سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس، حکومت اور اپوزیشن اطلاعات تک رسائی کے بل پر متفق

سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس، حکومت اور اپوزیشن اطلاعات تک رسائی کے بل پر ...

  

اسلام آباد(اے این این) سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کا اطلاعات تک رسائی کے بل پر اتفاق ،بل کے تحت تین رکنی انفارمیشن کمیشن قائم کیاجائے گاجس کے ارکان کا تقرر وزیراعظم کریں گے،لاپتہ شخص کی معلومات متعلقہ ادارے دو سے تین دن میں تحریری طور پر جواب دینے کے پابند ہوں گے ، بل آئندہ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا، سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہاہے کہ کرپشن اور بنیادی انسانی حقوق کے معاملے میں قومی سلامتی کی آڑ نہیں لی جاسکے گی ۔ منگل کو سینیٹ کی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس فرحت اللہ بابر کے زیرصدارت ہوا ۔اجلاس میں سینیٹر پرویز رشید، متحدہ قومی موومنٹ کی رکن پارلیمان خوش بخت شجاعت، پاکستان تحریک انصاف کے شبلی فراز ، وزیر اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب اور دیگر شامل ہیں۔ حکومتی بل پر اپوزیشن کی تجاویز بھی شامل کی گئیں بل میں عوامی مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرہ کے فوٹیج کے حصول کی تجویز کو شامل کرنے پر اتفاق اوربل کی شقوں کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔عوامی مقامات سے سی سی ٹی وی ویڈیو کی تجویز سینیٹر شبلی فراز نے دی۔ بل کے تحت تین رکنی انفارمیشن کمیشن قائم کیاجائے گاجس کے ارکان کا تقرر وزیراعظم کریں گے، کمیشن کا ایک رکن عدلیہ، ایک بیوروکریسی اور ایک رکن سول سوسائٹی سے لیا جائے گا، جبکہ کمیشن کے تمام ارکان 65 سال سے کم عمر کے ہوں گے۔ کمیشن ارکان کو ہٹانے کا اختیار قومی اسمبلی و سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے پاس ہوگا. مجوزہ مسودے کے مطابق رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن کا ریکارڈ جان بوجھ کر ضائع کرنے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کا رروائی کی جاسکے گی، جبکہ وہ تمام ریکارڈ جو 20 سال سے زیادہ پرانا ہوگا، اس پر کمیشن کے قانون کا اطلاق نہیں ہوگا، مگر یہ ریکارڈ بہر صورت منظر عام پر آئے گا۔ مسودے میں کہا گیا کہ کمیشن کسی بھی لاپتہ شخص سے متعلق معلومات کی درخواست پر 3 دن میں تحریری طور پر معلومات فراہم کرنے کا پابند ہوگا۔ وزیرمملکت اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہاکہ قومی سلامتی ،نیشنل انٹرسٹ اور فارن ریلیشن سے متعلق قومی مفاد سے متعلق حساس معلومات کو عام نہیں کیاجاسکے گا،اگر کوئی کمرشل ونیچر ہے جس سے قومی مفاد کو خدشات لاحق نہ ہوں اس کو عام کیا جاسکے گا بل کو پارلیمنٹ کے آئندہ سیشن میں منظوری کیلئے پیش کیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن کمیشن کا ایک رکن عدلیہ ایک بیوروکریسی اور ایک سول سوسائٹی سے لیا جائیگا۔ کمیشن کے کسی رکن کی عمر 65 سال سے زائد نہیں ہوگی .کمیشن کے ممبران کو ہٹانے کا اختیار قومی اسمبلی اور سینٹ کی قائمہ کمیٹیوں کے پاس ہوگا۔انفارمیشن کمیشن کے ممبران کی تقرری اور اختیارات اور جان بوجھ کر ریکارڈ کو ضائع کرنے کے حوالے تعزیراتی کاروائی ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کا20سال پرانا ریکارڈ بہر صورت منظر عام پر آئے گا،بل کے تحت کسی بھی ادارے میں بدعنوانی اور قواعد کی خلاف ورزی بارے اس ادارے سے وابستہ کوئی بھی شخص نشاندہی کرسکے گا اورنشاندہی کرنے والے شخص کو قانونی تحفظ حاصل ہوگا اور اس کے خلاف قانونی کاروائی نہیں ہوسکے گی ۔ چیئرمین سلیکٹ کمیٹی رائٹ ٹو انفارمیشن بل فرحت اللہ بابر نے کہاکہ اس بل سے عام آدمی کو معلومات تک زیادہ سے زیادہ رسائی حاصل ہوگی جس معلومات کو استثنیٰ ہوگا اس کے حصول کے لئے اپیل کی جاسکے گی اوراپیل کرنے کافورم ایسا ہوجو حکومت سے آزاد ہو۔ انہوں نے کہاکہ کسی شخص کو اگر سیکورٹی ادارے اٹھا کر لے جائیں اور مار دیا تو اسے نیشنل سیکورٹی کا تقاضا نہیں کہا جائے گا اورلاپتہ افراد سے متعلق یہ قانون بڑا ہی معاون ثابت ہوگا۔

مزید :

صفحہ آخر -