اس بات کو بطور خاص ملحوظ رکھا کہ ان کا ہر لفظ اور ہر جملہ ان مظلوم کشمیریوں کے دِلوں کا ترجمان ہو، جو ستر سال سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے سامنے اپنی آزادی اور خود مختاری اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرانے کے لئے جدوجہد میں لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ وہ برہان وانی شہید کو کشمیریوں کا ہیرو قرار دینے میں کسی مصلحت کو خاطر میں لانے کے روادار ہیں نہ ہی حریت قیادت کو مقبوضہ کشمیر کی قیادت تسلیم کرنے میں کوئی تکلف کرتے ہیں۔

صدر سردار مسعود خان نے کراچی بار سے بھی خطاب کیا اور کراچی کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کو پیشکش کی کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔آزاد کشمیر کی حکومت ان کو پُرکشش مراعات فراہم کرے گی۔انہوں نے صحافیوں کو دورۂ آزاد کشمیر کی دعوت دی اور کہا کہ وہ خود آ کر دیکھیں کہ موجودہ حکومت اچھی حکمرانی قائم کرنے کی روایات کو مستحکم کرنے کے لئے عملی اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے ایک مثال پیش کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تعلیم کے شعبہ میں میرٹ کی سختی کے ساتھ پابندی کی تو مجھے کسی طرف سے دباؤ کا سامنا نہیں کرنا پڑا، آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے مجھ پر کوئی دباؤ ڈالااور نہ ہی پاکستان کے وزیراعظم یا کسی اور شخصیت کی طرف سے میرٹ پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری پر کسی نے دباؤ ڈالا اور نہ ہی کسی کی سفارش کی۔ آزاد کشمیر میں ہر شخص اور ہر ادارہ آئین کے مطابق قانونی تقاضوں اور قواعدو ضوابط کے تحت آزادانہ ماحول میں فرائض ادا کررہے ہیں، ابھی اچھی حکمرانی کی صورت مثالی تو نہیں کہی جاسکتی، تاہم خراب حکمرانی کی روایات کو جڑ سے اکھاڑنے کی ہر سطح پر کوشش سنجیدگی کے ساتھ ہو رہی ہے۔ انہوں نے آزاد کشمیر کو سی پیک میں شامل کرنے کو ایک بڑی اہم پیشرفت قرار دیا جس سے آزد کشمیر کو ایکسپریس وے کے ذریعے سفر کی تیز رفتار جدید سہولتیں حاصل ہو جائیں گی، مظفر آباد اور راولا کوٹ کے ائیر پورٹ کی توسیع زیر غور ہے ، اس وقت آزاد کشمیر 1500 میگا واٹ بجلی پیدا کررہا ہے آزاد کشمیر کی اپنی ضرورت400 میگاواٹ بجلی کی ہے۔ باقی1100 میگاواٹ بجلی آزاد کشمیر قومی گرڈ کو سپلائی کرتا ہے۔ توانائی کے دیگر مختلف منصوبوں کی تکمیل بشمول چین کی جانب سے ہائیڈل پاور منصوبوں کی تکمیل کے بعد آزاد کشمیر 8700 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے قابل ہو جائے گا۔ سردار مسعود خان نے کراچی بار سے خطاب میں بتایا کہ کشمیر کے مظلوموں نے ستر سال میں جو قربانیاں دی ہیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی، ہم دوبارہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں اٹھائیں گے، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان دونوں پاکستان کی حفاظتی دیواریں ہیں، مسئلہ کشمیر اہلِ کشمیر اور پاکستان کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ 1947ء میں مہاراجہ کے حکم پر ڈھائی لاکھ مسلمان مارے گئے۔ تیس لاکھ مسلمانوں نے پاکستان نقل مکانی کی اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ، حقِ خودارادیت کی منزل حاصل کرنے کی تاریخ ساز جدوجہد میں اب تک آٹھ لاکھ کشمیری مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ کشمیری اور پاکستانی ایک ہیں ستر سال میں بھی بھارت تمام ترجبرو استبداد کے باوجود دونوں کو الگ نہیں کر سکا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -