کماد کے کاشتکاروں کوزمین کی بہتر تیاری کیلئے ہر تین سال بعد ایک دفعہ سب سائلر ہل کے استعمال کی ہدایت

کماد کے کاشتکاروں کوزمین کی بہتر تیاری کیلئے ہر تین سال بعد ایک دفعہ سب ...

  

فیصل آباد(بیورورپورٹ )محکمہ زراعت نے کہاہے کہ کماد کے کاشتکار بہاریہ کاشت فوری شروع کرکے مارچ کے وسط تک مکمل کرلیں اور زمین کی بہتر تیاری کیلئے ہر تین سال بعد ایک دفعہ سب سائلر ہل کااستعمال بھی کریں تاکہ زمین زیادہ گہرائی تک نرم ، بھربھری اور مکمل تیار ہوجائے نیز کماد کی اچھی پیداوار کیلئے بھاری میرازمین کاانتخاب کیاجائے جس میں پانی کامناسب نکاس موجود ہوتاہم کماد کی فصل ہلکی میرا اورمیرا زمین پر بھی کاشت کی جاسکتی ہے۔محکمہ زراعت فیصل آباد کے ترجمان نے کہاکہ کماد کی فصل مونجی کے وڈھ میں اور کپاس کے بعد بھی کاشت کی جا سکتی ہے تاہم ان فصلات کی برداشت کے بعد روٹا ویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو زمین میں ملا نے کے بعد کم گہری10سے12انچ والی کھیلیوں کیلئے دو مرتبہ کراس چیزل ہل یا ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلایاجائے اور اگر زیادہ گہری کھیلیاں18انچ بنانی ہوں تو سب سائلر کا استعمال کرتے ہوئے زمین کو ہموار کرلیناچاہیے۔

انہوں نے کہاکہ کاشتکار ہموار زمین میں گہرا ہل چلا کرمناسب تیاری کے بعد سہاگہ دیں اور پھر رجر کے ذریعے 10سے 12 انچ کی گہری کھیلیاں چار فٹ کے فاصلے پر بناکر ان میں پہلے فاسفورسی اور پوٹاش کی کھادیں ڈالیں اور پھرسیاڑوں میں سموں کی دو لائنیںآٹھ سے نوانچ کے فاصلے پر اس طرح لگائیں کہ سموں کے سرے آپس میں ملے ہوئے ہوں اوراب ان کو مٹی کی ہلکی سی تہہ سے ڈھانپ دیں۔ انہوں نے کہاکہ بیج پر مٹی ڈالنے میں احتیاط کی جائے اورسہاگہ پھیرنے کی بجائے ہاتھ یا پاؤں سے مٹی ڈالیں اورہلکا پانی لگا دیں۔انہوں نے کہاکہ کماد کی اگیتی تیار ہونے والی اقسام میں سی پی ایف 243،ایچ ایس ایف240 ،ایچ ایس ایف242،سی پی 77-400، سی پی ایف 237 اوردرمیانی تیار ہونے والی اقسام میں ایس پی ایف۔245 ،ایس پی ایف۔234، ایس پی ایف 213، سی پی ایف246،سی پی ایف247جبکہ پچھیتی تیار ہونے والی قسم میں سی او جے84شامل ہیں جبکہ ٹرائیٹان ‘سی او ایل 54‘سی او 1148 ) انڈین( ‘ سی او ایل 29 ‘سی او ایل 44 ،بی ایل4-، ایل116-، ایل118، ایس پی ایف238-، بی ایف162- ممنوعہ اقسام ہیں۔

مزید :

کامرس -