سرینگر : آزادی کی تحریک میں مزید 7کشمیریوں کا خون شامل ، 5بھارتی فوجی واصل جہنم ، 12زخمی

سرینگر : آزادی کی تحریک میں مزید 7کشمیریوں کا خون شامل ، 5بھارتی فوجی واصل ...

  

 سرینگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان دو مختلف جھڑپوں میں 5اہلکار ہلاک اور 12زخمی ہوئے ہیں جبکہ بھارتی فوج نے ایک کمانڈر سمیت2مجاہدین کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے ،فورسز کی فائرنگ میں 5شہری بھی مارے گئے ہیں جبکہ وادی میں صورتحال کشیدہ ہے بھارتی فوج کے ہاتھوں 8 بے گناہ کشمیریوں کی شہادت کے خلاف مکمل ہڑتال ٗ معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے ٗ جنوبی کشمیر کے حساس علاقوں میں کرفیو نافذ ٗ مشترکہ حریت قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کال کے باعث تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز اور حساس مقامات پر پولیس اور فورسز کا کڑہ پہرہ ٗ سری نگر سمیت مختلف علاقوں میں پتھراؤ کے واقعات ٗ دو درجن سے زائد سکیورٹی اہلکار اور 20مظاہرین بھی زخمی،بھارتی فوج کا وادی کے مختلف علاقوں میں کریک ڈاؤن ٗ تین درجن سے زائد نوجوانوں کو گرفتارکرلیاگیا ٗ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہ بھی گھروں میں نظربند ہیں ۔ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں منگل کی صبح سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ایک مجاہد شہید اور 3 فوجی ہلاک جبکہ 5 فوجی ، 4 پولیس ،2 سی آر پی ایف اہلکارزخمی ہوئے ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے مارا جانے والالشکر طیبہ کا کمانڈر ہے۔ تاہم ابھی تک اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ایک مجاہد شہید اور 3 فوجی ہلاک جبکہ 5 فوجی ، 4 پولیس ،2 سی آر پی ایف اہلکارزخمی ہوئے ہیں۔غیرسرکاری اطلاعات میں بتایا گیا کہ زخمیوں میں سے تین فوجیوں کی موت ہوگئی ہے۔ بعض انڈین ٹی وی چینلز نے بھی تین فوجیوں کے ہلاک ہونے کی خبر دی ہے۔ تاہم فوجی ترجمان کرنل این این جوشی نے صرف نو فوجیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔اس سے قبل کشمیر کے جنوبی علاقے کولگام ضلعے میں جھڑپ کے دوران باھرتی کے دو فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور ایک مجاہد کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔کولگام میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 5عام شہری بھی مارے گئے ۔جس پر علاقے کے لوگوں نے شدید احتجاج کیا اور باھرتی فوج کے خلاف مظاہرے کئے۔ مظاہرین کے خلاف فورسز کی کاروائی میں 20 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق مبصرین کا کہنا ہے کہ رواں سال روایت کے برعکس فروری کے مہینے میں ہی مسلح تشدد میں اضافہ ہوا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کشمیر میں حالات پھر ایک بار کشیدہ ہوسکتے ہیں۔تاہم ایک فوجی افسر نے بتایا: 'آپ ان جھڑپوں کو حملہ سمجتھے ہیں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ شدت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن ہے۔ کولگام اور حاجن میں ہم نے خفیہ اطلاع ملنے پر شدت پسندوں کا محاصرہ کیا۔ جنوبی کشمیر میں اب بھی 30 شدت پسند سرگرم ہیں جن کے خلاف مختلف سطحوں پر آپریشن جاری ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے حالات 8 جولائی سے حزب المجاھدین کے کمانڈر برھان وانی کی ہلاکت کے بعد خراب ہوئے جس کے بعد سے اب تک 130 سے زائد کشمیری ہلاک اور ہزاروں زخمی اور گرفتار ہوئے جبکہ ہڑتال اور مظاہروں کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔دریں اثناء بھارتی فوج کے ہاتھوں 8 بے گناہ کشمیریوں کی شہادت کے خلاف حریت قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی وجہ سے کولگام سے کپوارہ تک مکمل ہڑتال رہی۔ہڑتال کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی ٹھپ ہوگئیں۔ دکان،کاروباری و تجارتی مراکز،پیٹرول پمپ ،نجی ادارے مقفل رہیں۔ ہڑتال کی وجہ سے ٹریفک کی آمدرفت بھی مسدود ہوکر رہ گئی جبکہ سرکاری دفاتر میں بھی ملازمین کی حاضری پر جزوی اثرات دیکھنے کو ملے۔ انتظامیہ نے مزاحمتی خیمے کی طرف سے ان ہلاکتوں کے خلاف دی گئی ہڑتال اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر اتوار شام سے ہی حساس علاقوں میں سیکورٹی اور پولیس کی نفری میں ا ضافہ کیا تھا جبکہ انہیں کسی بھی طرح کی ممکنہ صورتحال سے نپٹنے کی ہدایت دی گئی تھی۔کولگام اور اسکے گردونواح کے علاقوں کی صورتحال بدستور انتہائی کشیدہ بنی ہوئی ہے ۔ان علاقہ جات میں امن و قانون برقرار رکھنے کیلئے پولیس اور سیکورٹی فورسز کے ہزاروں اہلکار تعینات ہیں اور پیر کوبھی سخت پابندیوں کے باعث بیشتر آبادی گھروں میں محصور ہوکر رہ گئی۔

مزید :

علاقائی -